وزیراعظم کا حالیہ بیرونی دورہ!
28 ستمبر 2019 2019-09-28

ہمارا خیال تھا وزیراعظم عمران خان صرف غیرضروری بیرونی دوروں کا اچھا نہیں سمجھتے، وہ اقتدار میں آئے تو جہاں اُن کی شخصیت اور کردار کے حوالے سے بہت سے راز کُھلے، ایک راز یہ بھی ہم پر آشکار ہوا وہ صرف غیرضروری نہیں ضروری بیرونی دوروں کو بھی اچھا نہیں سمجھتے، اُن کا بس چلے تو وہ بنی گالہ سے باہر ہی نہ نکلیں کیونکہ بنی گالہ جیسے آرام اور سہولتیں دنیا میں شاید اُنہیں کہیں میسر نہ ہوں، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اُنہیں دنیا کے مختلف ممالک کے دورے کرکے دنیا کو اپنا ”ہم نوا“ بنانا چاہیے تھا، مگر وہ ملک میں رہ کر بیان و ٹوئیٹر بازیاں کرتے رہے جس کا نہ صرف ہندوستان نے بلکہ دنیا نے بھی کوئی خاص اثر قبول نہ کیا، بلکہ اس سے اِس تاثر کو مزید تقویت مِلی پاکستان مقبوضہ کشمیر پر بھارتی دہشت گردی پر دانستہ طورپر خاموش ہے یا دانستہ طورپر وہ مضبوط کردار ادانہیں کر پارہا جو اُسے کرنا چاہیے، جو کشمیریوں کا حق بنتا ہے، وزیراعظم عمران خان بیرونی دوروں سے کئی سفارتی کامیابیاں حاصل کرسکتے تھے، اللہ نے ایک عالمی سطح کی شہرت اُنہیں وزیراعظم بننے سے پہلے ہی عطا فرما رکھی ہے، وہ وزیراعظم پاکستان نہ بھی ہوتے دنیا کے لیے کشمیر پر اُن کی جدوجہد اور جذبات کو رد کرنا اتنا آسان نہیں تھا، گو کہ اب اپنے دورہ امریکہ میں وہ اس حوالے سے بہت مو¿ثر کردار ادا کررہے ہیں، یہ کردار اِس سے قبل کسی حکمران نے اتنی مضبوطی سے ادا نہیں کیا لیکن جو نقصان ہوچکا ہے اُس کا ازالہ شاید ممکن نہیں رہا، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مضبوط اور مدلل مو¿قف کو دنیا میں اتنی پذیرائی نہیں ملی جتنی انڈیا کے کمزور اور بزدلانہ مو¿قف کو ملی ہے، .... ہماری وفاقی کابینہ میں صرف ایک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تھے جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا وہ ایک سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں، سفارتی معاملات میں بڑے تجربہ کار ہیں، افسوس مقبوضہ کشمیر پر حالیہ بھارتی دہشت گردی پر بطور وزیر خارجہ اُن کی پرفارمنس بھی کمزور ہی رہی، سوائے ایک آدھ بیرونی دورے کے وہ بھی کہیں نہیں گئے، ہوسکتا ہے انہیں کہیں جانے کی اجازت ہی نہ ملی ہو، جو بھی ہے گزشتہ کچھ عرصے سے کشمیر پر ہمارا جو کردار رہا ہے اُس سے یوں محسوس ہورہا تھا ہمیں صرف ”ڈرامے“ کرنے کی اجازت مِلی ہے، بلکہ اس کمزور کردار کے باعث کچھ لوگ یہ توقع کرنے لگ گئے تھے کہیں عین موقع پر ہمارے محترم وزیراعظم اپنا دورہ امریکہ اور یواین میں اپنا خطاب ملتوی ہی نہ کردیں، یا نعیم الحق کو نہ کہہ دیں تم جاکر یواین میں پاکستان کی نمائندگی کرو اور دنیا کو بتانے کی کوشش کرو ”ہندوستان کشمیریوں پر کتنے ستم ڈھا رہا ہے “۔شکرہے وزیراعظم خود امریکہ چلے گئے اور اب وہاں وہ جس طرح کھل کر کشمیر اور اسلام کے مختلف پہلوﺅں سے دنیا کو آگاہ اور قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ ایک سچا مسلمان اور پاکستانی ہی کرسکتا ہے۔ ماضی میں مصلحتوں سے لبریز پاکستانی حکمران اِس طرح کا دلیرانہ کردار ادا کرنے سے قاصر رہے ہیں، سوائے ایک ذوالفقار علی بھٹو کے جس کے عالمی قد کاٹھ کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے، امریکہ جانے سے پہلے وزیراعظم عمران خان سعودی عرب بھی گئے، جہاں حسب معمول اُن کا پُرتپاک استقبال کیا گیا، وہاں سعودی حکمرانوں سے اُن کی ملاقاتیں بھی ہوئیں، اُنہوں نے عمرہ کی سعادت بھی حاصل کی، اُن کے لیے بیت اللہ کے دروازے بھی کھول دیئے گئے، میرے دل میں کبھی حکمران بننے کی خواہش یا حسرت پیدا نہیں ہوئی سوائے اِس کے میں سوچتا ہوں میں حکمران ہوتا شاید میرے لیے بھی بیت اللہ کا دروازہ کھول دیا جاتا، اصل بات اِس اعزاز سے فائدہ اُٹھانے کی ہے، کوئی حکمران یہ اعزاز حاصل کرنے کے بعد بھی اپنے اعمال درست نہ کرے یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہوتی ہے، ....سعودی عرب کے دورے میں ایک اعزاز ہمارے محترم وزیراعظم عمران خان کو سعودی حکمرانوں کی طرف سے یہ بھی مِلا اُنہیں جب پتہ چلا وزیراعظم پاکستان عام فلائیٹ سے امریکہ جارہے ہیں اُنہوں نے وزیراعظم کے لیے خصوصی طیارے کا بندوبست کردیا جو اُنہیں امریکہ لے کر گیا، ممکن ہے ”سفارتی آداب“ کے کچھ تقاضے ہوں جن کے مطابق سعودی حکمرانوں کی یہ آفر ٹھکرانا یااس پر معذرت وغیرہ کرنا حلال نہ ہو، مگر ہمارے محترم سادگی پسند وزیراعظم سعودی حکام کو اس پر قائل

کرلیتے وہ حسب پروگرام عام فلائیٹ سے ہی امریکہ جائیں گے تو یہ عمل نہ صرف ذاتی طورپر اُن کے لیے پاکستان کے لیے بھی عزت مندانہ ہوتا، .... خیر جتنی سعودی حکام نے ہمارے محترم وزیراعظم کی عزت افزائی کی اُس کے نتیجے میں ہم اِس یقین میں مبتلا ہو گئے تھے وزیراعظم عمران خان نے سعودی حکام کو یقیناً قائل کرلیا ہوگا وہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے ہم نوا بنیں۔ افسوس ایسا نہیں ہوسکا، البتہ سعودی حکام نے بطور پاکستانی مجھے اتنا خوش یا راضی ضرور کردیا کہ انہوں نے میرے وزیراعظم کو امریکہ جانے کے لیے خصوصی طیارہ فراہم کیا۔ اصل میں سعودی حکام کو اپنے مفادات عزیز ہیں جن کے مطابق اُنہوں نے ہندوستان کے حق میں ووٹ دیا، پاکستان کے مفادات کا زیادہ سے زیادہ وہ اتنا ہی خیال کرسکتے ہیں بوقت ضرورت ہمیں امداد وغیرہ فراہم کردیں، ہمارے حکمرانوں کے لیے بیت اللہ کے دروازے کھول دیں، اُنہیں اچھے کھانے شانے کھلادیں، یا اُنہیں امریکہ وغیرہ جانے کے لیے خصوصی طیارے وغیرہ فراہم کردیں، ہم تو منتظر تھے شاہ محمود قریشی یا فردوس عاشق اعوان ٹائپ کوئی وزیر مشیر پریس کانفرنس کرے کہ ہماری سفارتی کامیابیوں کا اِس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب نے ہمارے وزیراعظم کو امریکہ جانے کے لیے خصوصی طیارہ پیش کیا ہے جو ہمارے وزیراعظم نے امریکہ پہنچنے کے بعد واپس بھجوادیا ہے جبکہ” نواز شریف یا زرداری جیسا کوئی وزیراعظم ہوتا طیارہ واپس بھیجنے کے بجائے فروخت کردیتے“۔.... بہرحال رواں دورہ امریکہ میں وزیراعظم عمران خان نے مختلف حوالوں سے اور مختلف فورمز پر جس انداز میں مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی، اس حوالے سے جو بھاگ دوڑ کرتے ہوئے وہ دیکھائی دیئے وہ یقیناً لائق تحسین ہے، خصوصاً دنیا کے سامنے جس مدلل انداز میں اسلام کا چہرہ اُنہوں نے پیش کیا اُس پر پورے عالم اسلام کو اُن کا شکرگزار ہونا چاہیے، اس سے نہ صرف ذاتی طورپر وزیراعظم عمران خان بلکہ پاکستان کے قدکاٹھ میں بھی اضافہ ہوا ہے، بڑی مدت کے بعد پاکستان کو ایسا وزیراعظم ملا ہے عالمی دنیا جسے قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، اُس کی ایمانداری اور نیک نیتی کی بھی قائل ہے، وزیراعظم کے لب ولہجے میں بلاکا اعتماد تھا، ہماری دعا ہے عالمی سطح کی کچھ کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد وہ وطن واپس آئیں تو کچھ کامیابیاں ملکی وعوامی سطح پر بھی حاصل کرلیں جس کی ابتداءنکمے وزیراعلیٰ پنجاب بزدار کو اُس کے عہدے سے ہٹانے سے بھی ہوسکتی ہے !!


ای پیپر