سندھ کی زراعت تباہی کا شکار
28 ستمبر 2018 2018-09-28

سندھی میڈیا میں ڈیموں کی تعمیر، غیر ملکیوں کو قومی شناختی کارڈ کا اجراء کا اعلان، پانی کی قلت، بجٹ، اور تحریک انصاف حکومت کے فیصلے مجموعی طور پر موضوع بحث ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کے معاملات پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے کے تمام نجی تعلیمی اداروں میں سندھی مضمون کو لازمی پڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے تجربہ کار اساتذہ مقرر کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی ان ہدایات کے بعد ڈائریکٹرجنرل پرائیویٹ اسکولز نے خط لکھ کر نجی اسکولوں کی انتظامیہ کو صوبائی وزیرا ور سیکریٹری کی ہدایات سے آگاہ کردیا ہے کہ ان ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ دنیا میں ہر قوم کو اپنی زبان اور ثقافت سے لگاؤ ہونا فطری عمل ہے۔ اسی طرح سے سندھ کے لوگ بھی اپنی زبان سے محبت رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی زبان ترقی کرے۔ جب بھی ان کی زبان پر وار ہوا ہے اس کی وارث قوم نے ہر فورم پر اس کی مذمت اور مخالفت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کے بعد سندھی زبان نے اپنے تحفظ اور بقا کے لئے کئی مشکلات برداشت کی ہیں۔ جس کے سندھی زبان پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ قیام پاکستان سے تقریباً ایک سو سال پہلے تک سندھی زبان سندھ کے اسکولوں، کالجوں میں لازمی پڑھائی جاتی تھی اور سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں استعمال کی جاتی تھی۔ بدقسمتی سے سندھی کے ساتھ تعصب رکھنے والے بعض حلقوں نے خاص طور پر ون یونٹ کے قیام کے بعد سندھی بطور دفتری زبان کی حیثیت ختم کردی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ سندھی زبان کی حیثیت اور اہمیت کے پیش نظر اس کی ترقی اور فروغ کے لئے اقدامات کئے جاتے لیکن فیصلے اس کے برعکس ہوتے رہے۔ سندھی زبان اور اس کے بولنے والوں سے ناانصافی کی گئی۔ ماضی کے حکمرانوں کے غلط اور متعصبانہ فیصلوں کا خمیازہ سندھ کے لوگ ابھی تک بھگت رہے ہیں۔

سندھی زبان کویہ اعزار حاصل ہے کہ یہ اس خطے میں قدیم بولی اور لکھی جانے والی زبان ہے۔ تاریخ کے اوراق بھی اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ جب انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کیا ، اس وقت سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان سندھی تھی۔ اس حقیقت نے انگریزوں کو مجبور کیا کہ سندھی کو سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کریں اور رائج کریں۔ اس مقصد کے لئے نہ صرف سندھی پڑھنے اور لکھنے کے لئے درسگاہیں قائم کی گئیں بلکہ سندھ میں تعینات انگریز افسران کے لئے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ سندھی سیکھیں لیکن انگریزوں کے جانے کے بعد حکمرانوں نے سندھی کی حیثیت بھلا دی۔ 

ماضی میں کئی مرتبہ تمام نجی اسکولوں میں سندھی لازمی طور پر پڑھانے کے حکمنامے جاری ہوتے رہے، لیکن نجی اسکولوں کی مافیا اتنی مضبوط ہے کہ ان حکمناموں پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا۔ اب ایک بار پھر وزیرتعلیم سید سردار علی شاہ نے سندھی کو بطور لازمی مضمون پڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر ہم وزیر موصوف کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہیں گے کہ کراچی میں جو بچے اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں انہیں سندھ زبان کے الف بے کا بھی پتہ نہیں۔ اس صورت میں یہ کیسے ممکن ہوگا کہ اس میٹروپولیٹن شہر میں جہاں ہزارہا نجی اسکول موجود ہیں جو کہ سندھی لازمی پڑھانے سے منکر ہیں۔ یہ وزیر تعلیم کے لئے بہت بڑا چیلینج ہے۔ جس کے لئے ایک جامع حکمت عملی بنانی پڑے گی۔ 

وزیر تعلیم کا یہ احسن فیصلہ ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں اور مشورہ دیتے ہین کہ کراچی سے لیکر کشمور تک سندھی زبان لازمی طور پر پڑھانے کو یقینی بنانے کے لئے متحرک کمیٹیاں تشکیل دی جائیں ، جو مختلف وقت پر معائنہ کر کے بتائیں کہ محکمہ تعلیم کی ان ہدیات پر کتنا موثر انداز میں عمل درآمد کیا جارہا ہے؟ 

سندھ کی زراعت کو بچانے کے لئے چند تجاویز کے عنوان سے روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ گزشتہ چند عشروں سے سندھ کی زراعت بحران کی لپیٹ میں ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بحران سے نمٹنے کے لئے موثر انداز میں نمٹنے کا بحران بھی شدید شکل میں موجود ہے۔ پانی کی قلت سندھ میں زراعت کی تباہی کا واحد سبب نہیں۔ بلکہ جو پانی ملتا ہے، اس کی بہتر ریگیولیشن نہ ہونا، پانی کی چوری، آبپاشی افسران کی جانب سے پانی کی فروخت، نقلی بیج، کھاد، جراثیم کش ادویات، زراعت کا موسمیاتی تبدیلیوں اور بدلتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ نہ ہونا، محکمہ زراعت حکومت کی ترجیح نہ ہونا، کاشتکاروں کو پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملنا، منصوبے کے تحت صوبے میں گنے کے بیلٹ کی تباہی ، عوام کے پیسے پر بوجھ بنے ہوئے کرپشن اور غیر فعال تحقیقی ادارے، سمیت متعدد عناصر ہیں جو مل کر سندھ کی زراعت کو تباہ کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ زراعت کی اصلاح نہ کرنے کے نتیجے میں غربت اور پسماندگی نے صوبے کو اپنی آماجگاہ بنا لیا ہے۔ سندھ کا زمیندار طبقہ اقتدار میں شراکت کے ذریعے اپنا حصہ وصول کر لیتا ہے۔ لیکن چھوٹے کاشتکار اور کسان کے جینے کا ذریعہ زراعت ہی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں زرعی پالیسی کا اعلان کیا گیا، اس پالیسی میں بھی کئی نقائص اور جھول تھے۔ جن کو درست کر کے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس ضمن میں نہ گزشتہ حکومت نے کوشش کی اور نہ موجودہ حکومت کچھ کرنے کے لئے سنجیدہ ہے۔ 

سندھ میں زرعی تحقیق کے لئے قائم متعدد اداروں کی غیر فعالیت اور تباہی خود تحقیق طلب موضوع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیق کو عام کرنے کے لئے زرعی توسیع کا ادارہ وجود رکھتا ہے۔ اس کی کارکردگی کا اندازہ لگانے کے لیے مائیکرواسکوپ کی ضرورت پڑے گی۔ زرعی انجنیئرنگ کا ادارہ بھی صرف کاغذوں پر موجود ہے۔ یہ ادارے کرپشن کی لپیٹ میں ہونے کی وجہ سے بھی سندھ کے عوام کے لئے بے مقصد بن گئے ہیں۔ صوبے میں پنگریو ، سکرنڈ، سیٹھارجا، اڈیرولال، ڈیٹ فارم کوٹ ڈیجی، رائیس فارم ڈوکری، سمیت متعدد سیڈ فارم موجود جن پر اب ناجائز قبضے ہو چکے ہیں۔ ان سے یہ قبضے ختم کراکر عوام کے لئے بامقصد بنانے کی ضرورت ہے۔ 

زراعت کی تباہی کی ایک وجہ نقلی بیج، کھاد اور جراثیم کش ادویات بھی ہیں۔ نقلی بیج کمپنیاں پیسوں سے رجسٹر ہو جاتی ہیں۔ ان پر کوئی نگرانی کرنے والا موجود نہیں۔ سندھ سیڈ کارپوریشن غیر فعال ہے۔ دنیا میں زرعی ادارے اپنی زراعت کو موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن ہمارے اداروں کو کوئی پرواہ ہی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ کی زراعت کو نمائشی اقدامات کے بجائے جدید سائنسی طریقے اختیار کرتے ہوئے حقیقی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 


ای پیپر