چین کے تعاون سے خوشحالی کا عظیم سفر 
28 ستمبر 2018 2018-09-28

یہ صرف تین برس پہلے کی بات ہے کہ 2015ء میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں میں گوادر پورٹ کو مغربی چین کے ساتھ ملانے کیلئے سڑکوں اور ریلوے لائنوں کے 2000 میل کے جال بچھائے جانے کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 2005ء میں چین کے وزیراعظم نے گوادر پورٹ کا افتتاح کیا تھا لیکن 2007ء میں گوادر پورٹ کے انتظامی حقوق چین کے بجائے سنگاپور کی کمپنی کو دے دیئے گئے جو 6 سال تک پورٹ کو فعال نہیں کرسکی اور بالآخر گوادر پورٹ کے انتظامی حقوق 40 سال کیلئے دوبارہ چین کو دیئے گئے ہیں۔ چین سنکیانگ اور مغربی صوبوں میں گوادر کے راستے تیل کی پائپ لائن بچھانا چاہتا ہے جو خلیج فارس اور ایران سے تیل اور گیس کی درآمد کیلئے آئیڈیل ٹرانزٹ راہداری ہے ۔ چین وہ واحد ملک ہے جس نے پاکستان کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی فراہم کی۔ 700 میگاواٹ کے چشمہ I اور چشمہ II کامیابی سے پاکستان میں بجلی پیدا کررہے ہیں اور اب چین نے اضافی 700 میگاواٹ کے چشمہ III اور چشمہ IV منصوبوں کیلئے معاہدے کئے ہیں۔یہ ایک کھلا راز ہے اور تجزیہ کار اس کی تحسین کر رہے ہیں کہ ’ چین مستقبل میں دنیا کی معیشت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا تخمینہ ہے کہ پاک چین باہمی تجارت کے حجم میں چین کا پلڑا بھاری ہے اور آئندہ تین برسوں میں باہمی تجارت کا حجم 20 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا، عوامی خواہش ہے کہ جس طرح گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کی درآمدات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، آئندہ تین برسوں میں پاکستان کی برآمدات برائے چین کے لیے بھی کئی گنا اضافہ ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کی مقامی صنعتوں کو فروغ مل سکے اور پاکستانی تاجر نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔یہ امر حوصلہ افزاء ہے کہ عسکری قیادت برملا اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی طرف میلی آنکھ برداشت نہیں کی جائے گی۔ 18اگست 2018ء کے بعد قائم ہونے والی پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں بھی سیاسی قیادت سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی اس منصوبے کے خلاف چھیڑی گئی سرد جنگ کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہے تاکہ پاکستان اس منصوبے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی معاشی تقدیر بدل سکے۔

یہاں اس بات کا ذکر کردینے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے 31دسمبر 2015 ء کو پاکستان چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر ژوب مغل کوٹ این ۔50سیکشن کی اپ گریڈیشن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا اور درست کہا تھا کہ’’ژوب تامغل کوٹ سیکشن پاک چائنااقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کا اہم جزو ہے، منصوبے کی تکمیل سے غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہوگا، انشاء اللہ بلوچستان سے خوشحالی شروع ہوگی،مغربی روٹ کے دیگر حصے گوادر سے ہوشاب تک194کلومیٹر روڈ آئندہ ماہ مکمل ہوگی جبکہ قلات، کوئٹہ ،چمن شاہراہیں اپریل میں مکمل ہوں گی، ژوب جنڈولہ روڈ کی فیزیبلٹی پر 

کام جاری ہے، بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلے یہاں کے عوام کا حق ہے، گوادر میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنے گا اور اسے نہ صرف ملک بلکہ خطے اور وسطی ایشیائی ملک سے منسلک کیا جائے گا، اقتصادی راہداری منصوبہ پورے خطہ کے لیے تجارت اور کاروباری مواقع فراہم کرے گا‘‘۔ چین کے صدر نے پاکستان سے روانگی کے وقت یہ واضح کردیا تھا کہ ’’ ان منصوبوں کی تکمیل کیلئے حکومت کو ان علاقوں میں امن و امان کی صورت حال یقینی بنانا ہوگی اور مجھے خوشی ہے کہ ان منصوبوں پر بلاتعطل عملدرآمد کیلئے حکومت نے آرمی کے میجر جنرل کی سربراہی میں 5 ہزار ایس ایس جی کمانڈوز پر مشتمل خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنائے گی‘‘۔ اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیاجانا چاہیے کہ اقتصادی راہداری سے 3 ارب افراد کو فائدہ ہوگا۔

یہ عمدہ اور حوصلہ افزاء بات ہے کہ موجودہ دور میں بھی تمام سیاسی قیادت ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے یکسو ہے اور سب مل کر یہ ذمہ داری انجام دے رہے ہیں، سب کو دلچسپی ہے کہ یہ علاقے ترقی کریں جب ملک کی تمام محب وطن قیادت ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے اکٹھی ہو تو ترقی کی راہ میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا ۔ یہ ایک جانی پہنچانی صداقت ہے کہ چین کی معاشی پالیسی کے 4 اہداف ہیں جن میں ایشیا پیسفک اور یورپ سے رابطے میں اضافہ، ون بیلٹ ون روڈ کا قیام، آزادانہ تجارت کا فروغ اور عوام کے باہمی رابطے شامل ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستان ان چاروں اہداف پر پورا اترتا ہے جس کی وجہ سے چین نے پاکستان میں دوسرے ممالک کی بہ نسبت سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔یہ امرپیش نظر رہے کہ20 اپریل 2015ء کو چینی صدر شی چن پنگ کے دورۂ پاکستان کے دوران، مختلف شعبوں میں مفاہمت کی 51 یادداشتوں پر مشتمل چین اور پاکستان کے درمیان منصوبوں پر دستخط کئے تھے۔ بتایا گیا تھا کہ ان منصوبوں کی لاگت 45.6 ارب ڈالر ہے، اس سے پوری دنیا میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر ہو رہا ہے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں 33.8 ارب ڈالر کے توانائی کے مختلف منصوبے اور11.8 ارب ڈالر کے انفراسٹرکچر کے منصوبے شامل ہیں۔ اس باب میں دو رائیں نہیں ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے تکمیل کے بعد نہ صرف دونوں ممالک کی اقتصادی خوشحالی کی ضمانت ثابت ہوں گے بلکہ بہتر جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستان خطے میں مضبوط معاشی طاقت کی حیثیت سے ابھرے گا۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اقتصادی راہداری کا فائدہ صرف پاکستان اور چین کو نہیں بلکہ پورے خطے کو ہوگا۔ سی پیک پاک چین سدا بہار، لازوال اور مستحکم دوستی کا مظہر ہے کہ چین نے کسی اور ملک کے بجائے پاکستان میں سرمایہ کاری کوترجیح دی۔ یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں۔۔۔تھما نہیں۔ سی پیک منصوبہ قومی منصوبہ ہے اس میں تمام علاقے اور صوبے شامل ہیں، اس کے نتیجہ میں تمام صوبوں میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔پا ک چین اقتصادی راہداری پر تمام خدشات و تحفظات دور کر کے قومی سیاسی قیادت کا اتفاق رائے ہے۔ یہ اتفاق رائے ان شا ء اللہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نئے عظیم سفر کی کامیابی کا راستہ کھول دے گا۔

موجودہ حکومت کے برسر قتدار آنے کے مشیر تجارت کے ایک منتازع بیان کے باوجو بھی پاک چین دوستی سیاسی اصحاب اقتدار کے بجائے ریاست پاکستان کے ساتھ ہے۔ بعد میں انہوں نے اپنے بیان کی تردید بھی کردی تھی۔ اسی ضمن میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے24ستمبر کو پاک چین اقتصادتی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دوٹرک الفاظ میں کہا تھا کہ’ملک ترقی نہیں کرتے خطے ترقی کرتے ہیں، سی پیک سے اقتصادی ترقی آئے گی، پاکستان دو بڑی منڈیوں کے درمیان میں ہے ایک طرف بھارت دوسری طرف روسی ریاستیں اور چین ہے‘‘۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے حالیہ دنوں میں چینی سفیر سے ملاقات کی ۔ دوران ملاقات انہوں نے کہا کہ ’ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے اور سی پیک نے دونوں ممالک کے باہم برادرانہ تعلقات کو سرمایہ کاری میں تبدیل کر دیا ہے جو دونوں ممالک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ، چین نے ہمیشہ ہر مشکل کی گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اوردونوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت کے مابین بین الاقوامی امور پر نقطہ نظر میں مماثلت پائی جا تی ہے۔ چین کی ترقی پاکستان کیلئے رول ماڈل ہے۔ نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے چین کے تجربات سے بھر پور فائدہ اٹھا یا جائے گا،تحریک انصاف کی وڑنری قیادت سی پیک کے منصوبہ کی اہمیت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ سی پیک میں سعودی سرمایہ کاری کے ذریعہ اس منصوبہ کو نئی جہتیں دی جا رہی ہیں جس سے عظیم منصوبہ کی افادیت میں اضافہ ہوا ہے اور مستقبل میں یہ منصوبہ مزید استحکام کے ساتھ تکمیل کی منازل طے کرے گا، پاکستان اور چین کی تاریخی دوستی مزید مستحکم ہو گی،پنجاب میں چین کے تعاون کو نئی جہتیں دی جائیں گی اور زراعت کے فروغ، غربت کے خاتمہ، جنوبی پنجاب کے نظر انداز علاقوں میں ترقی کا عمل شروع کرنے اور صاف پانی کی فراہمی کے منصوبو ں میں چین نے پنجاب کی صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، نئے پاکستان کے پنجاب میں تمام شعبوں میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کو تحفظ اور تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، عمران خان کے ویژن کے مطابق نئے پاکستان میں امداد کی بجائے سرمایہ کاری پر مکمل توجہ دی جارہی ہے‘‘۔ عثمان بزدار نے چینی سفیر کو ڈی جی خان کی روایتی چھڑی کا تحفہ پیش کیا۔۔۔ ادھر ا یشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے26اپریل 2018ء کو پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے دیگر ممالک کے وسائل استعمال کرے۔اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کے پاس وقت ہے اور اخراجات میں کمی کرنے کی کوشش جاری ہے،اے ڈی بی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’4.8 فیصد کی کامیاب گروتھ کا تعلق فنانس کے حصول میں کامیابی، سکیورٹی میں بہتری، توانائی کی مناسب ترسیل سمیت پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں مسلسل سرمایہ کاری سے ممکن ہے‘۔


ای پیپر