احمد عدنان طارق ؔ کی منطق ۔۔۔ ایک ٹانگ والا مرغا۔۔۔؟؟
28 ستمبر 2018 2018-09-28

ایک بادشاہ کے محل میں ایک ٹانگ والا مرغا تھا۔ جس کی صرف ایک ٹانگ ۔۔۔ ہی نہیں آنکھ بھی ایک تھی۔۔۔

بادشاہ کو اس مرغے سے بہت محبت تھی ۔ کیونکہ بادشاہ کی خود بھی ایک آنکھ اور ایک ٹانگ تھی۔۔۔ شاید اُن کی شخصیت میں یہ مماثلت ہی اِن کے اس نرم رویہ کا سبب تھی ۔۔۔

ایک دن صبح سویرے ۔۔۔ ایک ٹانگ والے مرغے نے اپنے ڈیجیٹل کیمرے سے بادشاہ کی تصویر اتارنا چاہی۔۔۔ تو بادشاہ کو یکدم شدید غصہ آ گیا۔۔۔ اور اُس نے ایک ہاتھ سے موبائل پکڑے مُرغے سے اُس کا کیمرہ چھین لیا۔۔۔ اور فیس بُک سے اس کا نام بھی دوستوں کی فہرست سے Delete کر دیا ۔۔۔

میں نے یہاں تک یہ کہانی پڑھی۔۔۔ تو میری ہنستے ہنستے چیخیں نکل گئیں! ۔۔۔

آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟!۔۔۔

آپ کو اِس کہانی کے نہایت خوبصورت آغاز پر یقیناًہنسی آ گئی ہو گی۔۔۔ کیونکہ میں آج کے کچھ رسائل میں چھپنے والی ایسی نہایت دلچسپ کہانیاں شروع کرتے ہی ہنس پڑتا ہوں۔۔۔ کیونکہ بہت سے لکھاری ۔۔۔ آج کمپیوٹر کی موجودگی اور انٹر نیٹ کی سہولت کے باوجود بضد ہیں کہ وہ بچوں کے لیے ایسی ہی کہانیاں لکھیں گے۔۔۔ اور اُنہیں مجبور بھی کر دیں گے کہ وہ یہ تحریر ضرور پڑھیں۔۔۔ یا پھر پانچ پھولوں کے برابر وزن والی شہزادی کا قصہ یا پھر اُس دیو کی کہانی جو جب چلتا تھا تو تیز آندھی آ جاتی تھی لیکن اُس دیو کی جان دور پہاڑ پر رکھے پنجرے میں بند طوطے میں تھی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

میں نے بھی آج سے تیس سال پہلے بچوں کے لیے ایسی ہی دو کہانیاں لکھ ڈالیں جس پر بہت سے خطوط ( تعریفی) اگلے شمارہ میں چھپے مگر میرے والد محترم نے مجھے ان دو کہانیاں لکھنے پر خوب ڈانٹا۔۔۔ یہاں تک کہ میں خود بھی آج تک اپنی ان دو تحریروں پر شرمندہ ہی نہیں۔۔۔ پریشان بھی ہوں۔۔۔ ’’ کہ میں نے یہ کیا لکھ ڈالا؟‘‘ ۔۔۔

کل کو میں نئی نسل کو بھلا۔۔۔ اپنی اِن تحریروں کے حوالے سے کیا جواب دونگا؟!۔ آپ کو یقیناًاندازہ ہو گیا ہوگا کہ لکھاری کس قدر نازک مزاج ہوتا ہے ۔۔۔

اصل میں ادیب اور لکھاری ’’ قوم کی تربیت ‘‘ کا فریضہ سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔۔۔ کہ بقول آغا شورش کاشمیری ۔۔۔ ’’ ادیب کا قلم اور عوام کے قدم اِک ساتھ چلتے ہیں ‘‘ ۔۔۔

دنیا میں سب سے مقبول ’’ جنات اور جادوگروں کی تربیت گاہ‘‘ ۔۔۔ کے عنوان سے جو سیریل چھپی اور جو ’’ ہیری پورٹر‘‘ کے نام سے سب سے زیادہ دیکھی گئی ۔ اُن کی مصنفہ نے سب سے زیادہ ڈالر کمائے اور سات ناول لکھ کر اعلان کر دیا کہ میں اب اس عنوان کے تحت مزید نہیں لکھونگی ۔۔۔؟! مجھے مزید ڈالروں کی ضرورت نہیں؟ ۔۔۔ میں اب اور کیا جھوٹ لکھوں؟ ۔۔۔ (انسان بلاشبہ ایک ہی کام کرتے کرتے تھک بھی تو جاتا ہے!) ۔۔۔

حالانکہ ہمارے ہاں ابن صفیؔ اشتیاق احمد ، اے حمید، مظہر کلیم نے سینکڑوں ناول لکھے جو کئی کئی بار چھپے ۔۔۔ اور بچوں میں نہ پوچھیں۔۔۔ کہ کس ’’ حد ‘‘ تک مقبول ہوئے مگر افسوس کہ لکھاری غربت کی زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوئے۔۔۔کیونکہ ہمارے ہاں بچوں کے لکھنے والوں کو ایک کہانی کا معاوضہ دو سو روپے دیا جاتا ہے ۔۔۔ ’’ محض‘‘(ہے ناں مزے کی بات اور خطرے کی گھنٹی؟)۔ حالانکہ بہت سے رسائل 200 روپے بھی دینا گوارہ نہیں کرتے۔۔۔ یہاں تک کہ وہ لکھاریوں کو اس ماہ کا رسالہ بھی مفت یا کہہ لیں۔۔۔ ’’ اعزازی کاپی ‘‘ تک نہیں بھیجتے۔۔۔!۔ جس مہینے کے رسالے میں اُن کی تحریرچھپی ہوتی ہے ۔۔۔

حکومتی سطح پر بچوں کے ادیبوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔۔۔ اِس پر میں خود کو مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ کہ اِک بار ملک کے سب سے بڑے ادارے پاکستان رائٹرز گلڈ نے میرے بچوں کے لیے نظموں کی کتاب ’’ جاگو ہوا سویرا ‘‘ کو اس سال کی بچوں کے لیے سب سے عمدہ شاعری قرار دیا اور ۔۔۔ پورے ’’ پانچ ہزار روپے ‘ ‘ انعام سے نوازہ‘‘ ۔۔۔ مجھے پتہ ہے وہ پانچ ہزار روپے میں نے کس طرح حاصل کئے! ۔۔۔

یا درہے کہ اُس کے بعد یہ پانچ ہزار روپے دینے کا رواج بھی ختم ہو گیا ۔۔۔ اور شاید پاکستان رائٹرز گلڈ بھی ۔۔۔ کہ اب اُس کے لاہور والے دفتر میں ’’ شاہ جنات ‘‘ کا سایہ ہے۔۔۔ جہاں صرف پرانے لکھاریوں کی رو حیں بھٹکتی پھر رہی ہیں۔۔۔نئے لکھاری وہاں سے گزرے ہوئے ڈرتے ہیں ۔۔۔ گھبراتے ہیں۔۔۔ کہ مسلمان ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسنا پسند کرتا ۔۔۔

آج بھی بہت سے بچوں کے لیے لکھنے والے زندہ ہیں مگر وہ توبہ تائب ہو چکے ہیں۔۔۔ وہ دل برداشتہ ہوئے اور اُنہوں نے بچوں کے لیے لکھنے سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ جو دنیا سے گئے مگر کسی نے اُن کے بارے میں دو فقرے بھی لکھنا پسند نہ کئے ۔۔۔

بچوں کے ادب کے حوالے سے عالمی ادارہ ۔۔۔ یونیسف نے بہت سے فنڈز بھی فراہم کئے مگر۔۔۔ وہ چند لوگ ہڑپ کر تے رہے اور بچوں کے لکھاری ۔۔۔ حوصلہ افزائی سے نہ صرف محروم رہے ۔۔۔ بلکہ اُنہوں نے ’’ کچھ اور لکھنا ‘‘ شروع کر دیا۔۔۔ کہ قلم کے یہ مزدور ‘‘ بہر حال مزدوری کریں گے تو بال بچوں کا پیٹ بھر سکیں گے!۔۔۔

ایسے میں احمد عدنان طارقؔ جیسا شخص پچھلے چار سال سے جب ’’ تعلیم و تربیت ‘‘ میں مستقلاً نمودار ہوا تو مجھے وہ تیس سال پہلے کا دور یاد آ گیا۔۔۔ جب میں بھی ماہنامہ ’’ تعلیم و تربیت‘‘ میں لگا تار لکھا کرتا تھا اور احمد عدنان طارقؔ اور بہت سے آج کے نامور لکھاری بھی۔۔۔

ماہنامہ ’’پھول‘‘، ’’تعلیم و تربیت‘‘،’’ گوگو‘‘ اور ’’ نونہال‘‘ جیسے رسالے عرصہ سے بچوں کے ادب کے لیے لازوال خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ اُن کی تربیت کردار کر رہے ہیں۔ میں نے بہت سے قومی سطح کے اخبارات میں بھی اِس پر جوش اور حقیقی لکھاری کے بہت سے تراجم بھی پڑھے اور سچائی پر مبنی تحریریں بھی ۔۔۔

میں نے چند دن پہلے جب احمد عدنان طارق ؔ سے جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ والدین کی اولاد اور خود بھی نہایت پڑھے لکھے ہیں ۔ اُن کی اِس قدر اچھی تحریر وں پر مبارکباد دی تو ۔۔۔ وہ شرما گئے۔ مجھے بر ٹرینڈر سل کی وہ تحریر یاد آ گئی۔۔۔ جس میں بر ٹرینڈر سل نے لکھا ہے کہ انسان اپنے روزگار کے سلسلہ میں کئی خانوں میں بٹا ہوا ہے۔۔۔ اور اکثر اوقات انسان اپنے مزاج کے خلاف کام کرتا ہے ۔۔۔ مثلاًجو شخص بڑھئی کے طور پر کام کر رہا ہے اُس کے اندر ممکن ہے بیت اچھا مصؤر چھپا بیٹھا ہویا اعلیٰ پائے کا انجینئر ۔۔۔ ایسے ہی ممکن ہے جو شخص ڈاکٹر بن کر روزی کما رہا ہے۔۔۔ وہ اگر لکھاری بن جاتا تو کہیں زیادہ کامیاب زندگی گزارتا!۔ ایسی مثالیں ہمارے ہاں کثرت سے موجود ہیں ۔۔۔

احمد عدنان طارقؔ ۔۔۔ پولیس میں انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہیں ۔۔۔ اور اِس عہدے پر فائز بہت زیادہ تعلیم یافتہ چند ایک افسروں کی لسٹ میں شامل ہیں ۔۔۔ وہ ابن صفی ؔ اور مظہر کلیم ؔ کے ناولوں کے ہیروتو نہیں مگر عملی زندگی میں اُن کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔۔۔ کہ سچ بولنے سے بالکل بھی باز نہیں آتے۔۔۔ ہے ناں حیرت کی بات؟ ۔۔۔

تزئین اور تتلیاں ’’ جیسا کہ نام کتاب کے سرورق پر پڑھ کہ آپ کو محسوس ہو ا ہو گا کہ اِس کتاب کا مصنف اِک سادہ دل پھولوں تتلیوں ، ہوا بہار اور لطیف جذبات سے محبت کرنے والا انسان ہے کہ جو اپنی تحریروں کے ذریعے بچوں کو علم کی دولت سے مالا مال کر نا چاہتا ہے۔ ’’ تزئین اور تتلیاں‘‘ کی کہانیاں پڑھ کر آپ کو احساس ہو گا کہ مصنف بچوں کو اپنی تحریر کے ذریعے نہ صرف گد گدا تا ہے ، اُن کی تربیت کرتا ہے، اُن کو سچائی کا درس دیتا ہے بلکہ سچے رشتوں سے محبت کی تبلیغ کرتا بھی دکھائی دیتا ہے ۔۔۔

’’ تزئین اور تتلیاں‘‘ کا مصنف بچوں کے ادب میں ایک عالیشان اضافہ ہے ۔۔۔ اِس کا اندازہ آپ کو یہ خوبصورت اور نہایت میعاری تحریریں پڑھ کر ہو گا۔۔۔ 


ای پیپر