سشما سُوراج، مودی بدمزاج
28 ستمبر 2018 2018-09-28

پچھلی دفعہ میں ذکرکررہا تھا بھارتی سفارتی، رقابت خباثت کی مگر نجانے کیسے ہمارے عوام اور حکمران پھر بھی ان سے امید وفا رکھتے ہیں شاید ہمارے وزیر خارجہ اور وزیراعظم صرف دودن بھارت سے آئی ہوئی ٹھنڈی ہواﺅں کی وجہ سے اس شک میں مبتلا ہو گئے تھے کہ سابقہ حکمران اخلاقی انحطاط پذیری کا شکار تھے، اور آداب سفارتکاری سے نابلد و ناآشنا تھے، ورنہ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ کوئی خلوص و درد وفا، کا جواب دھوکہ اور دغا سے دے اور فریق ثانی، انجانی خواہشات، اور حیوانی حرکات کرنا شروع کر دے۔

اس حوالے سے پنڈت جواہر لال نہرو کے دور دلاسہ گیری سے لے کر مودی کے دور دادا گیری تک کا مطالعہ کیا جائے تو صرف کشمیر، بلتستان، سیاہ چن وغیرہ کا ہی درد ان کے دل میں نہیں، پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے لے کر ہر اس چیز کی خلش اور ہوک ان کے قلب و جگر سے اٹھتی ہے۔

پاکستان کی نئی نسل ہو یا پھر ہندوستان کی نئی نسل، یہ آج سے ستر سالہ پرانی بوٹی بنانے والی فصل کاٹ رہی ہے، اور اب لاکھوں لوگوں کی قربانیاں دینے کے بعد یہ کیسے ممکن ہے موجودہ دور میں زیادہ علم و فن کے دلدادہ ہونے کے باوجود اپنے اسلاف سے تعلق کی بنیاد پر اپنے مذہبی، معاشرتی، سماجی اور سیاسی اختلاف کی واضح اور گہری خلیج کو پاٹ دینا ان دونوں کے بس کی بات نہیں۔

ہندوﺅں کا بھگوان مسلمانوں کی مرغوب غذا ہے، جانور کو مسلمانوں سے بدتر ثابت کرنے کے لئے وہ ایک گائے کے عوض ملک گیر فسادات برپا کر کے ہزاروں مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیتے ہیں۔ وہ مودی جو مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے اور پوری کی پوری بستی کو جلا دینے کی عالمی شہرت رکھنے والا قصائی، عمران خان کو ایک دفعہ ملاقات کے بدلے وہ تنازع کشمیر پر وزیر خارجہ ملاقات کا بندوست کر دے گا، کراچی کے عوام نے عمران پر اعتبار کر کے انہیں وزیراعظم پاکستان تو بنوا دیا، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ مودی گفت و شنید اور مذاکرات کی میز پر کشمیر کو ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔ عمران خان اور شاید ان کے بعد کے وزیراعظم بھی ایسا نہیں کر سکتے۔ کشمیر جس کے پانی برصغیر کے بیابانوں اور کھیتوں اور کھلیانوں کو سرسبزو شاداب بنانے کا منبع ہیں، اسے بھارت پاکستان کے حوالے اتنی آسانی سے کر دے یہ مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

لہٰذا ہمارے عوام خاطر جمع رکھیں، اور اپنی کوشش عسکری و سیاسی طور پر جاری رکھیں، مگر کشمیر کی آزادی صرف، اسی صورت میں ممکن ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آزادی کی لہر کو کمزور نہ ہونے دیں، اور ان پر اپنا زور ا ور گرفت اسی طرح جاری رکھیں، گویہ انتہائی مشکل ضرور ہے مگر ناممکن اس لئے نہیں کہ اس کے بغیر چارہ بھی کوئی نہیں، دنیا میں آزاد ہونے والے بہت سے ایسے ملک موجود ہیں جنہوں نے بھاری انسانی و مالی قربانیوں کے عوض اپنا ملک آزاد کرا لیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارتی فلمی گانوں، اور ان کے نیتاﺅں میں محبت، چاہت اور بھارت اور پاکستان کے عوام کے درمیان ہم آہنگی و ایکتا، کے ایسے ایسے مژدے سنائی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ ایسے لگتا ہے، ہندو بے چارے اپنے کئے پر نادم ہیں بلکہ یہ تو ہمارے خادم ہیں۔ شاید ان کے بزرگوں سے انجانے میں غلطی ہو گئی ورنہ تو بہیش بھٹ جیسے مخلص انسان دنیا میں کہاں ملتے ہیں۔ میرے خیال میں فلمی شاعر جاوید اختر انہیں چکمہ دے کے ان سے گانا ”گوا“ بھی لیتے ہیں اور پھر اس پر نچوا بھی دیتے ہیں۔ جب کہ اصل ا ور اندرونی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ایک نہایت قابل احترام بزرگ و دوست کہ جن کے دردولت پر وزرائے اعظم بھی حاضر دیتے رہے، ان کے گرد عقیدت مندوں کا گھیرا لگا رہتا، اور تانتا بندھا رہتا تھا، ایک دفعہ ہندوستان یاترا کے دوران حلوہ پوری کھانے کا شوق چرایا مگر اس کا مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے چودہ طبق روشن کر دیئے۔

موصوف کے ساتھی کی سٹی گم ہو گئی جب حلوائی نے ان دونوں کو ہاتھ کے اشارے سے دکان سے دور ہو کر کھڑا ہونے کو کہا اور پھر دور ہی دور سے اپنے ”کڑچھے“ کو آگے بڑھاکر پوری اس طرح سے دی کہ اللہ تعالیٰ معاف کرے کہ اس انداز سے مسلمان اور دوسرے مذہب کے لوگ جانوروں کو بھی کھانا نہیں کھلاتے۔

دراصل حلوائی نے ان کی شلوار قمیض دیکھ کر یہ اندازہ لگالیا تھا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ پاکستانی ہیں، اور اس پر سونے پر سہاگہ کہ یہ مسلمان بھی ہیں۔ حلوائی بے چارے کو کیا معلوم کہ ان دونوں پاکستانیوں میں سے ایک طبقہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان صرف سفارتی تعلقات تو چھوڑیں معاشرتی تعلقات استوار کرنے کا بہت بڑا علمبردار تھا۔ اور کچھ شاید اب بھی ہوں۔

کاش کہ ہمارے بعض کچھ حاکم، کچھ فن کار اور کچھ سادہ لوح عوام محض عقل کا ناخن لیتے، وہ کم از کم یہ تو دیکھتے کہ انہوں نے ہمارے قائداعظم کے ساتھ جب وہ انگریزوں کے خلاف کانگریس میں تھے تو کانگریس نے ان کے خلاف مسلم لیگ بنانے پر مجبور کر دیا، اور قائداعظم محمد علی جناح صاحب نے آزادی کی جنگ اپنی نئی جماعت کے اندر رہ کرلڑی اور حیرت انگیز کارنامہ سرانجام دے دیا۔

اب ذرا ٹھنڈے دل سے اس بات پر بھی غور کریں کہ انہوں نے دوسرے پاکستانی چھ فٹے محمد علی اداکار کے ساتھ کیا کیا تھا۔ پہلے ان کے ساتھ بھی پیار کی پینگیں بڑھائیں اور پھر بھارتی پورے اہتمام کے ساتھ اپنی فلم میں کام کرانے کا کہہ کر لے گئے اور بعد میں ان کے ساتھ وہ کام کیا اور وہ ہاتھ دکھایا اور ان کا وہ حال کیا کہ بلکہ ایسا شیشہ دکھایا شیشے کی تفصیل میں اس لئے تحریر نہیں کر سکتا کہ کبھی میرا ان کے ساتھ بہت احترام والا رشتہ تھا، بہرحال وہ اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ وہ ہندوستانی فلموں تو کجا وہ پاکستانی فلموں میں بھی کام کرنے سے توبہ تائب ہو گئے، ایک دفعہ معروف گلوکار رونا لیلیٰ بھی کسی مجنوں کی تلاش میں بھارت جا پہنچی تھی لیکن لیلیٰ کی لاکھوں اداﺅں کے باوجود بھی اس کے سارے چاہنے والے چوری والے مجنوں ثابت ہوئے، گلوکار رفیع مرحوم اور اداکار دلیپ کمار نے بھی ساری عمر وہاں لٹا دی یا ”روڑ“ دی مگر ہندوﺅں نے جب بھی دیکھا شک کی نگاہ سے دیکھا، دور نہ جائیے زیبا بختیار ہندوستان سے جلی بھنی واپس آئی، جنوں گروپ کی تو خیر بات اور ہے جنون میں صرف ن کا نکتہ مٹا دیں تو پھر ان پر اعتراض کیسا؟ یہ تو وہ حال ہے کہ جو ہندوستانی ان لوگوں کا کرتے ہیں، جو ان سے پیار کی پینگیں بڑھاتے ہیں، بلکہ پھر وہ گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے حتیٰ کہ ہمارے مذہبی تہواروں اور تقریبات کے موقع پر مادھوری، کترینہ کیف،ایشوریہ رائے کو شاید جلدی جلدی میں ادھ پچھدے کپڑوں میں چینلز پر لے آتے ہیں تاکہ مسلمان بھارت بھی ادھ پچھدی کر سکیں، اب ان سے ہمارے موجودہ قائداعظم ثانی، اخلاق اور تمیز کی توقع رکھیں، تو ان کی ناتجربہ کاری ہے۔

جب پاکستانی ان کے دلوں پر چھریاں چلاتے ہیں، ذرا اس پر بھی تو غور کریں یا یہ اہم کام صرف غریدہ فاروقی کا ہے، مثلاً ایک نحیف و نزار پاکستانی نے بھارت کے تین ٹکڑے کر کے رکھ دیئے اور دوسرے پاکستانی نے انہیں مکے دکھائے، اور ایوب خان سے ملاقات کے جرم میں بھارتیوں کو تاشقند سے اپنے وزیراظم کا تابوت لانا پڑے گا اور جب ضیاءالحق نے روس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیئے اس کا بھی خیال رکھیں، اور جب ڈاکٹر قدیر خان نے جعلی دھماکوں کے بدلے اصل دھماکے کر ڈالے بھارت کے نزدیک اب عمران خان کس منہ سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، وہ تو جس کو انٹرویو دیتے ہیں اسے بھی اپنا بنا لیتے ہیں اور جس کا انٹرویو کرتے ہیں اسے بھی اپنا لیتے ہیں۔ پاکستان میں آج کل 80سال کے بعد بھی شادیاں رچانے کا رواج چل نکلا ہے، اور ضرورت رشتہ کے اشتہار میں باون سالہ شخص کو (لڑکا) لکھا جاتا ہے تو پھر سشما سوراج کو اس کے گھر والے اور مودی کیسے اجازت دیتے؟ سوراج کو دعوت دینا مودی کے دل میں سوراخ کرنے کے برابر ہے۔


ای پیپر