سیرتِ طیبہؐ کا حق!
28 اکتوبر 2020 (11:56) 2020-10-28

سیرتِ طیبہؐ پوری زندگی کا منشور ہے۔ ربیع الاوّل کے ساتھ اس کو مختص کر دینا ہماری کم فہمی ہے۔ ہم اہل ایمان کی خوش بختی میں کوئی قوم ہماری مثیل نہیں ہو سکتی۔ قرآن و سنت کی روشنی کو کبھی کوئی طوفان اندھیرے میں نہیں بدل سکتا۔ ہمارے پاس یہ دولت ہے، مگر ہم اسے چھوڑ کر اندھیروں میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ یہ ہماری بدنصیبی اور زوال ہے۔ ہم محض روایات کی حدتک مسلمان ہیں۔ ہمارے نظام زندگی کا ہر شعبہ باطل اور طاغوت کی غلامی میں جکڑا ہوا ہے اور امت اس کی اطاعت پر چلی جا رہی ہے۔ سود، جوا، شراب، رشوت اور فحاشی و عریانی کا سکہ چلتا ہے۔ سیرت طیبہؐ سے ہم کوئی راہ نمائی لینے کے لیے تیار نہیں۔ پھر دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کیسے مل سکتی ہے۔ نبی مہربان کی حیاتِ طیبہؐ چلتے پھرتے قرآن کی صورت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی ہے۔ بلا شبہ یہ ہرخاص وعام کی انگلی پکڑکر اسے منزل تک لے جانے کا ذریعہ ہے، مگر اس پر عمل کون کرے گا؟۔

مادہ پرستی میں انسان اپنے سے اوپر والوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا حسرت کی نظر سے۔ اپنے سے نیچے والوں کو حقارت کا مستحق جانتے ہیں اور ان سے رعونت کا سلوک کرتے ہیں۔ اپنے برابر والوں پر شک اور حسد کی نگاہ ڈالتے اور اپنا حریف گردانتے ہیں۔یہ طرز عمل مادہ پرست اور خداخوفی سے عاری لوگوں کا ہوتا ہے۔ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے اس سے قطعی مختلف طرز عمل کے حامل ہوتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ کے مطابق انسان کمزور واقع ہوا ہے:وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا(سورۃالنساء ۴:۲۸) اس لیے ہرشخص میں کہیں نہ کہیں کمزوری اور جھول نظر آہی جاتا ہے۔ اگر اس کمزوری کی فکر اور تلافی نہ کی جائے تو وہ مرض کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ کمزوری کاعلاج اور بیماری سے نجات، حکمت واحتیاط کی متقاضی ہے۔

جب بھی سیرت نبویؐ کی طرف رجوع کیا جائے، روشنی کی کرن نظرآجاتی ہے۔ دل زنگ آلود ہوجائیں اور زندگی بے عملی وبدعملی کا شکار بن جائے تو انسان کا سہارا، قرآن وسنت اور سیرت کی پناہ گاہ ہی ہوتی ہے۔ نبی اکر مؐ کی سیرت کا پیغام یہ ہے کہ انسان دنیوی معاملات اور مادی وسائل کے لحاظ سے اپنے سے نیچے والوں کودیکھے جب کہ دینی واخلاقی معاملے میں اپنے سے اعلیٰ وارفع مرتبے والوں کی طرف دیکھے۔ نہ کسی سے مرعوب ہو نہ کسی کو کم تر جانے۔ اچھی صفات جہاں دیکھے، انھیں اپنانے کی سنجیدہ فکر کرے اور برے خصائل جہاں بھی نظر آئیں، ان سے اپنا دامن بچا کر گزرے۔ آج پاکستان میں ہر شخص مصائب کا شکار ہے اور اس کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔ اے کاش! ہمیں اسلام کا نظامِ عدل نصیب ہو جائے۔

نبی اکرمؐ کے پاس اکثر اوقات معاشرے کے گرے پڑے لوگ آتے اور اپنا سوال بھی بدویانہ اندازمیں پیش کرتے مگرآپؐ نے کبھی برا نہ مانا۔ ایک شخص نے آپؐ سے مالی امداد کا سوال کیاجب کہ آپؐ لوگوں کے درمیان مال تقسیم کررہے تھے۔ انداز یہ اختیار کیا: ”اے محمدؐ! یہ مال نہ تیرا ہے نہ تیرے باپ کا ہے، اس میں سے مجھے دو“۔ آپؐ نے بالکل برا نہیں مانا۔ اس شخص کو اس مال میں سے دے دیا۔ ایک مرتبہ عین اس وقت جب نماز کھڑی ہونے والی تھی، ایک بدو صفیں چیرتا ہوا آگے بڑھا، آپؐ کا دامن پکڑ کر کھینچا اور اپنے کسی کام کے بارے میں تقاضا کیا۔ آپؐ مسجد سے باہر نکلے اور اس شخص کا مطالبہ پورا کرنے کے بعد نماز ادا کی۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ضعیفوں کاملجا اور بے 

سہاروں کاماویٰ تھے۔ آپؐ کی مسجد میں ایک حبشی النسل خاتون جھاڑو دیا کرتی تھی۔ وہ بے چاری بالکل معمولی حیثیت کی کنیز تھی۔ وہ فوت ہوئی تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیے بغیر صحابہؓ نے اس کی نمازِجنازہ پڑھ کر دفن کردیا۔ آپؐ کو معلوم ہوا توا س بات پر ناراضی کا اظہارکیا کہ آپؐ کو اطلاع کیوں نہ دی گئی۔ آپؐ اس کی قبر پر گئے اور ایک روایت کے مطابق آپؐ نے اس کی قبرپرنمازِ جنازہ پڑھی اور اس کے لیے دعائے مغفرت کی (بخاری، کتاب الصلوٰۃ، حدیث۴۵۷)۔

ایک مرتبہ ایک دیہاتی شخص آپؐ کے پاس آیا، وہ فاقہ زدہ اور مفلوک الحال تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اسلامی ریاست، مدینہ، کے سربراہ تھے۔ اس اعرابی نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گستاخی کی اور سختی کے الفاظ میں مالی مدد کی درخواست کی۔ صحابہؓ کو یہ منظر سخت ناگوار گزرا مگر آپؐ نے صحابہؓ کو غصہ کرنے سے منع بھی کیااور خود زبان مبارک سے استغفارکا ورد شروع کردیا۔ پھرآپؐ اس دیہاتی عرب سے مخاطب ہوئے اور اس کی ضرورت معلوم کی۔ اس کے بعد آپؐ نے حکم جاری فرمایا ”اس شخص کے لیے ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجورلادو“۔ پھر آپؐ نے اسے دعا کے ساتھ رخصت کردیا۔ (ابوداؤد،حدیث ۴۷۷۵)

اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا طرز عمل اختیار کرنے والوں پر ناراض ہونے کی روش اختیار کرتے تو ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی دنیا وآخرت، دونوں برباد ہوجاتیں۔ ایک مرتبہ ایک شخص آپؐ کے پاس مدد کے لیے حاضر ہوا۔ اس شخص سے اپنے قبیلے میں کوئی شخص قتل ہوگیا تھا اور وہ خون بہا ادا کرنے کے لیے مدد مانگ رہا تھا۔ جب اس نے سوال کیا تو آپؐ نے اپنے پاس موجود رقم اسے دے دی، پھر اُس سے پوچھا: کیا میں نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے؟“ اس نے اپنے مخصوص بدوی لہجے میں کہا ”خدا کی قسم آپؐ نے میرے ساتھ کوئی نیکی اور احسان نہیں کیا“۔ اس موقع پر صحابہؓ غصے میں آگئے مگر آنحضورؐ نے ان کو غصے سے منع فرمایا۔

اپنی شانِ کریمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپؐ اس کو اپنے گھر میں لے گئے، اسے شربت پلایا اور اپنی تمام ازواج مطہرات کو پیغام بھیجا کہ ایک مصیبت زدہ مسافر آیا بیٹھا ہے، حسبِ استطاعت سب اس کی مدد کریں۔ امہات المومنین نے دل کھول کر اس کی مدد کی۔ اب آپؐ نے وہی سوال کیا تو دیہاتی نے جواب میں بہت دعائیں دیں اور شکریہ بھی ادا کیا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ جب میں نے مسجد میں تم سے پوچھا،تو تم نے جو جواب دیا اس سے میرے صحابہؓ کے دل زخمی ہوئے اور وہ ناراض ہوگئے۔ اب جس خوشی کا اظہار تم نے یہاں کیا ہے، اس کا اظہار میرے صحابہؓ کے سامنے بھی کردو تاکہ ان کے دل ٹھنڈے ہوجائیں۔ چنانچہ اس نے مسجد میں آکر بہت خوشی اور تشکر کا اظہار کیا۔ پھر وہ چلا گیا۔

اس شخص کے روانہ ہوجانے کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ پھرآپؐ نے اپنے صحابہؓ کو کہا کہ میں تمھیں ایک اونٹنی والے اور اس کی اونٹنی کاواقعہ سناتا ہوں۔ صحابہؓ نے پوچھا: یارسول اللہؐ وہ واقعہ کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: ”ایک شخص اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر پر روانہ ہوا۔ راستے میں اس کی اونٹنی کسی چیز سے بدک کر بھاگ گئی۔ اس کے ساتھی اس کو پکڑنے کے لیے دوڑے۔ اونٹنی نے لوگوں کا ہجوم دیکھا تو سہم گئی اور تیز بھاگنے لگی۔ یہ کیفیت دیکھ کر اونٹنی کے مالک نے کہا: دوستو! تمھارا شکریہ، تم مجھے اور میری اونٹنی کوہمارے حال پر چھوڑ دو۔ اس کے ساتھی بیٹھ گئے تو وہ اکیلا اونٹنی کی طرف بڑھا۔ اونٹنی نے دیکھاکہ اس کامالک آرہا ہے تو وہ ایک مقام پر رک گئی۔ وہ گیا اوراپنی اونٹنی کو پکڑ کر لے آیا۔ میرا اور تمھارا معاملہ بھی کچھ ویسا ہی ہے۔ اگر میں بھی اس شخص سے ناراض ہوجاتا تو وہ بے چارہ ہر چیزسے محروم ہوجاتا۔ (الشفاء قاضی عیاضؒ، ۱/۲۵۳)

ایک جانب آپؐ کی یہ نرم دلی اور غربا کے ساتھ حسن سلوک، اخلاق عالیہ کا بہترین نمونہ ہے، دوسری جانب دنیا کے جھوٹے خداؤں اور خود ساختہ آقاؤں کے مقابلے پر آپؐ کا نعرہئ والہانہ اعلیٰ درجے کی جرأت وشجاعت کا غماز ہے۔ عرب کے اندر موجود باطل قوتوں سے زندگی بھر آپؐ برسرِپیکار رہے اور کبھی ان کے مظالم اور سختیوں کے سامنے سر نہیں جھکایا، مشکل ترین حالات میں جب اولوالعزم صحابہؓ کے قدم بھی اکھڑ گئے، اللہ کے نبیؐ عزیمت کا پہاڑ بنے، دشمن کے سامنے ڈٹے رہے (احد اورحنین کے واقعات قابل مطالعہ ہیں)۔ 

عرب کے باہر کی دونوں نام نہاد سُپر طاقتوں سے بھی آپؐ کبھی خوف زدہ نہیں ہوئے۔ غزوہ تبوک اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ آنحضورؐ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کوسُپر مانتے ہی نہیں تھے۔ قیصرِروم کے مقابلے میں تیس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ سے تبوک تک آپؐ نے سفر کیا۔ مہینہ بھر وہاں مقیم رہے۔ قیصرِروم، اپنے لاؤ لشکر سمیت میرِحجاز کی آمد سے قبل ہی پسپا ہو چکا تھا۔ آپؐ نے دنیا کے بادشاہوں کو خطوط لکھ کر اسلام کی دعوت دی تو اس کا بنیادی مضمون ہی یہ تھا کہ وہ اطاعت تسلیم کرلیں۔ اس کے جواب میں مختلف بادشاہوں کا رد عمل مختلف تھا۔ جن کا جواب مثبت تھا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے اور جو اکڑفوں پر اتر آئے وہ نشانِ عبرت بن گئے۔


ای پیپر