مارچ کا بال پنجاب کے کورٹ میں
28 اکتوبر 2019 2019-10-28

وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور ملک میں ازسرنو انتخابات کے مطالبات کیلئے جے یو آئی (ف) نے سندھ سے آزادی مارچ کا آغاز کیا۔صوبائی دارالحکومت کراچی کے پشتون آبادی کے اکثریتی علاقے سہراب گوٹھ سے یہ کارواں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں روانہ ہو کر حیدرآباد سے ہوتا ہوا نیشنل ہائی وے پر مٹیاری، نوابشاہ، نوشہروفیروز ،خیرپور اور سکھر پہنچا ۔اگلے روز پنو عاقل اور گھوٹکی سے ہوتا ہوا کموں شہید سے پنجاب کی حدود میں داخل ہوا۔ماسوائے میزبانی کے سندھ میں 100 فیصد جمعیت علمائے اسلام کا انحصار اپنے کارکنوں پر تھا، جہاں وہ ساڑے چار لاکھ رکنیت کا دعوا کرتی ہے ۔

جے یو آئی نے مارچ کا سندھ سے آغاز حکومت سندھ کے دوستانہ رویے کے علاوہ دو اہم صوبوں سندھ اور پنجاب کی شمولیت کے باعث کیا گیا۔ اگر پنجاب یا خیبر پختونخوا سے کیا جاتا تو وہاںپی ٹی آئی حکومت آغاز میں اسے روک سکتی تھی۔ سندھ میں ایسی صورت حال نہیں بنے گی۔شمالی سندھ میں جے یو آئی کا سپورٹ بینک ہے یہاں اور بلوچستان سے بھی سپورٹر با آسانی آ سکتے ہیں۔ مارچ کو اگر پنجاب میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے تو وہ قومی شاہراہ اور ٹرین لائن دونوں کو معطل کر سکتے ہیں اور یوں پنجاب کا لاک ڈاؤن ہوسکتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور سندھ کا رشتہ ایک صدی پرانا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام دراصل برصغیر میں 1919 میں تشکیل پانے والی جمعیت علمائے ہند کا نظریاتی تسلسل ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی تشکیل میں اس وقت کے 25 علما ء نے شرکت کی تھی جن میں سے پانچ مولانا تاج محمود امروٹی، مولانا سید محمد امام راشدی، مولانا محمد صادق میمن کھڈہ کراچی والے، مولانا اسد اللہ شاہ ٹکھڑائی اور مولانا محمد عبداللہ کاتعلق سندھ سے تھا۔جمعیت علمائے الہند میں کی مرکزی کمیٹی میں بھی سندھ کے تین علما ء تھے ۔ مٹیاری کے پیر سید غلام مجددد سرہندی مرکزی سیکریٹری رہے ۔

جمعیت علمائے ہند کا بنیاد مہیا کرنے والی جمعیت الانصار تھی اور جس اجلاس میں جمعیت الانصار کی بنیاد رکھی گئی اس میں چار علما ء مولانا عبیداللہ سندھی سمیت تین سندھ کے علماء موجودتھے۔اگرچہ جمعیت علمائے اسلام الہند متحدہ انڈیا کی حامی تھی مگر 1945 میں دیو بند کے عالم علامہ شبیر احمد عثمانی نے اختلاف رائے رکھتے ہوئے تحریک پاکستان کی حمایت کردی۔ لیکن سندھ میں جمعیت علمائے الہند کا نظریہ ہی مقبول رہا۔قیام پاکستان کے بعد جمعیت علماء اسلام پاکستان کی تشکیل پائی اور علامہ شبیر احمد عثمانی اس کے سربراہ منتخب کیے گئے تو خلیفہ احمد الدین خانقاہ جرار شریف شکار پور تنظیم سندھ کے امیر اور حافظ محمد اسماعیل میمن کھڈہ کراچی والے سیکریٹری منتخب کیے گئے۔اگرچہ یہ کڑی اب کچھ کمزور ہے لیکن تسلسل اور روابط ضرور موجود ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کو متعدد بار اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔بہرحال قیام پاکستان سے قبل سندھ کی قیادت جمعیت علمائے الہند اور بعد میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ رہی۔جمعیت علماء کے خانپور اجلاس میں مولانا عبدالکریم قریشی بیر والے اور علامہ سید محمد شاہ امروٹی نے مولانا فضل الرحمان کے لیے اتفاق رائے پیداکرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔یوں مولانا فضل الرحمان کو جمعیت علمائے اسلام کی سربراہی تک پہنچانے میں سندھ کا کلیدی کردار رہا۔ سندھ میں جے یو آئی کا رویہ کئی امور میں سندھی قوم پرستانہ رہا۔وہ بعض قوم پرست اتحادوں کا حصہ بھی رہی۔

سندھ میں جمعیت علمائے اسلام عام انتخابات میں بظاہربڑا چیلینج نہیں بنی تاہم گذشتہ بلدیاتی انتخابات میں جے یو آئی تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی جس کے تحصیل سطح تک پینل اور امیدوار کامیاب ہوئے اس نے بعض علاقوں میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور گزشتہ ایک عشرے کے دوران ہر مرتبہ شمالی سندھ میں ضمنی انتخابات میں اپنی اہمیت منوا ئی ۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مارچ کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قافلہ اسلام آباد پہنچ کر دم لے گا، حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود انتظامیہ سے معاہدے کی پاسداری کرینگے، 25جولائی کے انتخابات اور اسکے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، ، عمران خان کو استعفیٰ دینا ہوگا۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت کے تحت دیوبندی مکتبہ فکر سے وابستہ تقریباً 24 ہزار مدارس میں اندازاً 3.1 ملین طلباء دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔جے یو آئی ف بھی اسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے لیکن وفاق المدارس کی اعلیٰ قیادت حنیف جالندھری اور دیگر مکتبہ فکر کے علماء نے اس مارچ سے دور رہینے کا اعلان کیا ہے ۔

جے یو آئی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ 18 سال سے بڑی عمر کے طلباء کو آزادی مارچ میں لائیں گے۔ جے یو آئی ف کی قیادت واضح کرچکی ہے کہ اس مارچ میں خواتین شرکت نہیں کریں گی۔ جبکہ عمران خان کے دھرنوں میں خاصی تعدا د خواتین کی تھی۔

جے یو آئی نے معاہدہ اس لئے کیا تاکہ پارٹی قیادت خصوصا مولانا فضل الرحمان 29 اکتوبر سے قبل گرفتار نہ ہوں ، جب اسلام آباد میں دھرنے کے معاہدہ ہورہا تھا تو مولانا فضل الرحمان سندھ پہنچ چکے تھے۔ دو روز تک سندھ میں پرامن رہنا بھی ان کو فائدہ دے سکتا تھا۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اسلام آباد پہنچنے پراگر مجمع بڑا لگا گیا تو کیا ہوگا؟ کیا مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کی قیادت اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی حمایت ہوتے ہوئے، خود کو اس معاہدے پر قائم رکھ پائے گی؟ یا تحریک انصاف کے نقش قدم پر چل پڑے گی، جس نے 2014ء میں نواز شریف کے دور حکومت میں زیرو پوائنٹ تک کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن بعد میں کارکنان ریڈ زون میں داخل ہو گئے تھے۔ یہی منظر بینظیر بھٹو کے خلاف جماعت اسلامی کے مارچ کے وقت بھی پیش آیا تھا۔

اب تین روز تک قافلے پنجاب میں سفر کریں گے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب کے لوگ کیا سیاسی ردعمل دیتے ہیں؟ میاں نواز شریف کے علاج کو حکومت بطور ہتھیار استعمال کر سکتی ہے اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر پنجاب کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق آخری گنتی میںپنجاب کا ردعمل ہی فیصلہ کن ہوگا۔


ای پیپر