کچھ علاج اس کا بھی اے! چارہ گر ہے کہ نہیں ؟
28 اکتوبر 2019 2019-10-28

قومی سیاست کا محور ایک بار پھر مارچ اور دھرنا ہیں ۔ جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں آزادی مارچ کا آغاز ہوچکا ہے ، جس میں شرکت کے لیے ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کے لئے رواں ہیں ۔ان قافلوں نے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی بھی قابل ذکر تعداد موجود ہے ۔ اسلام میں آباد میں کس مقام پر جلسہ ہوگا ؟ اس کا فیصلہ گزشتہ روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومتی اراکین کے درمیان ہونے والی میٹنگ میںیہ ہوا کہ اسلام آباد میں پشاور موڑ کے پاس میدان میں جلسہ ہوگا۔ اس حوالے سے پندرہ روپے کے اسٹامپ پیپر پر شرائط و ضوابط طے پائے اور جمعیت علماء اسلام کی مقامی قیادت اور اسلام آباد انتظامیہ نے اس پر دستخط کیے۔ حکومت اسے سیاسی معاہدہ قرار دے رہی ہے ، اور جمعیت انتظامی معاہدہ۔ حکومتی موقف تو حسب روایت مذاق ہی معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی معاہدے اسٹامپ پیپروں پر نہیں ہوتے ہیں۔حکومت کہتی ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر بات نہیں ہوئی جب کہ جمعیت اپنے اس بنیادی مطالبے پر شد ومد کے ساتھ قائم ہے ۔ حکومت نے بھی جے یو آئی کے رہنما حافظ حمد اللہ کی پاکستانی شہریت منسوخ کرکے اور مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری سے معاہدے کو سبو تاژ کرنے اور آزادی مارچ کو تقویت دینے کی کوشش کی ہے ۔

جمعیت علماء اسلام کا اصرار ہے کہ وہ سول بالادستی،صفاف انتخابات، اداروں کی مداخلت اور اسلامی شقوں کے تحفظ کے لیے آزادی مارچ کررہی ہے ۔ رواں دہائی میں دھرنے کی ابتداء جناب طاہر القادری صاحب نے کی جب موصوف پیپلز پارٹی حکومت کے دورِ حکومت میں ڈی چوک پر آ براجمان ہوئے اور آئین میں درج عوامی مفادات، شہری حقوق اور اسلامی قوانین باسٹھ تریسٹھ کے نفاذ سے متعلق شقیں چیخ چیخ کر قوم کو بتاتے رہے اور بضد تھے کہ وہ ان شقوں کو نافذ کروا کر ہی اٹھیں گے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے سیاسی اور عمرانی شعور کا مظاہرہ کیا اور جسیے تیسے بھی دھرنے کی بلا کو سر سے اتارا اور قادری صاحب ہنستے مسکراتے پردیس سنوار گئے۔ہمارے امید پرست معاشرے نے اس وقت بھی انقلاب کی امید باندھ لی تھی لیکن افسوس کے امید بر نہیں آئی۔ دوسرا دھرنا جناب عمران خان اور طاہر القادری نے دیا۔ دھرنا طویل تھا۔ دونوں رہنماؤ ںنے جو اسی دھرنے کے دوران سیاسی کزن کے رشتے بھی بندھ گئے، قوم کو جھوٹے سچے قصے سنا سنا کرقوم کو انقلاب کی نوید سنا دی لیکن وہ انقلاب اور تبدیلی صنعت اور معیشت کے جمود، بیروزگاروں کی ایک بڑی کھیپ، مہنگائی کے طوفان اور قرض و امداد کی تلاش میں سرگرداں حکومت کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عوام کو اپنے حکمران چننے کا حق آزادانہ طور پر ملنا چایئے، آئین اور قانون کی بالا دستی ہونی چاہیے، اداروں کو اپنی آئینی حددود میں رہ کر کام کرنا چایئے لیکن سوال یہ ہے کہ عوام کے مسائل کے حل کا تدارک کون کرے گا؟ مولانا صاحب کا آزادی مارچ اپنے اہداف پا بھی گیا اور وزیر اعظم مستعفی ہوگئے اور نئے انتخابات ہو بھی گئے تو پھر کیا ہوگا؟ یہی آئی ایم ا یف ہوگا، یہی ورلڈبنک ہوگا۔ انھیں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کا راج ہوگا جو تحریک انصاف کے بعد اس گاڑی میں دندناتے ہوئے سوار ہوجائیں گے جس کے سر پر اقتدار کا ہما سجے جانے کو ہوگا۔ہمیں یہ یاد رکھنا چایئے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جب تک عوامی مفادات پر مشتمل اپنا معاشی پروگرام پیش نہیں کرے گی اس وقت تک وہ اس اڑتالیس فیصد خاموش اکثریت کو اپنے ساتھ نہیں ملا سکے گی جس نے گزشتہ انتخابات میں اس وجہ سے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے منشور سے متفق نہیں ہے ۔ مولانا نے سیاسی مطالبات پیش کردیے ہیں لیکن عوامی مسائل کے پر ایک بات بھی نہیں کی ہے ۔ مزدور کی کم از کم اجرت، ٹیکس اصلاحات اور زرعی اصلاحات جیسے مسائل ابھی تک آزادی مارچ کے پلیٹ فارم سے سننے کو نہیں ملے ہیں۔

ملک میں فوجی آمریتوں کے بعد جمہوری عمل کا نیا سلسلہ لڑکھڑاتا ، ڈگمگاتا جیسے تیسے بھی چل رہا ہے ۔ جس سے ہمارے ملک میں رائج سیاسی نظام کی خوبیاں اور خامیاں عیاں ہوتی جارہی ہیں۔طاہر القادری کا دھرنا ، عمران خان اور طاہر القادری کا دھرنا اور اب مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ اور دھرنا ان تضادات کو واضح کرنے کا عمل ہے جو ہماری سیاسی جماعتوں اور ریاستی نظام میں موجود ہیں۔ ایک زمانے میں اقتدار کی رسہ کشی میں اداروں کی مداخلت کی مخالفت خال خال سننے کو ملتی تھی لیکن اب یہ ایک بیانیہ بن چکا ہے کہ سیاسی اور حکومتی معاملات میں اداروں کی مداخلت کا سلسلہ اب ختم ہونا چاییے۔ ہماری سیاسی جماعتیں سول بالا دستی کا نعرہ تو بلند کرتی ہیں لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان جماعتوں نے سول بالا دستی کے لیے کیا کیا ؟ بدنظمی کا شکار سیاسی جماعتیں اس قابل تھیں ہی نہیں کہ وہ منظم اداروں کا مقابلہ کرسکیں۔امید ہے کہ اداروں کی مداخلت کے خلاف سراپا احتجاج سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں بھی حقیقی سیاسی کارکنوں کو شامل کریں گی جن کا مقصد سیاست اور اقتدار ذاتی مفادات کی بجائے عوام اور ملک کی ترقی اور خوشحالی ہو۔ تاکہ سیاست میں اداروں کی مداخلت کے ساتھ ساتھ قومی وسائل کی لوٹ مار کا بھی تدارک ہو سکے۔


ای پیپر