کیا ہم واقعی کوفی ہیں ؟
28 اکتوبر 2019 2019-10-28

چند ماہ قبل کا واقعہ ہے ، عثمان بزدار کسی اہم موضوع پر اجلاس میں شریک تھے ، پوری بیوروکریسی ان کے دائیں بائیں بیٹھی تھی، وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی جا رہی تھی ، اتنے میں ایک مشیر انتہائی غیر مہذب انداز میں کمرے میں داخل ہوا، اجلاس کے شرکاء پر نظر دوڑائی اور بارعب انداز میں وزیر اعلیٰ سے مخاطب ہو کر کہا ــ’’جناب دوسرے کمرے میں کچھ مہمان تشریف فرماہیں ، وہ بڑی دیر سے آپ کے منتظر ہیں ، آپ میٹنگ چھوڑیں اور ان سے مل لیں ‘‘ وزیر اعلیٰ اپنی عینک آنکھوں سے نیچی کرتے ہیں ، میٹنگ کے شرکا ء پر نظر دوڑاتے ہیںاور بڑی لجاجت سے مشیر کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بریفنگ ختم ہونے والی ہے بس دو چار منٹ انہیں مزید دے دیے جائیں ۔مشیر صاحب شرکاء کی طرف نظر دوڑاتے ہیں اورانہیںاشارہ کرتے ہیں آپ چلے جائیں بریفنگ کی باقی باتیں میں خود انہیں سمجھا دوں گا ۔ اس کے ساتھ ہی میٹنگ ختم ہو جاتی ہے اور وسیم اکرم پلس مشیر کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔ وہ مشیر کون تھے ، یہ بتانے کی ضرورت نہیں بس اتنا کافی ہے کہ اب انہیں فارغ کیا جا چکا ہے۔ یہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے اور نصف پاکستان کی وزیر اعلیٰ کی کہانی ہے ، یہ وزیر اعلیٰ کتنے پڑھے لکھے ، کتنے سنجیدہ ، کتنے باشعور ، کتنے بااختیار، کتنے جہاندیدہ اور امور سلطنت کو کتنا جانتے ہیں یہ راز آہستہ آہستہ کھل رہے ہیں ۔ وسیم اکرم پلس کی صورتحال یہ ہے کہ سوا سال گزرنے کے باجود یہ ابھی تک میڈیا سے گفتگو کرنا نہیں سیکھ سکے ، یہ جب بھی پریس کانفرنس کرتے ہیں یا کسی ایونٹ پر میڈیا انہیں گھیر لیتا ہے تو یہ گھبرا جاتے ہیں ، ان کے مشیر اور وزیر انہیں یاد دہانی کراتے ہیں کہ صاحب بہادر آپ کوئی عام انسان نہیں آپ آدھے پاکستان کے مالک ہیں ۔ صحافیوں کی طرف سے غیر متوقع سوال آجائے تو مشیروں کو آگے آنا پڑتا ہے ، وسیم اکرم پلس کی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے اڑتیس ترجمانوں کی ایک فوج بھرتی کی تھی ، اس فوج کا کام یہ تھا کہ انہوں نے دفاعی اور الزامی ہر اعتبار سے تبدیلی سرکار کا دفاع کرنا ہے ۔ آپ ہر روزالیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر وسیم اکرم پلس کے جو بیانات دیکھتے اور سنتے ہیں یہ ان کے اپنے ارشادات نہیں ہوتے ، یہ میڈیا ہاؤسز اور دفاتر میں بیٹھے اہل صحافت کا کام ہے ورنہ آپ وسیم اکرم پلس کی گفتگو سن لیں تو اس عظیم وزیر اعلیٰ کے انتخاب پر عظیم وزیر اعظم کو سلیوٹ پیش کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔آپ کسی دن وسیم اکرم پلس کا پروٹوکول بھی آبزرو کریں ، مجھے لاہور میں متعدد مواقع پر اس پروٹوکول کی اذیت سے گزرنا پڑا ہے ، وہ وسیم اکرم پلس جسے یونین کونسل کی حد تک بھی کوئی نہیں جانتا تھا ،آج لوگوں کو اذیت دے کر اتنے بڑے پروٹوکول میں گھومتے ہوئے اسے شرم آنی چاہئے تھی ، وسیم اکرم پلس کے کوچ کو بھی ایک بار اپنے سابقہ بیانات نکلوا کر دیکھ لینے چاہییں، ہو سکتا ہے ان بیانات سے شرم اور غیرت کی کوئی چھٹانک برآمد ہو جائے ۔

وسیم اکرم پلس کو حکومت سنبھالے ایک سال دو ماہ ہو چکے ہیں ، اس سوا سال میں پنجاب جہاں کھڑا تھا وہاں سے الحمد للہ تیس چال فیصد پیچھے آ چکا ہے ،صرف ایک ڈینگی ان سے کنٹرول نہیں ہو سکا ، اب تک بیسیوں لوگ ڈینگی کی وجہ سے موت کی منہ میں جا چکے ہیں ، ہزاروں لوگ ہسپتالوں میں پڑے ہیںاور روزانہ چار پانچ اموات ہو رہی ہیں ، وسیم اکرم پلس اور ان کی کابینہ اب اس انتظار میں ہے کہ کب سردی بڑھے اور ڈینگی سے جان چھوٹے ۔ یہ زبان حال سے ڈینگی سے شکست کا اعتراف کر چکے ہیں ، ہسپتالوں میں جو ٹیسٹ پہلے فری ہوتے تھے اب سیکڑوں میں ہوتے ہیں ، ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا عملہ قسمت سے ملتا ہے ، دوائیوں کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر کھڑی ہیں اور راشدہ یاسمین اس بند ر کی طرح بھاگ دوڑ کر رہی ہیں جسے مل کر جنگل کے جانوروں نے ڈاکٹر ڈکلیئر کیا تھا ، لومڑی بیمار ہوئی تو سب جانور مل کر ڈاکٹر کے پاس گئے ، بندر کبھی ایک درخت پر چھلانگیں لگاتاکبھی دوسرے پر ، سب جانور نیچے کھڑے منتظر کہ ڈاکٹر صاحب کب علاج شروع کرتے ہیں ، جب لومڑی مر گئی تو بندر صاحب نیچے تشریف لائے اور گردن جھکاکر بولے ، دھوڑ دھوپ تو میں نے بہت کی آگے اللہ کی مرضی ۔ لوگوںکے پیارے ڈینگی سے مر رہے ہیں اور راشدہ یاسمین اور وسیم اکرم پلس دھوڑ دھوپ کر رہے ہیں اور دس کروڑ پنجابی سر جھکا کر تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کے پاس فنڈز ختم ہو چکے ہیں ، اسکالرشپس ختم کر دیے گئے ہیں ، لیپ ٹاپ اسکیم بند پڑی ہے ، ذہین ،محنتی اور باصلاحیت طلبہ جنہیں پہلے گارڈ آف آنرپیش کیا جاتا تھا مایوس ہو چکے ہیں ۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ من مانی کر رہا ہے ، میٹرو کے کرائے بڑھ چکے ہیں ، میٹرو ٹرین جسے صرف تین ماہ بعد چلنا تھا سوا سال گزرنے کے باجود نہیں چل سکی ، جو سڑکیں سواسال پہلے ادھوری تھیں وہ آج بھی اسی طرح ادھوری پڑی ہیں ۔آپ ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ اورسانحہ ساہیوال دیکھ لیں ، وسیم اکرم پلس کے ہیلی کاپٹر کا استعمال، آئی جی پنجاب کی تبدیلیاں ، شہروں میں موجود تعفن اور کوڑاکرکٹ کے ڈھیر،ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار ہو،ساہیوال ہسپتال میں اے سی نہ چلنے سے بچوں کی اموات ، اربوں کی سبسڈی کے باوجودرمضان بازار فلاپ،اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو،آئے روز بیوروکریسی میں تقرر وتبادلے ،مارکیٹ پرائس کمیٹیوں کی ناکامی، اپنے حلقے تونسہ میں بغیرر بورڈ اور منظوری کے 102 افراد میں 1 کروڑ 6 لاکھ روپوں کی تقسیم اورلیہ گرلز کالجز کی طالبات کو دوردراز علاقوں سے لانے والی بسوں کو ڈی جی خان شفٹ کرنے کا معاملہ اور پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر عالمی بینک کی طرف سے تین میگا پروگرامز پر قرضہ منسوخی کا سندیسہ ، یہ تمام واقعات وسیم اکرم پلس کی شاندار صلاحیتوں اور کوچ کے عظیم ویژن کی شاندار مثالیں ہیں ۔

یہ سب کچھ کس کے ساتھ ہو رہا ہے ، اس پنجاب کے ساتھ جو آدھا پاکستان ہے ، جس میں ہزاروں پی ایچ ڈی ڈاکٹر، سیکڑوں دانشور اور بیسیوں نابغے موجود ہیں مگر ان کی قسمت میں وسیم اکرم پلس کو برداشت کرنا لکھا ہے ۔ میں پہلے دن سے کہتا آ رہا ہوں ، تبدیلی سرکار کے آنے سے سب سے زیادہ نقصان پنجاب کا ہو رہا ہے ، پنجاب کی ترقی کی مثالیں انڈیا اور چائنہ میں دی جاتی تھیں آج وہی پنجاب باعث عبرت بن چکا ہے ، انٹرنیشنل ڈیلیگیشن بھی وسیم اکرم پلس سے ملتے ہیں تو اہل پنجاب اور کوچ کے حسن انتخاب کو داد دیے بغیر نہیں رہتے ۔مجھے یاد ہے کچھ عرصہ قبل ملک کے ایک معروف کالم نگار نے اپنے کالم میں پنجابیوں کو کوفیوں سے تشبیہ دی تھی جس پر مختلف اطراف سے آوازیں بلند ہوئی تھیں ، تب مجھے بھی یہ بات ہضم نہیں ہوئی تھی مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے مجھے یہ بات سچ ثابت ہوتی نظر آ رہی ہے ، مجھے بھی اب لگنے لگا ہے کہ ہم واقعی کوفی ہیں ، مجھے امام زین العابدین کے الفاظ یاد آ رہے ہیں ، انہوں نے کہا تھا کوفہ کسی ایک جگہ کا نام نہیں بلکہ ہر وہ جگہ جہاں ظلم ہو اور لوگ خاموش رہیں وہ کوفہ ہے اور ہم آج واقعی کوفی ثابت ہو چکے ہیں ۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ اس کوفی پن میں ہم کس حد تک مستقل مزاج ثابت ہوتے ہیں ۔


ای پیپر