ہم کہاں کے شہری ہیں؟
28 اکتوبر 2019 2019-10-28

گز شتہ کئی مہینوں سے ملک کا تماشا بنا ہوا ہے۔جج ویڈیو سکینڈل سامنا آیا تو پورے نظام عدل پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے۔پھر جس انداز میں مداریوں نے اس تماشے کو ختم کر دیا اس سے معلوم ہوا کہ اب یہاں روز تماشے ہو ا کر یں گے۔جج ویڈیو سکینڈل جس نے پورے نظام عدل کی دیواریں ہلا دی تھیںاس سکینڈل کے تمام کردار آزاد اور باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔کسی کو فکر ہی نہیں کہ اس سکینڈل سے پورے نظام سے لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔پھر جس بھونڈے انداز میں میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو گرفتار کیا گیا اس سے یہ پیغام دیا گیا کہ ابھی مزید تماشے ہو نگے۔پھر مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی راناثناء اللہ کو جس الزام میں گر فتار کیا گیا تو بات تماشوں سے مذاق تک پہنچ گئی ۔متعلقہ وزیر شواہد کو عدالت میں پیش کرنے کی بجائے پریس کانفرنسوں میں گرج اور برس رہے ہیں۔میاں نواز شریف کے داماد محمد صفدر کو بھی پابند سلاسل کیا گیا۔طریقہ واردات وہی گھساپٹا۔ان واقعات کے بعد یہاں کے شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو ئے کہ ہم کہاں کے شہری ہیں؟ پاکستان کے یا مذاقستان کے ؟ پاکستان کے یا تماشستان کے ؟عشروں قبل اسی طرح کے حالات پر اس ملک کوبنانا ریپبلک اور عدالتوں کو کینگرو کورٹس کے الزمات کا سامناکرنا پڑا ہے۔ابھی یہ ڈرامہ بازیاںچل ہی رہی تھی کہ پابند سلاسل سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف شدید بیمار ہو گئے۔ نیب نے ان کو ہسپتال منتقل کر دیا۔وہاں ان کا علاج جاری ہے۔حکومت اور میاں نواز شریف کی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) اور ان کا خاندان اس بیماری پر سیاست کر رہا ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومت میں اتنی طاقت نہیں کہ عدالت کو لکھ کر دے دیتی کہ سابق وزیر اعظم میاں نوا زشریف کا علاج جاری ہے۔ان کو تمام طبی سہولتیں دی جارہی ہیں۔حکومت کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں کی جائے گی باقی زندگی اور موت پر کسی کا اختیار نہیں ۔ اگر زندگی اور موت پر کسی کا اختیار ہوتا تو میاں نواز شریف کی زوجہ کلثوم نواز ابھی حیات ہو تی۔وہ ملک سے باہر لندن میں زیر علاج تھیں۔دونوں بیٹے ،بیٹی ،بہو اور نواسے ،نواسیاں تیمارداری کے لئے مو جود تھے پھر بھی وہ ان کو بچا نہیں سکے۔میاں نوا ز شریف کی طبی بنیادوں پر رہائی کے لئے جس طرح چھٹی کے دن عدالت لگا کر فیصلہ دیا گیا وہ اعلی عدلیہ کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔جیلوں میں اس وقت سیکڑوں نہیں ،ہزاروں بھی نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں شوگر ،بلڈپریشر ، کینسر اور ایڈز جیسے خطرناک بیمار مو جود ہیں کیا کبھی ان میں سے کسی کو یہ ریلف دیا گیا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ بلکہ ان کے لئے اسی طرح کا سوچنا بھی ممنوع ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری بھی جیل سے داخل ہسپتال ہوئے ہیں۔ان کا علاج بھی جاری ہے۔لیکن وفاقی حکومت دوٹوک الفاظ میں جواب دینے کی بجائے آئیں بائیں شائیں کر رہی ہے۔پیپلز پارٹی نے بھی آصف زرداری کا تماشہ بنایا ہوا ہے۔ان کی چیخ و پکار سے لگ رہا ہے کہ آصف علی زرداری میں مزید سختیاں برداشت کرنے کی قوت نہیں ان کو رہا کر کے بیرونی ملک جانے دیا جائے۔

ابھی ملک میں دو قیدیوں اور صرف دو مریضوں ، میاں نوا ز شریف اور آصف علی زرداری کے بارے میں ڈرامے اور تماشے جاری تھے ان کے حوصلوں کا مذاق اڑایا جارہا تھا کہ سانحہ ساہیوال کے دل خراش سانحہ کا فیصلہ سنایا گیا۔عدالت نے وقوعہ میں ملوث تمام ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کر دیا۔اس فیصلے نے نظام انصاف پراعتماد کی رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔گزشتہ کئی مہینوں سے نظام عدل کے ساتھ جو کھلواڑ خود منصف کر رہے ہیں وہ ملکی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔حکومت سے تو قع تھی کہ وہ سنبھل جائے گی۔پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن) اور نظام عدل کے منصفوں کی طرح وہ ڈرامہ بازیاں نہیں کر یگی اور نہ ہی ملک کا مذاق اڑائے گی۔پہلے روزانہ کہا کرتے تھے کہ اپوزیشن اگر احتجاج کرنا چاہتی ہے تو سٹیج اور اسلام آباد میں کھانے ،پینے کا انتظام حکومت کے ذمے ہو گا۔جب مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا تو ان کا مذاق اڑایاگیا۔جب وقت قریب آیا تو پھر بات چیت کے لئے کمیٹی بنائی۔لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ مو لانا فضل الرحمان مارچ کا آغاز کر چکے ہیں۔حکومتی بو کھلاہٹ کی حالت یہ ہے کہ عین قیام کے دوران سجدے میں گر گئی۔ جے یو آئی (ف) کے رہنما حافظ حمداللہ کی شہریت منسوخ کر دی ہے ساتھ ہی میڈیا پر ان کا داخلہ بند کر دیا ہے۔ضروری ہے کہ ان کی شہریت کی جانچ پڑتال کی جائے لیکن مو جودہ صورت حال میں ان کی شہریت منسوخ کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکومت انتقامی کارروائی کر رہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اقتدار سنبھالنے کے بعد بار ہا اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ کسی کو این آر آو نہیں دیں گے۔ نہ ڈھیل ہو گی اور نہ ہی ڈیل۔انھوں نے کئی مرتبہ کریڈت لینے کی کوشش کی ہے کہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری ان ہی کی وجہ سے جیل میں ہیں لیکن ابھی چند روز قبل صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں انھوں نے کہا کہ میں نے ان کو اند ر نہیں کیا ہے۔ میں ان کی صحت کا ذمہ دار نہیں ہوں اس لئے کہ میں کو ئی جج یا ڈاکٹر نہیں۔ابھی کل ہی پنجاب میں ان کے اتحادی چوہدری شجاعت حسین نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ میاں نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔اگر میاں نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک چلے جاتے ہیں توپھر آصف علی زرداری کا جانا بھی ٹھر گیا ہے۔گز شتہ کئی مہینوں سے حکومتی اقدامات کی وجہ سے ملک میںغیر یقینی صورتحال ہے۔ان چاہئے کہ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے بارے میں عدالتوں میں دو ٹوک مو قف اپنائے۔ساہیوال سانحہ کے ملزمان کو سزا دیں۔ جج ویڈیو سکینڈل کو کیفر کردار تک پہنچائے۔رانا ثناء اللہ کے خلاف تمام ثبوت عدالت میں پیش کریں۔مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کو روکنے کے لئے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کریں۔گزشتہ چند مہینوں سے اگر ایک طرف ملک میںتماشے جاری ر ہے۔ملک اور قوم کے ساتھ مذاق کیا جاتارہا تو دو خبریں ایسی ہیں کہ جو ملک اور قوم کے لئے باعث فخر ہیں۔افغانستان کے ساتھ برآمدات میں اضافہ اور کاروبارمیں آسانیاں پیداکرنے کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی میںبہتری۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حزب اختلاف کے ساتھ سیاست کھیلنے کے ساتھ ساتھ گورننس پر توجہ دیں۔اس لئے کہ آنے والے قومی انتخابات میں مقابلہ سخت ہو گا۔کامیابی کا تمام تر دار ومدار کارکردگی پر ہو گا۔وزیر اعظم عمران خان نے جو خواب قوم کو دکھائے تھے وہ ٹوٹتے ہو ئے دکھائی دے رہے ہیں۔اگر یہ خواب قبل از وقت بکھر گئے تو پھر قوم کو سنبھالنا ان کے لئے مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہو گا۔


ای پیپر