لو آپ اپنے دام میں صیّاد آ گیا …
28 اکتوبر 2019 2019-10-28

اپنی روز مرہ زندگی میں کوئی بھی کام بغیر پلاننگ کے کیا جائے تو انسان کو کئی سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کوئی خیال اور سوچ کو بھی بغیر ورک کے سر انجام دیں گے تو آپ اسے قطعاً عملی جامہ نہیں پہنا سکیں گے حتیٰ کہ آپ اپنی عائلی اور خانگی زندگی کو بغیر سوچے سمجھے ترتیب دیں گے تو بھی آپ کو لا متناہی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں کوئی کام یا تشکیلی صورت حال مثلاً برنس، سیاست، کاروبار ترتیب دینے سے پہلے اس پر ورک لیا جائے تو خاطر خواہ نتائج بر آ مد ہوتے ہیں اور انسان آ نے والے مسائل حتیٰ کہ بہت بڑے طوفانوں سے نبرد آ ز ما ہونے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے ۔ عمران خان نے نئے پاکستان کا عزم بلند کیا اور اس کے لیے اپنی سیاسی صورت حال کو تیز کر دیا۔ عمران خان کے عزم، حوصلے اور ایمانداری پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے اور نہ تھا۔ کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کی تعمیر نے عمران خان کو حوصلہ مند، جرت مند، بہادر اور یک نیت انسان ثابت کر دیا تھا ۔ مگر عمران خان سے سیاست میں آ کر کئی تکنیکی غلطیاں ہوئیں ہیں اور شاید عمران خان ابھی بھی سیاست کی باریکیوں اور باریک بینیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ سب سے پہلی اور اہم بات کہ عمران خان نے الیکشن لڑنے سے پہلے اپنا منشور تو پیش کر دیا مگر اس پر اپنا ہوم ورک مکمل نہیں کیا۔ یہاں عمران خان نے اپنے جذبات سے بہت کام لیا اور ایک ہی وقت میں بہت سے محاذوں پر لڑنے کی ٹھان لی۔ عوام کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا سر سبز باغ دکھا دیا۔ پچاس لاکھ نئے گھر تعمیر کر کے دینے کا وعدہ کر لیا۔ آ ئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا عزم کر لیا۔ صحت اور تعلیم کے میدان میں گراں قدر خدمات اور تبدیلیاں برپا کرنے کا ٹھان لیا۔ اور اس مسئلے کو اولین بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کروا دی ۔ مہنگائی کا قلع قمع کرنے کا پیمان باندھ لیا۔ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کا تہیہ عوام کے سامنے رکھ دیا ۔ دوسری اہم بات کہ پاکستان تحریک انصاف کے دروازے ہر خاص و عام ، سیاست دانوں کے لیے کھول دیئے۔بہت سے سیاستدان اپنے مقاصد پورے ہونے پر اپنی سیاسی پارٹیوں سے طوطی چشمی کر کے تحریک انصاف کے ستون بن گئے۔ عام زندگی میں بھی اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے والا شخص کبھی وفادار اور مخلص نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کے اندر بلکہ اس کے شعور میں اپنا الو سیدھا کرنے کے جراثیم موجود ہوتے ہیں اور موقع ملنے پر اپنی اصلیت کے پہلو دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ سو یہ دو وجوہات عمران کی ’’کریڈبلٹی‘‘ کو ڈبونے، سیاسی پوزیشن کو کمزور کرنے اور عوامی ناپسندیدگی کے لیے ہی کافی ہیں۔ اس طرح بہت سے ایسے وزیر حکومت میں شامل ہیں، جو عمران خان کی ’’سیاسی پیٹھ‘‘ میں چھرا گھونپنے کے لیے موجود ہیں۔ اسد عمر کا یہ کہنا کہ ہماری حکومت آ تے ہی پٹرول چھیالیس روپے فی لٹر دسیتاب ہو گا۔ یہ وہ کھوکھلا نعرہ نکلا کہ عوام میں بے یقینی کی لہر اور عدم اعتمادی کی فضا میں اضافہ ہو گیا ۔

اب فواد چودھری کا یہ بیان دینا کہ عوام نوکریوں کے لیے حکومت کی طرف نہ دیکھے۔ عمران خان کی حکومت کو چار شانے چت گرانے کے لیے کافی ہے۔ نوکریاں دینے سے ملک کی معیشت بیٹھ جائے گی۔ ملکی معیشت، ملکی معیشت نہ ہو ئی کسی کچے کھوٹے کی چھت ہوئی جو بیٹھ جائے گی۔ پہلے ملکی معیشت گو کونسا اتنا بڑا کندھا دے کر کھڑا کیا ہے۔ یہ واحد حکومت ہے جس کے اندر ملازموں کی تنخواہیں بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہیں اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ عام اور غریب آ دمی تو ایک طرف تنخواہ دار طبقہ بھی اس مہنگائی کی چکی میں پستا ہوا نظر آ رہا ہے۔ غریب آ دمی پیٹ کے ایندھن کو بھرنے کے لیے بلا تخصیص غلط و درست والی پالیسی اپنانے کے لیے مجبور ہے۔ ایسے حالات میں جو طالب علم ڈگریاں اپنے ہاتھوں میں تھامے منتظر فردا ہیں۔ ان کے دلوں پر فواد چودھری کے بیان نے کیا اثرات مرتب کیے ہوں گے۔ فواد چودھری کو معیشت ڈوبتی ہوئی زیادہ نظر آ رہی ہے۔ ہر دور میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے عوام اور ملک کو نقصان پہنچایا۔ آ خر فواد چودھری کے پاس کونسی ذہانت ہے جس نے فوراً بتا دیا کہ اس سے معیشت ڈوبے گی۔ اگر آپ کی حکومت نوجوان نسل کو متواتر روزگار نہیں مہیا کر سکتی تو آپ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ اگر آپ کی حکومت نے اس نوجوان نسل کو نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ہے؟ تو اٹھیں… کمر کسیں… ماڈل کارخانے لگائیں۔ فیکٹریاں لگائیں… ضلعی اور ڈویژنوں کی سطح پر چھوٹے چھوٹے یونٹ لگائیں۔ جاگیردارانہ نظام کا قلع قمع کردیں… زمینوں کو برابر تقسیم کر دیاں… لٹیروں سے مال واپس لیں… ٹیکس نادہندگان کو الٹا لٹکا دیں… بڑے بڑے محکموں کا منصفانہ آ ڈٹ کریں… ایک کروڑ تو کیا ہر پڑھے لکھے نوجوان طالب علم کو نوکری میسر ہو جائے گی اور ڈوبتی ہوئی معیشت کو تنکے کا نہیں اچھا بھلا سہارا مل جائے گا۔ نئے پاکستان کی بنیاد بھی رکھی جائے گی اور خوشحالی کا سفر بھی رواں دواں ہو جائے گا۔

جب وزیراعظم اور صدر سے لے کر عوام عوامی نمائندے تک مساوات، برابری اور رواداری کا فارمولا لاگو ہو جائے تو تمام سماجی اور معاشرتی مسائل اپنی موت آپ مر جائیں گے اور جمہوریت کی اصل روح بھی نظر آ نا شروع ہو جائے گی۔ میڈیا کے سامنے گفتگو کرنے، اخباری بیانات دینے اور پریس کانفرنسز کرنے سے ملکی اور عوامی مسائل حل نہیں ہوتے اور نہ ہی ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ فواد چودھری کے اس بیان نے عوام میں نفرت کی ایک لہر پیدا کر دی ہے اور تحریک انصاف کے مورال کو پست کیا ہے۔ فواد چودھری کا یہ بیان تحریک انصاف اور نئے پاکستان کے ماتھے پر کم عملی، سیاسی نا تجربہ کاری، خود غرضی کا ایک سیاہ دھبہ ہے جو تحریک انصاف کے مقاصد، عزائم، شہرت اور دیانت کو زوال کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ بقول نواب مصطفی خان شیفتہ

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا


ای پیپر