اعتماد کا فقدان کہاں سے کہاں تک
28 اکتوبر 2019 2019-10-28

ہم بھی کیا لوگ ہیں تھم کیوں نہیں جاتے!حالیہ دنوں میں مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ، نواز شریف کی بیماری، درخواست ضمانت کی منظوری، مریم نواز کے معاملات، آصف علی زرداری کی بیماری، ملکی سیاسی حالات نیب کا اتار چڑھاؤ، فردوس عاشق اعوان اور شیخ رشید مورت کی شعلہ بیانیاں، حکومتی ٹیم کی مولانا کے در پر دستک موضوع بحث رہے۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے مجھے آرمینیا کے شاعر کی بات کہ اللہ نے جب کسی غریب کو راضی کرنا ہو تو صبح اس کا گدھا گم کروا دیتا ہے اور شام کو ڈھونڈوا دیتا ہے۔ امریکہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کو 80 لاکھ افراد کی شدید متاثر زندگیوں کے لیے اقدامات،جبکہ پاکستان کے لیے پرانے احکامات ہی دوبارہ جاری کیے گئے۔ ہم کشمیر پر سے کرفیو اٹھا نہ اور پرانا سٹیٹس بحال کرنے کو مقبوضہ کشمیر میں کامیابی سے تعبیر کرنے لگے خبریں بھی مچھلیوں کی طرح جیسے بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا جاتی ہے ویسے ہی بڑی خبریں چھوٹی خبروں کو کھا جاتی ہیں۔ غیر منتخب لوگوں کا حکومتی بنچوں پر ہونے کی وجہ سے آمریت کی عملی صورت گری کر دی گئی، حکومت نوٹنکی اور میگا تھیٹر بن کر رہ گئی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے ڈائریکٹر نے اس بار پروڈکشن میں نئے چہروں کے ساتھ پرانے ایکسٹرا ڈال کر کام چلانے کی کوشش کی ہے جو وقفہ سے پہلے ہی بری طرح فلاپ ہو گئی ہے اس بری طرح کہ دوسرے ہاف میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

معروف چینلز کے مہا کلا کار عوام کو ورغلاتے ہیں اور بعد میں معذرت معافی مانگ کر اپنے تئیں اپنے آپ کو بڑا اعلیٰ طرف ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کچھ تو واقعی دھوکہ کھا گئے مگر کچھ سکرپٹ کے مطابق کام کر رہے ہیں اور ایسے اداکار ہیں کہ اصلی دانشور دکھائی دیتے ہیں۔ سازش یہ ہے کہ پوری قوم کو ٹی وی کے سامنے بٹھا دیا گیا ہے۔ چینلز کی بھرمار اور خبروں کے انبار پر لوگ اعتبار نہیں کرتے اعتبار کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ پٹرول پمپ پر پٹرول ڈالنے والا کھڑکی پر دستک دے کر میٹر کی طرف توجہ دلواتا ہے کہ دیکھ لیں اسے معلوم ہے کہ اس پر اعتماد نہیں اور پٹرول ڈالوانے والا بھی نظریں گاڑ لے گا کہ اس پر بھروسہ نہیں جبکہ واردات تو میٹر کی سپیڈ اور پٹرول میں ملاوٹ کی صورت ڈل چکی ہوتی ہے یہی حالت غور سے خبریں سننے کی ہے۔ پوری قوم کو علم ہے کہ فیصلہ سازی کا اختیار سٹیج پر اداکاری کرنے والوں کے پاس نہیں۔

جناب بھٹو اور محترمہ بی بی شہید تو آج تک دفنائے نہ جا سکے حتیٰ کہ زرداری صدر بن گئے۔اگر اب کوئی طبی قتل ہو گیا تو ملک کے ساتھ بہت بڑا سانحہ ہو گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہو گا کہ نواز اور زرداری ٹھکانے لگے تو پھر راوی چین ہی چین لکھے گا مگر تاریخ گواہ ہے کہ چہرے بدلتے رہتے ہیں کردار جاری رہتے ہیں کرپشن کی نات نہیں ۔ دراصل ماجرا کچھ اور ہے جو وزیر داخلہ کہتا ہے تین چار لوگ نہ ہوتے تو حکومت (ن) لیگ کی ہوتی۔

اعتماد کا فقدان کا ہے کہ ’’وزیراعظم‘‘ عمران خان کو ٹرمپ سے کہنا پڑا کہ پاکستان جو کہے گا کرے گا اور غلط بیانی نہیں کرتا جس پر ٹرمپ نے وزیراعظم کو تمسخراور تکبر سے دیکھ کر کہا اچھا تو پھر اس کا مطلب سی آئی اے غلط کہتی ہے گویا پٹرول ڈالنے والے سے لے کر وزیراعظم تک اس احساس میں مبتلا ہیں کہ لوگ اعتماد نہیں کرتے۔ دوسرا سوشل میڈیا ہے جس میں خوبیوں خامیوں کا امتزاج ضرور ہے لیکن ایسازمانہ آ گیا کہ عزت بچی کسی نہ کوئی قابل بھروسہ رہا اس کی ذمہ دار حکومت ہے جو غیر سنجیدہ اقدامات، نفرت پر مبنی پالیسیوں اور سیاست میں مبتلا ہے۔ نیب قوانین کی ہی مثال لے لیں جو پوری دنیا کے قوانین سے میل نہیں کھاتے۔ الزام لگانے والا ثابت نہیں کرے گا ملزم ثابت کرے گا کہ الزام غلط ہے۔ گرفتاری پہلے اور تفتیش بعد میں ہو گی ۔ 90 دن کا ریمانڈ جنگی قیدی کا بھی نہیں ہوتا دنیا کے کسی قانون میں ایسا نہیں، نیب کی عدالتیں ہی الگ بنا دی گئیں۔

حکومت جس میں اکثریت پرانے اداکاروں کی ہے، اپوزیشن کی سابقہ حکمران جماعتوں کو طعنہ دیتی رہی کہ آپ نے ترامیم کر کے نیب قوانین انسانی بنیادی حقوق اور دیگر ملکی قوانین کے مطابق نہیں بنائے۔

13 ماہ سے اوپر بحث کے بعد آرڈیننس آیا جس میں نیب کے 5 کروڑ سے اوپر کرپشن کے مقدمہ والے کو چاہے وہ کسی بھی سٹیج پر ہو جیل میں سی کلاس دی جائے گی یعنی کوئی حجاب ہی نہیں رکھا کہ یہ آرڈیننس اپوزیشن کے لیے ہے ۔ جناب بھٹو کی شہادت کو عدالتی قتل، محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کو دہشت گردی کی آڑ میں قتل اور اللہ نہ کرے کوئی مزید حادثہ ہو گیا تو نواز شریف کی شہادت کو کل کے مؤرخ کو طبی قتل لکھنے سے کوئی روک نہ پائے گا۔ بیماریوں اور رشتوں کا مذاق اڑانے والوں نے جب دیکھا کہ میاں صاحب کی حالت واقعی تشویشناک ہے تو حکومتی بنچوں پر بعض نے سنجیدگی کا اظہار کیا۔ فردوس عاشق اعوان اور شیخ رشید تو شاید مافوق الانسانیت سیاست دان شمار ہیں۔ حکومتی ’’دانشور ‘‘، ڈیل فنطنی، درفنطنی، شرفنطنی اور در فنطنیاں چھوڑ لیں دراصل حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف اور زرداری کسی قیمت پر NRO یا ڈیل نہیں چاہتے ۔ واقفان حالات جانتے ہیں کہ صورت حال کیا ہے این آر او ہمیشہ حکومتوں کا مسئلہ ہوتا ہے جو حکومت اور جس کا وزیراعظم پارلیمنٹ میں منتخب اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتا، بات نہیں کرتا وہ غیر منتخب اپوزیشن کے رہنما جس کی تذلیل کی کوئی حد نہ رہی مولانا فضل الرحمن کے در پر دستک دینے چلے گئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک استقلال سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والے میاں محمد نواز شریف نے سیاسی منازل اقتدار کی راہداریوں اور کرسیوں سے طے کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ حاصل کی مگر حقیقت یہی ہے کہ 1993ء میں اسحق خان کے ہاتھوں ختم ہونے والی حکومت کے بعد میاں صاحب اور اسٹیبلشمنٹ میں اعتماد کا وہ معیار باقی نہ رہا اور مشرف دور کی سختی کے بعد تو بالکل راہیں جدا ہو گئیں۔ چارٹر آف ڈیموکریسی نے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو ہلا کر رکھ دیا آج ملک میں اعتماد کا فقدان ہی نہیں قتل عام ہو چکا۔ ٹی وی چینلز کی برمار نے عوام کو شعوری طور پر غلام بنا دیا گیا۔

اس حق میں ہوں کہ عمران خان کی حکومت مدت پوری کرے تا کہ کوئی کسر باقی نہ رہے۔ تبدیلی کا موقع دیا جائے اسی طرح میں اس حق میں بھی ہوں کہ جو پیسہ اگر کرپشن کا ہے ملک سے باہر ہے واپس لایا جائے اور بقول شیخ رشید کے دہاڑیاں تو سبھی نے لگائی ہیں لہٰذا ملک کے اندر بھی کرپشن کا پیسہ خزانے میں جمع ہو ۔ مگر احتساب اور انتقام فرق مٹ چکا ۔

چند اینکرز اور رائے سازی کرنے والے جو کسی نہ کسی ایجنڈے پر ہیں۔ عوام کو اندھا اور بیوقوف بنانے کے چکروں میں ہیں مگر وہ دن دور نہیں جب سیاست دانوں ، حکمران طبقوں مذہبی سکالروں کی طرح ان کی اصلیت بھی عوام کے سامنے ہوبلکہ عیاں ہو چکی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کے حق میں بولنے والوں کے یوٹرن عمران خان حکومت کے یوٹرن کی نوید دے رہے ہیں۔ انتہائی ظلم اور شعوری استحصال ہے کہ لوگوں کے ساتھ ہر سطح پر ہر زبان میں اتنا جھوٹ بولا گیا کہ آج ملک کے عوام اعتماد کے فقدان میں مبتلا ہو چکے ہیں لہٰذا سب سے پہلے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔


ای پیپر