حکومت نواز شریف کی زندگی کی گارنٹی نہیں دے سکتی: عمران خان
28 اکتوبر 2019 (13:43) 2019-10-28

ننکانہ صاحب: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں اپنی زندگی کی گارنٹی نہیں دے سکتا تو نواز شریف کی زندگی کی کیسے دے سکتا ہوں۔ ہم صرف کوشش کرسکتے ہیں گارنٹی کوئی بھی انسان نہیں دے سکتا۔ ہم نے نواز شریف کو بہترین علاج فراہم کرنے کی پوری کوشش کی۔

ننکانہ صاحب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر داخلہ کو آج کے دن مبارکباد دیتا ہوں۔ بابا گورنانک کی 550 ویں سالگرہ پر یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی ہے جو سکھ برادری کیلئے تحفہ ہے۔ چاہتا ہوں اوقاف کی ہر زمین پر یونیورسٹی اور ہسپتال بنایا جائے، ہمیں اوقاف کی زمین پر یونیورسٹی اور ہسپتال تعمیر کرکے ان سے فائدہ اٹھانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام بزرگ دنیا میں انسانیت کی فلاح کیلئے آئے تھے، ان بزرگوں نے ساری عمر انسانیت کی خدمت کی اسی وجہ سے ان کا نام آج زندہ ہے۔ لوگ آج بھی ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی درگاہوں پر حاضری دیتے ہیں۔ دنیا میں عزت صرف اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ عزت اسی کو دیتا ہے جو انسانیت کیلئے اچھے کام کرتا ہے۔ نبی پاک ﷺ ہم سب کیلئے ایک روشن مثال ہیں۔ نبی پاک ﷺ جب دنیا سے گئے تو ان کے پاس جو پیسے تھے وہ تقسیم کرکے گئے تھے۔ دنیا بھر کے مسلمان آج بھی نبی پاک ﷺ سے بھرپور محبت کرتے ہیں۔

کرتارپور سکھ برادری کیلئے انتہائی متبرک مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ ننکانہ صاحب کی بھی سکھ برادری کیلئے انتہائی خاص اہمیت ہے۔

مدینہ کی ریاست کی بات اس لئے کرتا ہوں اسے نبی پاک ﷺ نے بنایا تھا، نبی پاک ﷺ کے اصول روشن مینار ہیں جس سے ہم بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہم ریسرچ کرائیں گے آخر وہ کیا اصول تھے جس سے مدینہ کی ریاست سب سے معتبر تھی۔ کوئی قوم کبھی بڑی نہیں بن سکتی جس میں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی، پاکستان میں طبقاتی قانون ہے، امیر کیلئے الگ اور غریب کیلئے الگ ہے۔ یہی وجہ ہے اللہ کی برکت ہمارے لئے نہیں آتی۔ مدینہ کی ریاست ایک دم نہیں بنی اس کے پیچھے ایک جدوجہد تھی، نبی پاکﷺ رحمت اللعالمین ہیں، وہ تمام انسانوں کے نبی ہیں۔

تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، گزشتہ حکومتوں نے تعلیم کو ترقی نہیں دی جس کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے۔ ہمیں مدارس کو قومی دھارے میں لانے کیلئے تعلیم کا نظام درست کرنا ہے۔ وزیر تعلیم شفقت محمود کی ذمہ داری ہے ساری قوم کیلئے ایک نصاب ہو۔ کسی بھی ملک میں مختلف قسم کے نصاب نہیں چلتے، ہم نے اپنے تعلیمی نظام کو ٹھیک کرنا ہے۔

میں نے جب پہلی تقریر کی تو ایک پیش گوئی کی تھی، میں نے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب پاکستان کے سارے کرپٹ اکٹھے ہو جائیں گے۔ پہلے میثاق جمہوریت دستخط کرو پھر مل کر ملک کو لوٹو۔

ہم نے ایک سال میں جتنا قرض اکٹھا کیا آدھا ٹیکس ان کے قرضوں کی قسط میں چلا گیا۔ انہیں پتہ تھا یہ ملک کو کنگال کرکے گئے ہوئے ہیں۔ ریلوے، پی آئی اے سمیت تمام اداروں کے بڑے خسارے ہیں۔ انہیں یہ خوف نہیں کہ حکومت ناکام ہو رہی ہے بلکہ یہ خوف ہے حکومت کامیاب ہو رہی ہے۔ یہ کہیں جا کر کہتے ہیں یہودی پاکستان پر قبضہ کرنے لگے ہیں۔

سب سے کم مہنگائی تحریک انصاف کے پہلے سال میں ہوئی ہے۔ پہلے دن سب نے مل کر شور مچایا حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ ان سب نے مل کر پاکستان کو لوٹا ہے۔ ابھی تک ان پر ہمارے دور کے کیسز نہیں بنے بلکہ پرانے کیسز چل رہے ہیں۔ انہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں چاہے مل کر مارچ کریں، انہیں نہیں چھوڑوں گا۔ جب تک میں زندہ ہوں آپ کو این آر او نہیں ملنے لگا۔ ایک شریف خاندان ہے جسے پرویز مشرف نے این آر او دیا تھا، دوسرے آصف زرداری کو این آر او دیا گیا تھا۔

ہم سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں آسانیاں پیدا کر رہے ہیں، کوئی ملک ٹیکس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ فکسڈ ٹیکس کیلئے تیار ہیں۔ ایک سال مشکل وقت ہم نے گزارا ہے، یہ ملک اب تیزی سے بڑھے گا۔ ہم نے پورا زور تعلیم پر دینا ہے، جو بچانا ہے اسے تعلیم پر خرچ کرنا ہے۔


ای پیپر