Multan Jalsa and Government in Action
28 نومبر 2020 (15:52) 2020-11-28

ملتان :ملتان میں تیس نومبر کو ہونے والے جلسے سے قبل ہی حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان جلسہ گاہ میدان جنگ بن گیا ۔

ملتان میں سیاسی پارہ ہائی ،انتظامیہ کی اجازت نہ ملنے کے باوجود اپوزیشن جماعتیں قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسہ کرنے  پر بضدہے ،جیالے اور متوالے موسیٰ گیلانی کی قیادت میں سکیورٹی بیریئر توڑتے  کنٹینر پھلانگتے  جلسہ گاہ میں داخل ہو گئے ،انتظامیہ اور پولیس والے تماشائی بنے رہ گئے ،پی ڈی ایم کارکنوں  نے قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیدیم پر قابض کارکنوں نے  اسٹیڈیم کا دروازہ بھی توڑ ڈالا ،، ہر صورت میں جلسہ کرنے پر بضد ہوگئے ۔

تفصیلات کے مطابق ملتان جلسہ گاہ پر جانے کیلئے علی موسیٰ گیلانی کی قیادت میں ریلی کے شرکا نے جلسہ گاہ پر دھاوا بول دیا ،ریلی کے شرکا نے اُس وقت جلسہ گاہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جب حکومت کی طرف سے جلسہ گاہ جانے کیلئے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تھی ،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی طرف سے موسی گیلانی اور علی حیدر گیلانی نے کارکنان کو لیڈ کرتے ہوئے قاسم باغ سٹیڈیم میں ہونے والے جلسے کیلئے تمام رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے سٹیج پر قبضہ کر لیا ،ان کا کہنا تھا کہ دو  روز بعد ہونے والے پی ڈی ایم جلسے کیلئے تیاریاں کرنے کیلئے یہ ایکشن لیا گیا ہے ،جلسہ ہونے تک ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکن سٹیڈیم میں موجود رہینگے ۔

ریلی کے شرکا نے جلسہ گاہ کے اطراف میں رکاوٹیں ہٹا دیں ،تالہ توڑ کر سٹیج پر قبضہ کر لیا ،حکومت نے قانونی  راستہ اختیار کرتے ہوئے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ن لیگی اراکین اسمبلی کیخلاف مقدمہ درج   کر لیا ،مقدمہ میں ایم این اے عبد الرحمن کانجو ،ایم پی اے جہانگیر سلطان بھٹہ اور درجن سے زائد نامعلوم ملزمان نامزد کر دئیے گئے ہیں ۔


ای پیپر