Pakistan, education departments, factories, markets, pandemic
28 نومبر 2020 (12:27) 2020-11-28

وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فیکٹریاں ، کاروبار بند نہیں کریں گے۔ کرونا سے بچاتے ہوئے لوگوں کو بھوک سے نہیں ماریں گے۔ اس وقت یورپ اور انگلینڈ میں مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا ہے لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ہم اپنے دیہاڑی دار طبقے کو بے روزگار نہیں کر سکتے۔ سب سے کہوں گا کہ ایس او پیز پر عمل کریںاور سب سے آسان ماسک پہننا ہے۔ جنابِ وزیرِ اعظم کے یہ ارشادات یقینا قابل قدر ہیں لیکن کیا دو دن قبل وفاقی وزیرِ تعلیم جناب شفقت محمود کی طرف سے صوبائی وزرائے تعلیم سے مشاورتی اجلاس کے بعد تمام سطح کے تعلیمی اداروں ، جن میں پرائمری، مڈل اور ہائی سکول ، انٹرمیڈیٹ، ڈگری اور ماسٹر سطح کے کالج اور اعلیٰ تعلیم کی یونیورسٹیاں وغیرہ شامل ہیں ،کے 26 نومبر 2020ء سے 10جنوری2021ء تک بند کرنے کا جو فیصلہ سامنے آیا ہے وہ وزیرِ اعظم کے ان ارشادات سے مطابقت رکھتا ہے یا جنابِ وزیرِ اعظم کے خیالات ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی کم و بیش ڈیڑھ ماہ بندش کے اس فیصلے کے بالکل خلاف نہیں ہیں۔ جناب وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ کرونا سے بچاؤ کے لیے لوگوں کو بھوک سے نہیں ماریں گے۔ یا اُن کا ارشاد ہے کہ سب ایس او پیز پر عمل کریں اور سب سے آسان ماسک پہننا ہے ۔ تو کیا تعلیمی اداروں کی بندش سے ایک بڑے طبقے کا بے روزگار ہونا اور بھوک سے مرنا سامنے نہیں آتا ہے؟ یا کیا یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت نہیں ہے کہ تعلیمی اداروں کی گزشتہ گرمیوں میں طویل بندش کے بعد 15ستمبر کو ان کے کھل جانے سے اب تک تقریباً اڑھائی ماہ کے عرصے میں ایس او پیز کی سب سے زیادہ پابندی تعلیمی اداروں میں ہی نہیں ہوئی ہے؟ 

حکومت کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ جو چاہئے فیصلے کرے لیکن اتنا تو ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ جو فیصلے کیے جا رہے ہیں کیا وہ معقول ہیں اور درپیش صورتحال اور برسر زمین حقائق سے مطابقت رکھتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے موجودہ فیصلے کو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے معقولیت اور برسرِ زمین حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ یہ درست ہے کہ طالب علموں خواہ وہ بچیاں ہوں یا بچے، چھوٹے ہوں یا بڑے، جوان ہوں یا یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس ہوں ان کی جانیں بہت قیمتی ہیں اور ان کی جانوں سے کھیلنے کی یا انہیں خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں ہو سکتی۔ لیکن کیا تعلیمی اداروں کو کھلے رکھنے سے یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ نئی پود او ر نوجوان نسل کی جانوں کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ کیا تعلیمی اداروں کی بندش سے یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ اس سے طالب علموں کی جانوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے؟ یا کیا تعلیمی اداروں کی بندش سے نئی پود بالخصوص نوجوان نسل اپنی معاشرتی زندگی، جس میں مل جل کر رہنا، اُٹھنا بیٹھنا، میل ملاپ، باہمی رابطے اور تعلق تعلقات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ،سے مکمل طور پر لاتعلق ہو سکتی ہے۔ یقینا ایسا نہیں ہو سکتا۔ باہمی رابطوں، عزیزوں اور دوستوں سے ملنے ملانے، ایک دوسرے کی طرف آنے جانے اور ساتھ اُٹھنے بیٹھنے پر جب کسی صورت بھی قدغن نہیں لگائی جا سکتی ہے تو پھر کیا یہ بہتر راہ نہیں تھی کہ ایس او پیز اور کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر سختی سے پابندی کی تلقین اور مانیٹرنگ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کی بندش کے بجائے ان کے حسب سابق تعلیمی سرگرمیوں کے لیے کھلا رکھنے کے فیصلوں کو ترجیح دی جاتی۔

کیا تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا گیاہے کہ تعلیمی ادارے جو 15مارچ سے 15ستمبر تک 6ماہ بند رہنے کی وجہ سے بے پناہ نقصانات اور طلبا و طا لبات کے بڑے تعلیمی حرج کا سامنا کر چکے تھے اس نئی بندش سے انہیں مزید اور کتنے نقصانات اور اپنے یہاں زیرِ تعلیم طلبا و طا لبات کے کتنے تعلیمی حرج کا سامنا کرنا ہوگا۔ 15مارچ سے 15ستمبر تک 6ماہ کی بندش کے حوالے سے تعلیمی اداروں کے مالی اور معاشی نقصانات اتنے زیادہ تھے کہ جہاں کئی تعلیمی ادارے اپنے ملازمین بالخصوص اساتذہ کو اپنے ہاں نوکری سے فارغ کرنے پر مجبور ہوئے وہاں کئی تعلیمی ادارے اپنے وجود کو بھی برقرار نہ رکھ سکے۔ اس بندش کے دوران طلبا و طلبات کے تعلیمی حرج کے حوالے سے یہ گنجائش تھی کہ اس دوران گرمیوں کی آٹھ دس ہفتے کی چھٹیاں، دونوں عیدین کی تعطیلات اور میٹرک اور انٹرمیڈیٹ اور ان سے نچلی جماعتوں کے امتحانات کے انعقاد کا اڑھائی تین ماہ کا عرصہ بھی بیچ میں آیا۔ اس طرح تعلیمی حرج زیادہ پریشان کن یا خوفناک محسوس نہ ہوا۔ البتہ اب جو تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے یہ تعلیمی حرج کے حوالے سے گہرے اور وسیع منفی اثرات کا حامل گردانا جا سکتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ تعلیمی سال کا نومبر تا جنوری فروری تین چار ماہ کا عرصہ تعلیمی اداروں بالخصوص سکولوں میں پڑھائی، کورسز کی تکمیل اور امتحانات کی تیاری اور انعقاد کے حوالے سے ہمیشہ سے انتہائی اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔ اب طلبا و طا لبات جب تعلیمی اداروں میں حاضری سے محروم رہیں گے تو خواہ انہیں آن لائن ٹیچنگ کا موقع کیوں نہ مل رہا ہو وہ کسی صورت میں بھی اپنے کورسز کی پڑھائی ، تکمیل اور امتحانات کی تیاری اس طرح نہیں کر سکیں گے جس کی امتحانات میں اچھی کارکردگی یا تعلیمی درجے کے مطابق مطلوبہ ذہنی اور علمی استعداد اور قابلیت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ 

جنابِ وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں جس کا شروع میں حوالہ آیا ہے ارشاد فرمایا ہے کہ کاروبار، روزگار اور فیکٹریاں بند نہیں کھلے رہیں گے۔ اب اس کا دوبارہ حوالہ کچھ ایسا غیر متعلقہ نہیں ہوگا کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے کئی طبقات کا روزگار یا کاروبار خطرات کا شکار ہو جاتا ہے۔ سرکاری اور پبلک سیکٹر کے تعلیمی اداروں اور ان سے منسلک اساتذہ اور دوسرے ملازمین کا معاملہ مختلف ہے کہ تعلیمی ادارے کھلے ہوں یا بندش کا شکار ہوں ان سے منسلک اساتذہ اور دیگر ملازمین کی ملازمتوں اور تنخواہوں میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں پڑتی۔ پرائیوٹ سیکٹر کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے کہ اداروں کی بندش کی صورت میں والدین جو خود بھی موجودہ ملکی صورتحال کی وجہ سے مالی پریشانیوں کا شکار ہیں اپنے بچوں کی فیسیںاور دیگر واجبات جمع کرانا اپنے لیے بھاری بوجھ سمجھتے ہیں اس طرح نجی تعلیمی ادارے جن کا انحصار مکمل طور پر اپنے ہاں زیرِ تعلیم طلبا و طا لبات کی فیسوں پر ہوتا ہے وہ مالی مشکلات کا سامنا کرنے کی وجہ سے اپنے ہاں کے ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ اور دیگر ملازمین کی ایک معقول تعداد بے روزگاری کا شکار ہو جاتی ہے۔ بات اسی پر ختم نہیں ہوتی تعلیمی اداروں سے معاشرے کے کئی اور طبقات کا روزگار بھی وابستہ ہے۔جن میں سٹیشنری ، کتابوں اور یونیفارم کی دکانیں، پک اینڈ ڈراپ کی سروس مہیا کرنے والے کیری ڈبوں یا دوسری گاڑیوں کے ڈرائیور اور مالکان اور اسی طرح کے کئی اور لوگ شامل ہیں ۔بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ 

تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے کون کون سے منفی پہلوؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان سب کا ایک کالم میں ذکر کرنا آسان نہیں تاہم آخر میں ایک پوسٹ یا تحریر کو نقل کرنا چاہوں گا جو میرے ایک محترم دوست، سابق رفیقِ کار اور پنڈی کے معروف ماہر تعلیم اور صاحبِ درد بزرگ استاد محترم ظفر صدیقی نے مجھے بھیجی ہے جو کچھ اس طرح ہے۔ ’’غیر منطقی ، غیر حقیقی اور بدنیتی پر مبنی سکولوں کی بندش دُشمنان تعلیم کے مکروہ اور قابلِ مذمت عزائم کا پردہ چاک کر رہی ہے۔ بازار کھلے ہیں، شاپنگ مالز کھلے ہیں، ریسٹورانٹ کھلے ہیں، دکانیں کھلی ہیں، مارکیٹیں کھلی ہیں، منڈیاں اور تمام تجارتی مراکز کھلے ہیں، شادی ہالز کھلے ہیں، کلینک اور حکیم خانے کھلے ہیں، ملیں، فیکٹریاں اور ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع کھلے ہیں، ائیر پورٹس کھلے ہیں، بندرگاہیں کھلی ہیں، کھیتوں میں کسان سکون سے ہل چلا رہے ہیں، فیکٹری ورکرز اپنے معمول کے مطابق جاب پر ہیں، سرکاری ملازمین پوری تنخواہیں لے رہے ہیں، پوری کی پوری انڈسٹری کھلی ہے، سیاست کا بازار پوری آب و تاب سے کھلا ہے، تمام معاشی سرگرمیاں جاری ہیں اور اگر اس ملک میں کوئی بد نصیب اور گنہگار ہے جس کی روزی روٹی بند کرنا ضروری ہے تو یہ اُستاد ہے۔ ملک میں جن 


ای پیپر