Nation, progress, women, world, Pakistan
28 نومبر 2020 (12:09) 2020-11-28

اخبار میں چھپنے والی ایک خبر نے چونکا دیا۔ خبر کچھ یوں تھی کہ بہاول نگر کی پٹرولنگ پولیس کا ایک جوان ،انصر وٹو کسی حادثہ میںشدید زخمی ہو گیا ۔اُسے ہسپتال پہنچایا گیا۔ ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے اُسے تقریباً تقریباً یقین ہو گیا تھا کہ وہ نہیں بچ سکے گا۔ اُس نے اپنی بیوی جو بمع بچوں کے اُس کے پاس بیٹھی تھی کو کچھ وصیت نُما نصیحتیں کیں اور اُسے کہا کہ میرے مرنے کے بعد ان پر عمل کرنا۔بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھنا، اُنہیں اچھا انسان اور نیک سیرت بنانے کی کوشش کرنا۔ایک اور بات جو اس نے اپنی بیوی سے بڑے پُر زور انداز میں کی ، وہ یہ تھی کہ گھر سے کسی صورت باہر نہ نکلنا ۔ میرے مرنے کے بعد کئی لوگ آپ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آئیں آپ کی مالی امداد کا کیس بنواتے ہیں یا آپ کے دوسرے مسائل حل کراتے ہیں۔ یہ لوگ کسی نہ کسی بہانے آپ کا استحصال کرینگے۔ بس کسی صورت بھی گھر سے باہر نہیں جانا ۔ اپنے محدود وسائل میں گزارا کر لینا ۔میں انصر وٹو کی سٹریٹ وزڈم (street wisdom ) سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ کتنا سچ تھا اُس کی باتوں میں۔مجھے انصر وٹو کی باتوں سے وہ بیوہ یاد آگئی جو میرے دفتر میںبیٹھے اپنی کہانی سناتے ہچکیوں سے رونے لگ گئی تھی۔ میں بطور ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس اپنے دفتر واقع لاہور میں بیٹھا ہوا تھا کہ چپڑاسی نے ایک چٹ لا کردی جس پر لکھا تھا ’’ بیوہ ۔۔۔وائلڈ آفیسر ڈسٹرکٹ ۔۔۔ ‘‘۔ میں نے اسے فوری بلوایا۔ کہنے لگی میرے خاوند تقریباًچھ ماہ پہلے دوران سروس وفات پا گئے ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو پڑھ رہے ہیں۔ ایک ہی کمانے والا تھا جو ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ اُس کی تنخواہ ہی ہماری واحد آمدن تھی جو اُس کے مرنے کے بعد بند ہو گئی۔ چھ ماہ سے پنشن بنوانے کی کوشش کر رہی ہوں ۔ کبھی اس دفتر اور کبھی اُس دفتر۔بڑی مشکلوں سے اپنا کیس آپ کے دفتر پہنچا ہے۔ کئی اضلاع گزر کر آپ کے 

پاس پہنچی ہوں۔ اب میں بہت تھک چکی ہوں ، مجھ پر مہربانی کر دیں۔ میں اُس کی کہانی سن کر پریشان سا ہو گیا۔ میں نے اُس سے کہا کہ آپ کا کیس اب میری ذمہ داری ہے ، آپ چائے پئیں اور واپس گھر چلی جائیں۔ آپ کا پی پی او (PPO ( آپ کے پاس پہنچانا اب میری ڈیوٹی ہے۔میری یہ بات سن کر اس نے چائے کا کپ میز پر رکھ دیا اور ہچکیوں سے رونے لگ گئی۔ کہنے لگی کیا بتائوں میں ساری زندگی کسی دفتر نہیں گئی تھی، بس بچوں اور خاوندکے ساتھ پُر سکون زندگی گزار رہی تھی ۔ اب جو فیملی پنشن کے لیے دفتروں میں جانا پڑا تو مجھ پر جو گزری اس نے مجھے توڑ کر رکھ دیا۔ یوں لگا جیسے تقریباً ہر دفتر میں چھوٹا بڑا ہر ملازم ایک بیوہ کی مجبوری و بے بسی کا فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے۔ دُکھ کی بات یہ کہ یہ وہ محکمہ ہے جس میں میرے خاوند نے اپنی ساری عمر گزار دی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب بڑا سیدھا اور واضح ہے۔ اگر آپ بغور اپنے معاشرہ کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ہمارے ملک میں کتنی واضح ’’ صنفی تفریق (Gender Gap  ) ‘‘ ہے۔صنفی تفریق کو ذرا واضح کرتا چلوں ! صنفی تفریق یہ ہے کہ آپ نے اپنے معاشرے کی ہرفیلڈ (Field) میں خواتین کے لیے کیا معیارمقرر کر رکھے ہیں اور مردوں کے لیے کیا۔ مثلاً آپ نے خواتین کو اپنے ملک میں تعلیم سے کتنا دور رکھا ہوا ہے۔ اولاً تو اس ملک میں مردوں کا لٹریسی ریٹ (literacy rate ) بھی انتہائی مایوس کن ہے لیکن خواتین کی واضح اکثریت کو تو آپ نے بنیادی تعلیم سے بھی کوسوں دور رکھا ہوا ہے، کہاں کوالٹی ایجوکیشن کی باتیں۔جب آپ کا معاشرہ خواتین کو تعلیم کے نزدیک نہیں پھٹکنے دیتا تو انہیں معاشی سرگرمیوں میں کیا مواقع مل سکیں گے، فیصلہ سازی میں ان کا عمل دخل کیا ہو گا۔جہالت اور غربت ان کا مقدر ۔ بھیڑ بکریوں کی طرح وہ بھی ایک خاندان کا حصہ ہونگی۔ بھیڑ بکریوں کی طرح تشدد اُن کا مقدر۔خاندان میں بچے پیدا کرنے والی مشینیں، اُس میںبھی اُن کا کوئی اختیار نہیں کہ کتنے بچے پیدا کرنے ہیں ۔ اگر بیٹا پیدا نہیں ہوا تو سات آٹھ بچے پیدا کرنے میں بھی انہیں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کو معلوم ہے آپ کے ملک کا دنیا کے بڑی آبادیوں والے ممالک میں چھٹا نمبر ہے اور اوسطاً ہر عورت 3.8 بچے پیدا کرتی ہے۔صحت کی سہولیات تک اُن کی رسائی کتنی ہوتی ہے وہ کسے معلوم نہیں ۔پنڈ یا گائوں کا کوئی نیم حکیم یا کسی ڈسپنسری کا کوئی ڈسپنسر، اُن کی جان لیوا بیماریوں کا علاج کرتا ہے۔انصر وٹو نے اپنی بیگم کو کسی کے ساتھ باہر جانے سے کیوں منع کیا تھا اور وہ مرحوم وائلڈ لائف آفیسر کی بیوہ کیوں روتی پھرتی تھی ، وہ اس لیے کہ اس ملک کے ہر دفتر میں تو مرد ہی مرد بیٹھے ہیں، عورت کا تو کہیں نام و نشان ہی نہیں ۔ کیا یسا ماحول کسی عورت کے لیے حوصلہ افزا ہو سکتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس کا دفتر جہاں وہ بیوہ اپنے خاوند کا پنشن کیس لیے پھرتی تھی ایک صوبائی سطح کا بڑا دفتر ہے لیکن آپ حیران ہونگے کہ اس دفتر میں ایک بھی خاتون کام نہیں کرتی تھی۔ ہمارے ملک میں زندگی کی ہر فیلڈ میں صنفی تفریق کا gap بہت وسیع ہے۔ذہن میں یہ واضح رکھیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں صنفی برابری بنیادی عنصر کی حیثیت کا حامل ہے۔دنیا میں ایک Global Gender gap index ہے جس میں ایک سو ترپن (153) ممالک کی رینکنگ کی گئی ہے ۔ ہمارے ملک کا نمبر اس رینکنگ میں 151 ہے ، یعنی دنیا کے صرف دو مما لک ہمارے سے نیچے ہیں اور وہ ہیں یمن اورعراق۔ دونوں جنگوں کے مارے۔اب آپ خود ہی بتائیں ہمارا ملک ترقی کی دوڑ میں کہاں کھڑا ہے۔آپ ذرا اپنے صوبہ پنجاب ہی پر نظر ڈال لیں ۔ اس صوبہ میں چھتیس (36) اضلاع ہیں ۔ ان میں سے کتنے اضلاع میں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خواتین ہیں ۔ یہ ہے اس ملک کی صنفی تفریق کی صورت حال۔ اس 


ای پیپر