Anti-elephant technology, PML-N, PPP, Nawaz Sharif, Yousaf Raza Gillani
28 نومبر 2020 (11:51) 2020-11-28

انسان قد میں ہاتھی سے بہت چھوٹا ہے مگر ہسٹری پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ چھوٹے انسانوں نے بڑے ہاتھیوں سے بڑے کام لیے جن میں زیادہ تر جنگ کے دنوں میں دشمن کو تباہ و برباد کرنا اور امن کے دنوں میں سواری اور کاشت کاری وغیرہ شامل تھے۔ تاہم پاکستانی سیاست میں سیاسی ہاتھیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا گیا جسے یہاں ’’اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی‘‘ لکھا جارہا ہے۔ اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی کی اِس نئی اصطلاح کی تشریح سے پہلے چھوٹے انسانوں کے بڑے ہاتھیوں سے لیے جانے والے کاموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ تقریباً ساڑھے چار ہزار برس پہلے موجودہ شام، عراق، کویت، ترکی اور ایران کے علاقوں میں ہاتھیوں کو کاشت کاری کی طاقتور مشین کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ ہاتھیوں کے لڑاکا یونٹ کا سب سے پہلا استعمال چارسو برس قبل مسیح میں ہندوستان میں کزن رشتہ داروں کے درمیان لڑی جانے والی اقتدار کی جنگ میں ہوا جس کا ذکر مہابھارت اور رامائن میں کیا گیا ہے۔ ہاتھیوں کے لڑاکا یونٹ کے جنگ میں استعمال کا دوسرا بڑا حوالہ دوسو برس قبل مسیح میں رومنز اور ہینی بل کے درمیان لڑی جانے والی پیونک جنگ ہے۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم اور 1940ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی ہاتھیوں کو بھاری ہتھیار کھینچنے اور ٹرانسپورٹ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اب تک کی معلومات کے مطابق جنگوں میں ہاتھیوں کا استعمال آخری مرتبہ 1987ء میں عراقی فوج نے بھاری ہتھیاروں کی ٹرانسپورٹ کے لیے کیا۔ پاکستان میں سیاسی ہاتھیوں کے زور کو توڑنے کے لیے اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی کے استعمال کا ویژن نہ جانے کس کا تھا؟ البتہ ہاتھی کی طرح طاقتور سِول حکومتوں اور سیاسی حکمرانوں کو کسی ہیوی ویٹ آبجیکٹ سے ٹکراکر انہیں مقررہ وقت سے پہلے ہی پاش پاش کردینے کی اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی گزشتہ 73برس میں بہت کامیاب رہی۔ اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی تھیوری میں 

استعمال ہونے والے ہیوی ویٹ آبجیکٹس میں کبھی وزیراعظم لیاقت علی خان کے لیے پستول سے نکلی ہوئی گولی، کبھی وزرائے اعظم خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرہ، چودھری محمد علی، حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگر اور فیروز خان نون کے لیے گورنر جنرل یا صدر کے احکامات شامل تھے۔ ان ہیوی ویٹ آبجیکٹس میں عدالتی نظریہ ضرورت کے ساتھ ساتھ وزرائے اعظم محمد خان جونیجو، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے لیے آئینی شق 58-2(b) بھی شامل کی گئی۔ پاکستان کے ایک بڑے سیاسی محافظ ذوالفقار علی بھٹو کے قلعے کو پی این اے کے نوستاروں والے اتحاد کی اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی کے ذریعے فنا کردیا گیا۔ پاکستان اکیسویں صدی میں داخل ہوا تو اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی کو بھی جدید بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے تحت یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف جیسے ناپسندیدہ سِول حکمرانوں کو وقت سے پہلے ہٹ جانے کے لیے خام اور رَف طریقہ کار کے بجائے عدالتی فیصلوں جیسے ہیوی ویٹ آبجیکٹس کا سامنا کرنا پڑا۔ اب محسوس ہوتا ہے کہ یہ اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی کچھ ماند پڑگئی ہے، کُند یا ڈَل ہوگئی ہے کیونکہ اس کے آخری شکار نواز شریف زخمی ہوکر زیادہ موثر ہو گئے ہیں۔ ن لیگ نے اپنے سابقہ 5برس کے اقتدار اور گزشتہ ڈھائی سال کی اپوزیشن میں مسلسل زوردار وہ جھٹکے کھائے ہیں جو کسی بھی مضبوط پہاڑی تودے کو زمین بوس کرنے کے لیے کافی تھے لیکن اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی کے ماند پڑجانے کے باعث ن لیگ سیاست پر پوری آب و تاب سے موجود ہے اور نواز شریف ذرہ بکتر پہن کر قلعے سے باہر نکل کر سامنے آکر مقابلے کے لیے للکار رہے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں مزاحمتی سیاست کے حوالے سے محترمہ فاطمہ جناح، حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو بڑے نام ہیں لیکن یہ سب اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی سے براہِ راست ٹکرانے کے باعث راستوں سے غائب کردیئے گئے جبکہ نواز شریف چومکھی لڑائی لڑنے کے ماہر ہوگئے اور مزاحمتی سیاست میں اپنے پیش روئوں سے زیادہ بہتر سیاسی کائونٹر اٹیک کرنے لگے۔ اُن کے لیے فائر کئے جانے والے ہتھیاروں میں پارٹی کی اندرونی سازشیں، پارلیمنٹ میں جمہوریت کے علمبرداروں کا بے دید رویہ، نیب اور عدالتی مقدمات کی سانپ نما چھوٹی بڑی رسیاں اور شریف خاندان میں پھوٹ ڈلوانے کی کوششیں وغیرہ شامل ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستانی سیاسی تاریخ کے سابق بڑے مزاحمتی رہنما انہی ہتھیاروں میں سے کسی نہ کسی کا لقمہ بنے لیکن نواز شریف مخالفین کی طرف سے کسی بھی لیتھل سٹرائیک پر ایک قدم پیچھے ہٹ کر بڑی چھلانگ لگانے کے ماسٹر ہوگئے ہیں۔ صوبے کا وزیراعلیٰ صوبائی سیاست کا میچور نمائندہ ہوتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں اب تک فیروز خان نون، نور الامین، غلام مصطفی جتوئی، نواز شریف، ملک معراج خالد اور ظفر اللہ خان جمالی وہ سیاسی شخصیات ہیں جو صوبائی وزرائے اعلیٰ رہنے کے ساتھ ساتھ وزرائے اعظم بھی بنے لیکن نواز شریف ان سب کے مقابلے میں وفاقی سیاست کے محاذ پر لمبے عرصے سے چھائے ہوئے ہیں۔ اگر حالیہ حالات میں اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی کے منصوبہ سازوں کو مستقبل میں عارضی طور پر مزید کوئی کامیابی میسر آئی بھی تو نواز شریف اُن کے حلق میں چبھا ایسا کانٹا ہوں گے جسے نکالا جاسکے گا نہ ہی ہضم کیا جاسکے گا۔ ہاتھیوں کے کسی بھی جتھے کو واپس بھاگنے پر مجبور کرنے کے لیے ان کے درمیان بھگدڑ مچا دینا کافی ہوتا ہے اور پھر وہ پورس کے ہاتھی بن جاتے ہیں۔ اسی لیے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی 11پارٹیوں کو ایک دوسرے سے متنفر کرنے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے جواَب تک کامیاب نظر نہیں آرہی۔ دوسری طرف پشاور میں پی ڈی ایم کے حالیہ جلسے سے مریم نواز کے اپنی دادی کے انتقال پر اچانک واپس آجانے سے تجزیہ نگاروں کو یہ بات بھی باور ہوگئی کہ مریم نواز کی تقریر کے بغیر اپوزیشن کا کوئی جلسہ بھی شعلہ 


ای پیپر