Social values, criticism, Prophet Muhammad SAW, France, Khadim Hussain Rizvi
28 نومبر 2020 (11:41) 2020-11-28

ہماری معاشرتی اقدار روز بروز زوال پذیر ہوتی جا رہی ہیں ہر وقت دوسروں پر کیچڑ اچھالنا اب تو عام رویہ بن گیا ہے سیاست دان ہوں،میڈیا پرسن ہوں، کھلاڑی ہوں ایکٹر ہوں یا پھر علمائے دین! اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ زندہ لوگوں پر تنقید تو سمجھ میں آتی ہے لیکن ہم تو مرے ہوئوں کو بھی نہیں بخشتے۔ مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرنے کے بجائے ہم ان کی متنازع ویڈیوزکو شیئر کر کے خود گنہ گار ہورہے ہوتے ہیں۔ میرا کسی سے کوئی اختلاف نہیں مرنے والا کوئی عام انسان ہو، عالم ہو، شیعہ رہنما ہو سنی ہو، بریلوی ہو اہل حدیث ہو یا پھر تحریک لبیک کا سربراہ ہو۔ اگر یہ سب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں ان کو آخری نبیؐ مانتے ہیں ان کے صحابہ کرامؓ کی تکریم کرتے ہیں اہل بیتؓ سے عقیدت رکھتے ہیں تو سب ایک ہی امت سے منسلک ہیں باقی مسلک کوئی معنی نہیں رکھتے کیونکہ اللہ بھی صرف نیت کو ہی دیکھے گا یہ نہیں دیکھ گا کہ ہاتھ کہاں باندھے؟ ہاں یہ ضرور دیکھے گا کہ اخلاص کتنا تھا عبادت میں؟  

پیارے نبیؐ کے امتی ہونے کا کیا حق ادا کیا؟ فرانس میں جب ناموس رسالت ؐپر حملے ہو رہے تھے کہ کس نے کیا کردار ادا کیا؟ ختم نبوتؐ کا پہرے دار کون تھا؟ کس نے اس کے لیے آواز بلند کی جان کی بازی لگائی اور کون اس کی سودے بازی کررہا تھا؟یہ فیصلہ تو حشر کے میدان میں ہوکر رہے گا ! سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اس دن اس لیے وہاں کی بات چھوڑیں۔باقی یہاں آپ کیا کر رہے ہیں مرنے کی وجہ سے لے کر جنازے کی تعداد اور یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کا فیصلہ بھی ہمارے ہاتھوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ جس کو چاہیں جنتی بنادیں جس کو چاہیں دوزخی! یہ معاملہ آپ اللہ پر ہی چھوڑ دیں تو بہتر ہوگا کیونکہ ہمارے جنازے اور اندازے سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب معاملہ اللہ کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ کسی کو صحیح اور غلط کہنے والے آپ اور ہم 

کون ہوتے ہیں بس مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ خود بول رہی ہے اس پر ہم کیا کریں؟ جب جب تاریخ پر نظر دوڑائی ماضی بعید سے لے کر ماضی قریب اور حال میں بس ان آنکھوں نے ایک ہی منظر دیکھا! کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی خاطر جس نے بھی جان کی بازی لگائی اس نے دنیا جیت ہی لی۔ غازی علم دین کا جنازہ ہو یا ممتاز قادری کا یا پھر ناموس رسالتؐ کے پہرے دار مرحوم خادم رضوی صاحب کا ، سب کے جنازے ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا! غازی علم دین شہید کا جنازہ لاہو رکی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ جس کا جلوس ساڑھے پانچ میل لمبا تھا۔نماز جنازہ میں کم و بیش چھ لاکھ عشاق رسول نے شرکت کی ہندوستان میں مقیم جید علما کرام و مشائخ بھی کونے کونے سے رسول پاکؐ کے سچے عاشق کے آخری دیدار کے لیے لاہور تشریف لائے۔ تدفین کے انتظامات کی سرپرستی مولانا ظفر علی خاں، علامہ محمد اقبال نے کی۔۔شہید کو علامہ محمد اقبال نے اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا جس پر مولانا ظفر علی خاں نے کہا کاش یہ مقام مجھے نصیب ہوتا۔اس موقع پر علامہ نے فرمایا،یہ ترکھان کا لڑکا ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا۔ لوگوں نے عقیدت میں اتنے پھول نچھاور کیے کہ میت ان میں چھپ گئی۔ممتاز قاردی کے جنازے میں بھی پتہ نہیں کہاں کہاں سے لوگ پہنچ گئے۔ اتنا منظم کہ ایک خراش بھی نہ آئی اور ہمارا آزاد میڈیا ایسے تھا جیسے سانپ سونگھ لیا ہو! خادم حسین رضوی صاحب کے جنازے میںبھی لاکھوں لوگ تھے مینار پاکستان سے لیکر 12 کلومیٹر تک لوگ ہی لوگ تھے جو اس عاشق رسول کے جنازے میں شریک ہونے آئے تھے۔ قربان جائوں میڈیا کے جس نے دھرنے کو مکمل نظر انداز کیا اور جنازے کو بھرپور کوریج دی۔ مجھے اور کسی بات سے سروکار نہیں بس یہ جانتی ہوں وہ میرے نبیؐ کی حرمت کے لیے آخری سانس تک لڑا اور یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں اس کا حکومت سے ایک یہی مطالبہ تھا فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے مگر اسلام آباد کی ٹھٹھرتی راتوں میں آنسو گیس کی شیلنگ نے صاف بتا دیا کہ حکومت ناموس رسالتؐ کی حفاظت کے لیے کتنی سنجیدہ ہے اگر ہماری حکومت اس حساس معاملے میں ذرا برابر بھی مخلص ہوتی تو ممتاز قادری کو بھی سلمان تاثیر کو قتل کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ مسئلہ تو ایک ہی ہے نا جو علامہ اقبال نے بتا دیا تھا۔

وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روح محمد اس کے بدن سے نکال دو

بس یہ روح ہی تو ہے جو اتنی سازشوں کے باوجود بھی نہیں نکل رہی اور نہ نکلے گی ان شا ء اللہ باقی جنازوں کے بارے میں امام احمد بن حنبل  رحمتہ اللہ علیہ کا ایک قول بہت مشہور ہے کہ ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ انہوں نے خود کو پابند سلاسل کر دینے والے حاکم شہر سے کہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے۔جنازے کے شرکا کی تعداد اور اندازے اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت یاد رہے کہ اصل فیصلہ اللہ کی عدالت میں ہی ہوگا؟کس کے عمل کو قبولیت ملتی ہے اور کس کو نہیں؟ 

 کون شفاعت کا حقدار ٹھہرے گا؟

 کس کی جانب نظر کرم  ہوگی؟ 

 جنازہ بڑا ہونا حق پر ہونے کا معیار ہے یا مقبولیت عامہ کا! یہ بات اہم نہیں ، یہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن عاشق رسول کو بہرحال یہ خوش نصیبی حاصل ہے کہ اس کے جنازہ پر تاریخ بولتی اور گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرعاشق رسول کے جنازے کو بے مثال بنا کر اسے عزت سے نوازتا ہے۔ ذرا سوچیے اگر رسول پاکؐ سے نسبت اور عشق کی بدولت دنیا میں اتنا بلند مقام ملتا ہے تو آخرت میں کیا ہوگا؟کانوں میں بس علامہ مرحوم کی یہ آواز گونج رہی ہے! 

یہ تو حشر کو ہوگا یہ معلوم

 کہ جیتا کون اور ہارا کون


ای پیپر