سپریم کورٹ کی رہنمائی پر مشکور ہیں : فروغ نسیم
28 نومبر 2019 (21:44) 2019-11-28

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر قانون اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے رہنمائی پر عدالت کے مشکور ہیں

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل باجوہ کے وکیل اور سابق وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے حکومت نے جو طریقہ کار اپنایا یہ بالکل وہی طریقہ تھا جو ماضی میں اپنایا جاتا رہا ہے ، اس معاملے پر سپریم کورٹ کے پورے بینچ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہماری رہنمائی کی ، پیٹیشن کی سماعت کے دوران وکلاء اور ججز میں جو مکالمے ہوتے رہے یہ کوئی نئی بات نہیں ،میڈیا نے منفی چیزوں کو زیادہ اچھالا ، بعض اوقات ججز ازراہ تفنن بھی وکلاء سے مکالمہ کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ایک خبر بالکل جھوٹی اور بے بنیاد چلائی جس میں یہ کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میری ( فروغ نسیم )اٹارنی جنرل انور منصور اور معاون خصوصی شہزاد اکبر کی کھچائی کی ، جن چینلز نے یہ جعلی خبر چلائی ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی سے متعلق غور کر رہے ہیں ۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا کیس انتہائی نازک تھا ، دشمن ملک بھارت نے اس پر بہت باتیں کیں ، ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا ، سپریم کورٹ نے اس کیس میں ملکی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر فیصلہ دیا ۔

فروغ نسیم نے کہا کہ آرمی چیف کو چھ ماہ کیلئے نہیں تین سال کیلئے توسیع دی ہے جنرل قمر جاوید باجوہ حکومت کی طرف سے دی گئی توسیع کی مدت پوری کریں گے ، آرمی چیف کی مدت ملازمت کا تعین کرنا حکومت اور پارلیمنٹ کی صوابدید ہے ،عدالتی فیصلے کی روشنی میں اگر اپوزیشن آرمی رولز میں ترمیم پر حکومت کا ساتھ نہیں دے گی تو یہ توہین عدالت ہوسکتی ہے ،ماضی کی حکومتوں اٹھارہویں ترمیم کرنیو الوں اور اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے آرمی ایکٹ کو کیوں ٹھیک نہیں کیا،عدالت ایڈوائس نہیں فیصلے کرتی ہیں ۔


ای پیپر