حکو متی اکا بر ین اور عوا م
28 نومبر 2019 2019-11-28

حکو متی اکا بر ین کے بیا نا ت اور عوا م کے محسو سا ت وطنِ عز یز کے معا شی حا لا ت کے بارے میں ایک دوسرے سے ایک سو اسی در جے مختلف ہیں۔ تو پہلے بات کر لیتے ہیں حکو متی معاشی مسیحائوں اور اقتصادی ماہرین کی جن کا کہنا ہے کہ معیشت مستحکم ہورہی ہے، ملک اقتصادی بحران سے نکل گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معاشی اصلاحات کے باعث عوام بخوشی ٹیکس دینے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی خزانے کا حجم بڑھ گیا ہے جسے مختلف ترقیاتی منصوبوں بشمول فضائی و ماحولیاتی آلودگی سے بچائو کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے اور اقتصادی بڑھوتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ برآمدی شعبے میں ترقی کے جامع اقدامات کے نتیجہ میں برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ حکومتی اخراجات کم کیے گئے ہیں۔ ملک درست سمت میں جارہا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں استحکام آیا ہے۔ گزشتہ چار ماہ میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ معیشت کی سمت درست کرلی، اصلاحات بھی جاری ہیں تاہم مہنگائی کم کرنے کا وقت نہیں دے سکتے۔ مشیر تجارت کے مطابق ڈالر ایکسچینج ریٹ نارمل اور مستحکم ہوچکا ہے۔ سی پیک پر پیدا شدہ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک کی رفتار اور سمت درست ہے۔ چین سے سی پیک پر کئی معاملات صحیح سمت میں جارہے ہیں۔ امریکہ کے اپنے مفادات ہیں، اس لیے سی پیک پر پاک چین تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ پہلی بار سرپلس ہوا ہے۔ یہی بات وزیر اعظم بھی کہہ چکے ہیں کہ قرضوں پر سود نہ ادا کررہے ہوتے تو سرپلس پر کھڑتے ہوتے۔ گو یابادی النظر میں معاشی پیش رفت بے حد خوش آئند ہے، اقتصادی سمت کی درستگی وقت کی اولین ضرورت ہے اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے قومی، بین الاقوامی تقاضے اس امر کا شدت سے احساس دلاتے ہیں کہ حکومتی اقتصادی پیش رفت زمینی حقائق سے جڑی رہنی چاہیے تاکہ ترقی و خوشحالی کے اقدامات حقیقی معنوں میں ثمربار ثابت ہوں۔

اب اگر عوا م کے محسو سا ت کی با ت کی جائے تواُنہیں ملکی معیشت کے مستحکم ہونے کی خبروں پر اعتبار نہیں آتا۔ ان کا موقف یہ ہے کہ زرعی شعبے پر عدم توجہی کے باعث اشیائے خور و نوش کا بحران اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے پیداشدہ صورتحال اْن کے لیے اذیت ناک بنی ہوئی ہے۔ ان کا یہ استدلال قابل غور ہے کہ اس وقت ملک بھر کی منڈیوں اور خوردہ مارکیٹوں میں ٹماٹر کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ’’ٹاک آف دی ٹائون‘‘ بنی ہوئی ہے، جو زرعی شعبے کا ہی ایک اہم آئٹم ہے۔ ماہرین کا اندیشہ ہے کہ ٹماٹر کے بعد آٹے کا بحران سر اٹھارہا ہے۔ ٹماٹر کی خوردہ قیمت ایرانی اور بدین سے آمدہ ٹماٹر کے بعد 150 روپے فی کلو ہونے کا عندیہ ملا مگر پھر مارکیٹ میں 240 روپے فی کلو فروخت ہونے لگا۔ ٹماٹروں کی سمگلنگ بھی عروج پر ہے۔ سندھ میں گندم کی لاکھوں بوریوں کے چوری ہونے میں ملوث مافیا کی سرگرمی کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ مسئلہ ٹماٹر کا نہیں دیگر سبزیوں کا بھی ہے۔ کوئی سبزی اپنی اصل اور جائز قیمت پر نہیں بکتی۔ حکومت کی توجہ صرف چند نقد آور فصلوں پر ہے۔ صو بہ پختو نخوا ہ میں لال مرچ کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور رسد میں کمی کی وجہ سے لال مرچ کی قیمت میں فی کلو 40 روپیہ اضافہ ہوا۔ یو ںلال مرچ کے دام 15000 سے بڑھ کر 17000 روپے فی من ہوچکے ہیں۔ ادھر سکھر سمیت کراچی میں ٹڈی دل کے فصلوں پر حملوں سے سندھ کے آبادکاروں کو شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ لاکھوں کی کھڑی فصلوں کو ٹڈی دل کے حملوں سے تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔ کاشتکاروں اور چھوٹے زمینداروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ زراعت نے ٹڈی دل کی آمد اور ان کے مسلسل حملوں سے پیدا ہونے والی بربادی کا کوئی موثر دفاع نہیں کیا۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں، ریڈی میڈگارمنٹس کی مارکیٹوں خصوصاً لنڈا بازار کی رونقیں و دوبالا ہوگئی ہیں جہاں بڑی تعداد میں رضائیوں، کمبلوں، گرم لحافوں، کوٹ، سویٹرز، ونٹر ملبوسات فروخت کے لیے رکھے گئے ہیں۔ غریب، محنت کش، متوسط و سفید پوش طبقہ کے افراد بڑی تعداد میں لنڈا بازاروں کا رخ کررہے ہیں جن میں خواتین کی کثیر تعداد بھی شامل ہے۔ لیکن گزشتہ سال کی نسبت لنڈا بازار میں فروخت ہونے والے پرانے ملبوسات اور پارچہ جات کی قیمتوں میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ لاہور کے قدیم لنڈا بازار میں اس وقت پرانے کمبل اور لحاف خریدنے والوں کا رش ہے جبکہ حاجی کیمپ اور میو ہسپتال لاہور کے قریب بنے لنڈا بازاروں میں غیرملکی برانڈ کے جوتے اور کپڑے مل جاتے ہیں۔ اس سال ان کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔ محدود بجٹ میں اب لنڈا بازار سے خریداری بھی مشکل ہوگئی ہے۔ تاجروں اور دکانداروں کا موقف ہے کہ پرانے اور استعمال شدہ کپڑے، جوتے اور دیگر سامان گزشتہ سال کی نسبت 20 سے 25 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس سمیت مختلف ٹیکسوں کا نفاذ ہے۔ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔ اس لیے مجبوراً انہیں کپڑوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔ کراچی کے لنڈا بازار میں استعمال شدہ گرم کپڑے بھی بے حد مہنگے فروخت ہورہے ہیں۔ پرانے برآمدی ملبوسات، کمبل، کوٹ،سویٹرز، جیکٹس کی قیمتیں دگنی ہوگئیں۔ مہنگائی کے باعث درآمدکنندگان تیسرے درجے کا مال منگوانے لگے۔ 50 فیصد دکانیں تجاوزات کے خاتمہ کی نذر ہوئیں اور لنڈا بازار شہر میں پھیل گئے۔ پاکستان استعمال شدہ کپڑے درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ امپورٹ پر ڈیوٹی اور ٹیکسز کا بوجھ پڑا ہے۔ حکومت کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے پر ملکی ترقی کے دعووں کے برعکس صنعت کار اور تاجر برادری نے صنعتی پالیسی پر سوال اٹھادیئے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے حال ہی میں اپنی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2018-19ء میں حکومت سے فوری اور ترجیحی بنیادوں پر مربوط صنعتی پالیسی اپنانے کی سفارش کی ہے۔ اسی طرح پاکستان بزنس کونس نے روزگار کی فراہمی، ویلو ایڈڈ برآمدات اور درآمدی متبادلات کے فروغ کے لیے نئی صنعتی پالیسی لانے پر زور دیا۔ یوں لگتا ہے جیسے حکومت نے 10 سالہ صنعتی پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ طویل بحث و مباحثہ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مارکیٹ کی ناکامی حکومت کی ناکامی سے کم تباہ کن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صنعتی پالیسیاں تشکیل دینے کی پریکٹس عالمی سطح پر متروک ہوچکی ہے اس لیے حکومت اگر نئی صنعتی پالیسیاں مرتب کرنا چاہتی ہے تو خیال رکھے کہ پچھلی ناکام پالیسیاں نہ دہرائی جائیں۔بہر حا ل ایک منا سب مشورہ جو حکمرانوں کو کثیر جہتی سیاسی و اقتصادی حلقوں سے مل رہا ہے وہ اقتصادی نظام کی تشکیل و تنظیم نو میں عوامی مفادات اور فوری ریلیف کے شیئر کا ہے۔ معاشی استحکام کی پیش رفت کا صرف چرچا کافی نہیں، بلکہ انصاف کی طرح عوام کو نظر آجانا چاہیے کہ معاشی ریلیف استحکام کی شکل میں ان کی زندگی کے معیار کو بڑھانے میں اپنا حقیقی کردار بھی ادا کررہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ ٹماٹر، آلو، بینگن، بھنڈی، تیل، چاول، آٹے اور دالوں کو ترسیں اور معاشی مسیحا استحکام اور اقتصادی بریک تھرو کی صرف خوشخبریاںدیں۔


ای پیپر