بحران ابھی باقی ہیں : سنجیدگی اور متانت کی ضرورت
28 نومبر 2019 2019-11-28

بہت سی وجوہات کی بناء پر اس وقت ہم قومی تاریخ کے فیصلہ کن مراحل سے گزر رہے ہیں ۔ ایسے مواقع پر علمی اور فکری شعبوں میں جس گیرائی اور گہرائی کی ضرورت ہوتی ہے وہ نظر نہیں آ رہی ہے۔ مثلاً مختلف اداروں کے درمیان جو کشمکش گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے بدرجہ اتم موجود ہے بلکہ اس میں اضافہ ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کا فکر اور فلسفے کی بنیاد پر کوئی قابلِ ذکر تجزیہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ملک کے ممتاز ترین دانشور اور ماہرینِ جنہیں ایسے لمحات میں فکری راہنمائی مہیا کرنی چاہئے وہ بھی کشمکش میں مبتلا اداروں کے ساتھ فریق بنے ہوئے ہیں ۔ کسی نے اس کشمکش سے بالا تر ہو کر اس امر کا جائزہ نہیں لیا کہ معاشرے میں ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے؟ سب سے بڑھ کر ملکی ترقی اور نظم و نسق چلانے کے حوالے سے تمام ذمہ داری منتخب حکومتوں پر عائد ہوتی ہے لیکن جب وہ معاملات کی بہتری کے لئے کچھ فیصلے کرتے ہیں تو اس کے ہاتھ کئی طرح سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جب ذمہ داری کی بات ہوتی ہے تو تمام ذمہ داری حکومت پر ڈال کر عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام ادارے بری الزمہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ بات بڑی اہم ہے کہ کیا ادارے بشمول عدلیہ حکومت و پارلیمنٹ پر غالب آ سکتے ہیں ؟ کیا حکومت اور پارلیمنٹ کا یہ اختیار کوئی ادارہ اپنے ہاتھ میں لے سکتاہے جس کے تحت اس نے روزمرہ کے ملکی امور کی انجام دہی کرنا ہوتی ہے اور جس کے تحت وہ قانون سازی اور آئین میں ترمیم کرنے کی مجاز ہوتی ہے؟ میری ناقص رائے میں اب پاکستان کو قائم ہوئے ایک معقول عرصہ گزر چکا ہے اور اس کے بانیان کی خواہش کے مطابق اسے اب آگے جانا چاہئے۔ اس حوالے سے تمام اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کو فکری راہنمائی کی شدید ضرورت ہے۔ ہمارے اداروں کے درمیان سات دہائیوں سے جاری کشمکش میں بہتری نہ آنے کی وجہ یہی ہے کہ اہلِ علم و فکری رہنمائی کرنے کا فرض ادا نہیں کر رہے ہیں ۔ جس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ شخصیتیں اپنے حصار میں مقید ہو کر گاہے بگاہے ملکی مفادات کو بھی ملحوظِ خاطر نہیں رکھتیں جس کا جو نقصان ہمیں ہو رہا ہے اس کا چنداں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی بھی ریاستی نظام کے اندر اداروں کا کردار تاریخی طور سے طے شدہ ہے۔ اگر کوئی ادارہ یہ سوچے کہ وہ زیادہ اختیارات حاصل کر کے ایگزیکٹو پر غالب آجائے گا تو نہ کبھی ایسا ہوا ہے، نہ ایسا ہونا چاہئے۔ عدلیہ سمیت تمام ادارے اسی آئین کے تحت معرضِ وجود میں آتے ہیں جسے عوام کے منتخب نمائندے مرتب کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں شروع سے ہی ایگزیکٹو اداروں کے دباؤ میں رہی ہے۔ ہم نے گزشتہ دہائیوں سے دیکھ لیا اس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے، بلکہ صرف اتنا ہوا ہے کہ حکومتیں کمزور اور بے بس نظر آتی رہی ہیں ۔ جس کے نتیجے میں اس کی جگہ اس کے سیاسی حریف لیتے رہے اور پھر انہیں بھی وہی نظام چلانا پڑا جو وہی حکومت چلا رہی ہوتی تھی۔ صرف چلانے کے طریقوں میں فرق آ جاتا ہے، مگر مفادات نہیں بدلتے۔

ہمارے ہاں جب بھی ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی رہی ہے تب عدلیہ اور ایگزیکٹو کے مابین کشیدگی کی فضا پیدا ہو جاتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں جب کہ یہ معاملات ایسے نہیں ہوتے بلکہ یہ تو قومی امور ہیں انہیں اپنی ذات سے بلند ہو کر پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا چاہئے۔ یہ بات بہر حال ملحوظِ خاطر رکھنے کی ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئین پر عملدرآمد کے پابند ہیں ۔ اگر عدلیہ اور حکومت نے باوقار طور پر اپنی اپنی متعین حدود میں رہتے ہوئے معاملات چلائے تو وہ تمام خدشات ہوا میں تحلیل ہو جائیں گے جو مختلف حلقے بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ دنیا کے بہت سے ممالک کو کئی معاملات میں بعض قانونی الجھنوں کو سلجھانے کی ضرورت پیش آئی ہے اور ہر بحران کے بعد وہاں کا نظام زیادہ مستحکم ہو کر سامنے آیا ہے۔ اس لئے مخالف سیاستدانوں سمیت کسی بھی حلقے کو ایک عدالتی عمل کو اشتعال پھیلانے والے بیانات کا موضوع نہیں بنانا چاہئے۔ ایسے تبصروں سے بھی گریز کیا جانا چاہئے جن سے عام لوگوں کو مایوسی پیدا ہو۔ یہ ملک ہم سب کا ہے اس کا عدالتی نظام، اس کی قدریں، اس میں پنپنے والی جمہوری روایات ہم سب کا مشترکہ سرمایہ ہیں اورا ہم سب کو ان کی حفاظت کے لئے احتیاط اور دانشمندی کا دامن ہر لمحے تھامے رکھنا ہو گا۔ اس وقت ان دیکھے ہاتھ ہیں جو ملک میں انتشار و فساد پیدا کر کے اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتے ہیں ۔ اس پر سب کو غور کرنا ہو گا ، اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکمرانوں ہی نہیں سب پر عائد ہو گی۔ عدلیہ اور حکومت کو مل کر قانونی، سماجی اور معاشی انصاف کے لئے کام کرنا ہو گا، بقاء کی بے معنی جنگ میں اپنی صلاحیتیں اور وقت ضائع کرنا فضول ہے۔

پاکستان کا اس وقت سب سے اہم مسئلہ اداروں کی تشکیل اور استحکام ہے۔ جمہوری اداروں کے استحکام کے بغیر ساری باتیں رومانوی ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ بھوک، افلاس اور بیماری پہلی قومی ترجیح ہوتے ہیں ، لیکن جب ادارے مضبوط ہوں تو ان سے بنیادی عوامی مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے اور کوتاہی، کمزوری اور غفلت برتنے والوں اور بد عنوانیوں کا احتساب ممکن ہوتا ہے۔ ہمیں معاشی نمو کے لئے منصوبہ سازی کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے استحکام پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ اگر سیاسی جماعتیں سڑکوں پر فیصلے کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے پارلیمان کو با اختیار بنانے اور ریاستی اداروں کو مستحکم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے اہداف جلد حاصل نہ کر سکیں۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ بحران ابھی باقی ہیں اورا نہیں ختم کرنے کے لئے سنجیدگی اور متانت کے ساتھ چلنا ہو گا۔


ای پیپر