سری لنکا کی انگڑائی اور بھارتی کردار
28 نومبر 2019 2019-11-28

پکسا خاندان کو سری لنکا میں تیسری دفعہ اقتدار مل گیا ہے ایک بھائی دس سال تک صدرکے عہدے پر متمکن رہا اب دوسر ابھائی تھوڑے وقفے کے بعد صدر منتخب ہوگیا ہے دونوں کے مزاج میں خاصی مماثلت ہے دونوں ہی بااختیارعہدے خاندان میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیںحالیہ تبدیلی کا مطلب ہے کہ انھوں نے سہنالی اکثریت میں قومیت پرستی کی لہر پیدا کردی ہے اور بھارت سے فاصلہ رکھنے پر قائل کر لیا ہے یہ ایسی صورتحال ہے جوبالادست بھارت کے سفر میں رخنہ جبکہ چین اور پاکستان کے عمل دخل کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے ۔

سولہ نومبر کو سری لنکا میں ہونے والے صدراتی انتخاب کو نئی انگڑائی سے تعبیر کیاجارہا ہے کیونکہ حالیہ نتائج قوم پرستی کا شاخسانہ ہیں نومنتخب صدرگھوٹا بھایا راجہ پکسا کے بھائی مہنداراجا پکسا 2005 سے لیکر 2015دس برس تک ملک کے صدر رہے اُن کے دور میں تامل باغیوں کی تنظیم ایل ٹی ٹی ای کے سربراہ اکا خاتمہ ہواجس سے تیس برسوں تک جاری خونریز لڑائی کے بعد امن قائم ہوا مگر 2015میں غیر متوقع طور پر فریڈم پارٹی کے میھتری پال سری سینا نے انھیں انتخابی میدا ن میں دھول چٹا دی جس کی ایک اہم وجہ مہنداراجا پکسا پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات تھے لیکن مزید خرابی یہ ہوئی کہ الزامات کے جواب میں صفائی دینے اور اقربا پروری کی راہ ترک کرنے کی بجائے وہ اسی زعم میں رہے کہ ملک کو طویل خانہ جنگی سے نکالنے کی وجہ سے قوم مزید پانچ سال صدارتی عہدہ پر رہنے کے لیے اعتماد کر لے گی نو منتخب صدراپنے بھائی کی حکومت میں سیکرٹری دفاع رہے اور ملک کو خانہ جنگی سے نکالنے کے لیے نہ صرف طریقہ کار بناتے بلکہ کاروائیوں کی نگرانی کرتے رہے صدر مہندا کی اقربا پروری یہیں تک محدود نہیں تھی انھوں نے دوسرے بھائی کو معاشی ترقی کی وزارت سونپ رکھی تھی پارلیمنٹ کو قابو میں رکھنے کے لیے تیسرے بھائی کو پارلیمنٹ کا سپیکر بنا رکھا تھا جبکہ بیٹامسلسل دس برس تک ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوتا رہا یہ ایسی صورتحال تھی جس سے تمام تراختیارت صدر اور اُس کے خاندان کے پاس ہونے کا تاثر گہرا ہواتبھی تو اپوزیشن پھبتی کستی رہی کہ صدر کو اپنے خاندان کے سوا ملک میں کوئی فرد اہل نظر نہیں آتا اس طرزعمل کی بنا پر دس برس میں ہی سری لنکن عوام کی اکثریت کا دل بھر گیا اور انھوں نے فریڈم پارٹی کے امیدوار میتھری پال سری سینا کو ملک کا صدر منتخب کر لیا۔

میتھری پال نے جتنی زور دار انتخابی مُہم چلائی اوربڑے سُہانے سپنے دکھا کر ووٹ بٹورے تھے منتخب ہوکر سیاسی میدان میںکوئی قابلِ ذکرکامیابی حاصل نہ کر سکے حالانکہ 19 ویں ترمیم کراکر اپنے اختیارات میں کمی کرائی اور وزیرِ اعظم اور پارلیمنٹ کو اختیارات منتقل کیے یونائٹیڈ پارٹی سے انیل وکرم سنگھے کو وزیرِ اعظم بنا کر سیاسی انتشار پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن ملک کے سیاسی منظر نامے ہیجان کی کیفیت برقراررہی اورملک میں سیاسی استحکام لانے کا وعدہ ادھورا ہی رہا اسی وجہ سے ملک میں پارلیمانی نظام کا تجربہ کامیاب نہ ہوسکا مگر حالیہ تبدیلی کو سیاسی تجزیہ کار سری لنکا میں بڑھتی قوم پرستی کی لہر کا نتیجہ قرار دیتے ہیںوگرنہ اختیارات کی تقسیم پر رضا مند ہوکر میتھری پال نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کی چال چلی تھی لیکن بھارتی کردار کی حوصلہ افزائی سے سارے کیے کرائے پر پانی پھرگیا ملک کی سہنالی آبادی کوبھارتی کردار ناپسند ہے وہ چین اور پاکستان کے لیے تو نرم گوشہ رکھتے ہیں مگر بھارت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسی لیے حالیہ نتائج چین اور پاکستان کے لیے خوشی ومسرت کا باعث ہیں ۔

تامل تحریک کا بانی بھارت ہے حالانکہ سری لنکا کا بھارت سے براہ راست کوئی بڑا تنازعہ نہیں رقبے اور آبادی کے حوالے سے سری لنکا چھوٹا سا کئی جزائر پر مشتمل ملک ہے جس کا کسی بھی حوالے سے بھارت سے کوئی مقابلہ نہیں وہ معاشی اور فوجی حوالے سے بھی غیر معمولی قوت نہیں رکھتا لیکن جغرافیائی حوالے سے اہم حیثیت کا مالک ہے 1971کی پاک بھارت جنگ کے دوران سری لنکا کا کردار دہلی سرکار کو سخت ناگوار گزراکیونکہ اُس نے پاکستانی فضائیہ کے ساتھ دیگر سویلین پروازوں کو کولمبو میں ایندھن لینے کی سہولت دی پاکستان کو چھوٹا ساہمسایہ ملک یہ سہولت دے بھارت کو کیسے پسند آتا اسی لیے اُس نے سری لنکا کو سبق دینے کے لیے تاملوں کی سرپرستی شروع کردی اور گوریلا کاروائیوں کے لیے تامل قوم کی تربیت کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا تاکہ تامل ناڈو کو سری لنکا سے جدا کیا جا سکے مقصد سری لنکا کو پاکستان کے ساتھ پر سزا دینا تھا آنجہانی اندراگاندھی نے پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد یقین کر لیا کہ اب جنوبی ایشیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کی کسی ملک میں سکت نہیں اِس لیے بالادست بھارت خطے کے تمام ممالک کو تسلیم کرنا ہوگا مگر اِس سوچ کا یہ نتیجہ نکلا کہ ابھی تک بنگلہ دیش کے سواخطے کے کسی ملک سے اچھے تعلقات نہیں چین وامریکہ تجارتی جنگ کی بنا پر سری لنکا کی دونوں ممالک کے لیے خاص اہمیت ہے اندراگاندھی کے بعد بی جے پی جیسے انتہاپسندوں کے نزدیک بھارت ایشیا کی سُپرطاقت ہے اور موجودہ حکمران نریندرمودی تو کُھلم کُھلا ہندوتواکی بات کرتا ہے اُس کے جنرل تک کشمیری خواتین کی آبروریزی کودرست تسلیم کرتے ہیں مگر وہ یہ بات کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ اپنے ملک میں قومیت پرستی کو فروغ دینے سے ہمسایہ ممالک میں بھی اقتدار کی جنگ میں قاعدے وقانون بالائے طاق رکھے جاسکتے ہیں یہی کچھ سری لنکا میں ہوا ہے جسے تجزیہ کار انگڑائی سے تعبیر کرنے لگے ہیں مگر یہ انگڑائی اقلیتوں کے لیے تباہ کُن ثابت ہوسکتی ہے اور وہ مزید مصائب وآلام میں گھِرسکتے ہیں۔

سری لنکا کی موجودہ انگڑائی کی دیگر وجوہات کے ساتھ رواں برس اپریل میں ایک تنظیم کی طرف سے 250کے قریب مارے جانے والے عیسائی بھی اہم وجہ بنے ہیں جس سے موجودہ صدارتی انتخاب کے نتائج تلپٹ ہوئے دہشت گردانہ کاروائی میں چاہے عیسائی ہی مارے گئے مگر سنہالی اکثریت نے یہ نتیجہ اخذکیا کہ میتھری پال سری سیناقومی سلامتی کو یقینی بنانے کی سکت نہیں رکھتے اور مہنداراجا پکسا ہو یا اُن کا بھائی گھوٹابھایا راجا پکسا (موجودہ صدر)ہی سری لنکا کے لیے بہتر ہیں موجودہ صدر گھوٹابھایا کے آنے سے اقلیتیں مسلمان اور تامل ہندوہراس کا شکار ہیں انھیں یقین ہو گیا ہے کہ نئے صدر کے آنے سے باغیوں کے نام پر ہونے والی اقلیت مخالف نئی مُہم کا آغاز ہوگا اور پہلے کی طرح خطرے کا باعث بننے والوں کو کچل دیا جائے گا جس طرح بھارت میں ہندو دیگر اقلیتوں کے لیے خطرہ ہیں سنہالی بدھ سری لنکا میں اقلیت مخالف مہم چلا سکتے ہیں کیونکہ گھوٹا بھایا اپنے بھائی کی صدارت میں سیکرٹری دفاع کی حثیت سے انسانی حقوق کی پرواہ کیے بنابے دریغ کاروائیاں کراتے رہے اب تو وہ خود صدر ہیں اِس لیے کسی نرمی کی توقع کیسے ہوسکتی ہے ؟

موجودہ صدر نے حلف اُٹھاتے ہی پہلی فرصت میں اپنے بھائی سابق صدر مہنداراجا پکسا کو وزیرِ اعظم نامزد کرتے ہوئے باوجود اِس کے کہ ابھی پارلیمانی انتخابات ہونے ہیںحلف بھی لے لیا ہے خیر سری لنکا کا آئین صدر پر کوئی قدغن نہیں لگاتا بلکہ وزیرِ اعظم کے تقرر کا اختیار دیتا ہے جس کے بعد پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیا جاسکتا ہے مگر کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ موجودہ صدر انتخابات کا انتظار کر لیتے جس سے سب کو مثبت پیغام جاتا لیکن پکسا خاندان نے سری لنکن عوام کی اکثریت کو جگا لیا ہے جس سے فغانستان کی طری سری لنکا میںبھارتی سرمایہ کاری کے اثرات ختم ہو سکتے ہیں اور بیجنگ وکولمبو مراسم مزید بہتر ہوسکتے ہیں مہنداراجا پکسا نے اپنی شکست کا زمہ دار بھارت کو ٹھہرایا تھا اِ س لیے گھوٹابھایاکا چین کی طرف جھکائو رہے گا جس کا ایک یہ مطلب ہے کہ بھارت کی طرح امریکہ کی دخل اندازی بھی ر ختم ہو جائے گی سری لنکا کی موجودہ انگڑائی قومیت پرستی کی بدولت ہے مودی کی طرح پکسا فیملی بھی اب اقتدار کی خاطر تما م حربے جائز تصور کرتی ہے لیکن حالیہ تبدیلی سے اقتدار کی کشمکش کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور ملک میں سیاسی استحکام آسکتا ہے۔


ای پیپر