لگاکر بھول جانے سے تو پتے سُوکھ جاتے ہیں
28 نومبر 2019 2019-11-28

میں نے سوچا کہ کرتارپور راہداری کھولنے پہ کچھ اپنے خیالات جو میں نے قارئین تک پہلے پہنچائے تھے، اس پہ مزید تبصرہ کرنے کی گنجائش باقی ہے سکھوں کے لیے کرتارپور کو مکے مدینے سے تشبیہ دینے کی فاش غلطی کرنا ناقابل فہم وایمان بات تھی۔ میں راہداری کو کھولنے کے خلاف نہیں ہوں، مگر یکدم چند ماہ کی ریکارڈ مدت میں اتنے بڑے منصوبے کو مکمل کرادینا، اگر مکمل ہوسکتا ہے تو پاکستان کی اور راہداریاں اور دوسرے منصوبہ جات کیوں تعطل کا شکارہیں؟ اربوں روپے درخت لگانے کا دعویٰ کرنے والے کو یہ پتہ ہونا چاہیے، کہ پودے لگاکر پانی دینا بھول جائیں، تو درخت سوکھ جاتے ہیں ۔ ریاست مدینہ کا نام لے کربے نامی اکاﺅنٹس کی تحقیق و تفتیش کے اگر ہم حامی ہیں ، تو ہمیں ان حقائق ابدی سے بھی مفر نہیں کرنا چاہیے، کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ زائرین حرمین شریفین میں زیارت کے لیے آتے اور سعودی عرب کی آمدنی کا ذریعہ، جو شاید آپ کے ذہن میں پیٹرول ہوگا، مگر سعودی عرب حکومت کی سب سے زیادہ آمدنی کا ذریعہ وہ زائرین ہیں جو وہاں آکر حکومت سعودیہ کو ”ٹریلین ڈالرز“ ادا کرتے ہیں ، دنیا بھر میں فتوے جاری کرنے والی حکومت سعودیہ کو کیا یہ بین پتہ ، کہ حرمین شریفین کی زیارت بغیر کسی ادائیگی کے ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ہرمسلمان کا حق ہے۔ مگر ہرمحبت وطن حکومت ہمیشہ فیصلہ جات، ملکی مفاد کے مطابق کرتی ہے، اور اس پر پھر سختی سے عملدرآمد ہوتا ہے۔ مگر در در بدری ہونی والی کشکول پکڑے، ہماری حکومت اتنی امیر ہے، کیونکہ اس کی تو رعایا بھی تین سو، چارسو روپے کے صرف کلو ٹماٹر استعمال کرسکتی ہے تو حکومت کی بے نیازیاں تو جائز ہیں ، عوام بلکہ رعایا بے شک مہنگائی کے ہاتھوں، جھولیاں پھیلا کر عرش الٰہی کو ہلانے کی کوشش کرتی رہی، اور یاد دہانی کراتی رہی، بقول مظفر شاہ صاحب

قسم کوئی نہ وعدہ رہیا

نہ کوئی رسم نہ ریت!

خودغرضی دی اس دنیا توں

چاگئی چت پریت!

قوم کو یہ مژدہ جاں افروز سنایا جاتا ہے، کہ ٹماٹر سترہ روپے کلو ہیں ، مہنگائی صرف دکاندار کرتے ہیں ، آڑھت میں تو یہ اتنے میں ہی ملتے ہیں ، یہ الفاظ وزیراعظم کے وزیر خزانہ کے ہیں جو بجائے اس کے کہ وہ ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں، بقول مظفر علی شاہ صاحب

ہیں ہمیں ہمدردیاں مظلوم سے

اور ظالم کو سزا دیتے نہیں!

کیا یہ ظلم نہیں، کہ دنیا بھر سے پانچ ہزار سکھ تو بغیر ویزے ، اور بغیر پاسپورٹ کے کرتارپور آسکتے ہیں ، مگر پاکستانیوں کو وہاں جانے کے لیے دوسوروپے ادا کرنے ہوں گے، اگر یہ چند ہزار آنے والے سکھوں سے لیا جائے، تو مستقبل میں معیشت ومعاشیات پہ ”عسکری نظر“ رکھنے والے جس کی سپہ سالار نے بطور خاص، ایک مناسب منصوبہ بندی کی ہے مگر چونکہ وہ ماہر معاشیات نہیں ہیں ، شاید وہ ڈھیڈی کے دیئے ہوئے بھرے میں آگئے ہیں ، جو اکثر کراچی کی سٹاک ایکسچینج میں زیروبم کے ماہر ہیں ، اور ذاتی طورپر وہ اپنے کسی کاروبار میں خسارہ نہیں اٹھاتے، مگر یہ احتیاط وہ دوسروں کو مشورہ دیتے ہوئے نہیں کرتے ، میں یہ بات ان کے حجم اور حدود اربعہ کی وجہ سے نہیں کررہا بلکہ ان کے اعتماد کی وجہ سے کررہا ہوں، شاید انہوں نے وزیراعظم کومشورہ نہیں دیا، کہ اگر سعودی عرب کے زائرین 35ہزار ادا کرسکتے ہیں ان میں سے اکثریت ان غریبوں کی ہوتی ہے کہ ساری عمر پیسہ پیسہ جوڑ کر مکے مدینے جانے کے شوق میں مسرت بھری زندگی کے دن ترس ترس کر گزارتے ہیں اس کے علاوہ افریقہ کے غریب ممالک کے غریب لوگ بھی 35ہزار روپے کی ادائیگی زیارت کے لیے ادا کرتے ہیں ، کیا سعودی عرب نے اس معاملے پہ انسانیت، خلوص اور مسلم اخوت پہ توجہ دی۔

کرتار پور آنے والے سکھوں کو محض 20ڈالر تقریباً صرف تین ہزار ادا کرنے پڑتے ہیں ، کہ جو بہت زیادتی کی بات ہے، اس کو اگر ریاست مدینہ کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر جاتی تو ریاست پاکستان کے حق میں زیادہ ہوتی، ویسے تو امرتسر میں ”گولڈن ٹیمپل “ موجودہے، جہاں خالصتان بننے کی تحریک چلی تھی اورسکھوں کے اس وقت کے لیڈر سنت جرنیل سنگھ نے سکھوں والا کام کرکے کچھ دنوں کا ذخیرہ کرکے گولڈن ٹیمپل میں پناہ لے کر سکھوں کی نئی ریاست کا اعلان کردیا تھا، اور بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے گولیاں مارکر اسے مروا دیا تھا، جس کا بدلہ اندرا گاندھی کے سکھ گارڈ نے اندرا گاندھی کو مار کر لے لیا تھا، اس وقت میرا ذہن فوراً ماسٹر تارا سنگھ کے رویے کی طرف چلا گیا، جو تقسیم برصغیر کے وقت ماسٹر تارا سنگھ ، سکھوں کے لیڈرتھے ۔

قارئین یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے، کہ سکھ پہلے ہندو تھے، اوریہ ہندو سے سکھ ہوئے، بابا گورونانک ، مدینہ شریف بھی گئے تھے، اور خانہ کعبہ میں بھی حاضری دی تھی، ان کی وفات کے قصے بھی اس بات کی دلالت کرتے ہیں کہ جو شخص حضور کے بارے میں یہ الفاظ ادا کرتے ہیں کہ پوجا پاٹ کام نہیں دے سکتی، چھوت چھات بیکار ہے، جنیوا شنان ،ماتھے پہ تلک لگانا کچھ کام نہ آئے گا، اگرکوئی کتاب کام آئے گی تو وہ قرآن ہے جس کے پوتھی پران کچھ بھی نہیں، قارئین میں سوچتاہوں، کہ پھر کیا وجہ ہے، بابا گورونانک نے کلمہ نہیں پڑھا تھا اور سچا سکھ ہونے کا ثبوت دے دیاتھا اور ان کے ماننے والے ماسٹر تارا سنگھ نے جو ان کے پیروکار تھے پاکستان بنتے وقت جو ٹرین مسلمانوں کو لے کر لاہور آرہی تھی، مسلمانوں کو اس طرح خاک وخون میں غلطاں کردیا تھا، کہ کوئی مسلمان زندہ نہیں بچا تھا، ماسٹر تارا سنگھ کو لاکھوں مسلمانوں کو ہلاک کرنے کا اعزاز بھی دیا گیا تھا، مجھے خدشہ ہے کہ خالصتان کا جو نقشہ انہوں نے بنایا ہے، اس میں ہمارے پنجاب کو بھی شامل کردیا گیا ہوگا۔

پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے، وہ دنیا میں کسی ملک میں بھی ایسا نہیں ہے، مگر کیا اب بھی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنے والوں میں سکھ شامل نہیں ہیں ؟ بھارتی فوج اور پولیس میں اب بھی لاکھوں کے قریب سکھ ملازم ہیں ، اگر کرتارپور راہداری حب الوطنی کا ایک ثبوت ہے، تو کٹاس مندر، بھی ہندوﺅں کا پاکستان میں واقع ہے، حکومت کو ہندوﺅں کو بھی اپنے مندر کٹاس میں پوجا پاٹ کی اجازت دے دینی چاہیے۔

ویسے بھی مودی سے حسن ظن رکھنے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ مودی نے ٹرمپ کو یہ کہاتھا کہ پاکستان ہندوستان کا حصہ تھا، اور آزادکشمیر بھی ہمارا ہے بلکہ وہ جلد میرے منہ میں خاک مودی سے مل کر پاکستان کو بھی بھارت میں شامل ہونے کی بات کرے گا۔


ای پیپر