تبادلوں کے طوفانِ بدتمیزی کی شکار بیوروکریسی!
28 نومبر 2019 2019-11-28

پنجاب میں ایک بار پھر تبادلوں کا طوفانِِ بدتمیزی برپا ہوگیا ہے، یہ ”طوفان بدتمیزی “ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا، صوبے میں دوبڑے افسران ہوتے ہیں، ایک چیف سیکرٹری، دوسرا آئی جی ....موجودہ حکمرانوں نے گزشتہ سواسال میں اِن دونوں عہدوں پر تعینات افسروں کو بار بار تبدیل کرکے اِن عہدوں کو اتنا بے توقیر کردیا ہے شاید ہی کوئی عزت دار شخص اِن عہدوں پر اس حکومت میں تعینات ہونا اب پسند کرے گا، یہ الگ بات ہے ”بے توقیروں“ سے ہماری بیوروکریسی بھری پڑی ہے، بیوروکریسی کی گریس صرف اُسی صورت میں بحال ہوسکتی ہے جب کسی افسر کو کسی پُرکشش یا بڑے عہدے پر یا کسی بھی عہدے پر تعینات کیا جانے لگے وہ متعلقہ اتھارٹی سے یہ سوال کرے ”اِس عہدے پر جو افسر پہلے سے تعینات ہے اُسے محض چار پانچ ماہ بعد کسی جرم یا قصور کے تحت ہٹایا جارہا ہے؟ اگر اُسے بغیر کسی قصور یا جُرم کے ہٹایا جارہا ہو تو دوسرا افسر اُس پر تعینات ہونے سے معذرت کرلے، ....ہماری بیوروکریسی میں ایسی گریس کا مظاہرہ شاید ہی کسی افسر نے کیا ہو، کم ازکم میرے نوٹس میں نہیں ہے، ایسی گریس کا مظاہرہ کرنے کی روایت ہماری بیوروکریسی میں ہوتی آج بے عزتی کے اِس مقام پر وہ نہ ہوتی کہ دودوٹکے کے حکمران بڑے بڑے افسران کو اپنا غلام بناکررکھنا چاہتے ہیں، اور بے شمار افسران اُن کا غلام بن کر رہنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتے ، .... بطور آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز اپنے فرائض بہت دیانتداری سے ادا کررہے تھے، اتنے محنتی اور محبتی پولیس افسران میں نے کم دیکھے ہیں۔ اپنے کسی ماتحت کی دل آزاری کا وہ باعث نہیں بنے، اُن کے ماتحت اُن کے گُن گاتے ہیں، صرف ماتحت نہیں ہر شخص جو اُن سے مِل لیتا ہے اُن کے گن گاتا ہے، اللہ جانے موجودہ حکمران اُن سے کیوں ناراض ہو گئے؟ ۔ ویسے تو موجودہ حکمرانوں کی کسی افسر سے ناراضگی اُس افسر کے لیے باعثِ رحمت ہی ثابت ہوتی ہے۔ کم ظرف ”حکمرانی بونوں“ سے اُن کی جان چھُوٹ جاتی ہے۔ یہ وہ کم ظرف حکمرانی بونے ہیں جو کسی افسر سے اس بات کا حساب نہیں لیتے کہ اُس نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ وہ صرف یہ حساب لیتے ہیں کہ ہمارے جائز ناجائز احکامات پر عمل کتنا کیا ؟ ہمارے ارکانِ اسمبلی کے پُٹھے سیدھے کام کتنے کیے؟ اور ہماری خوشامد کتنی کی ؟، کوئی افسر اُن کے اس معیار پر پورا اُترتارہے اُس افسر سے اُنہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ،....کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کے بطور آئی جی پنجاب تبادلے سے ممکن ہے اُن کے خیر خواہوں کو رنج پہنچا ہو، اُنہوں نے اِس پر اُن سے اظہار افسوس بھی کیا ہو، میں نے اُنہیں مبارک دی ہے، پنجاب میں بطور وزیراعلیٰ تعینات سیاسی بونے کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر وضاحتیں دے کر اپنے عہدے کی گریس کم یا ختم کرنے سے تبادلہ ہزار درجے بہتر ہے، وہ شخص جسے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے ایک تھانیدار یا پٹواری اہمیت دینا پسند نہیں کرتا تھا میں سوچتا ہوں گریس فُل افسران کے لیے اُس کے ناجائز احکامات پر عمل کرنا یا اِس حوالے سے اُسے وضاحتیں دینا کتنا تکلیف دہ عمل ہوتا ہوگا ، ....تبدیل ہونے والے چیف سیکرٹری کی شہرت بھی اچھی تھی، بطور چیف سیکرٹری جناب یوسف نسیم کھوکھر جتنی محنت کرسکتے تھے یقیناً انہوں نے کی ہوگی، بدقسمتی یہ ہے موجودہ حکمرانوں کو غیرضروری طورپر تبادلے وغیرہ کرنے کا بھی ایک ”نشہ “ سا لگ گیا ہے۔ ہمارا خیال تھا حکمران نظام صحت، نظام تعلیم اور نظام عدل وانصاف میں انقلابی تبدیلیاں لاکر ایک نئی تاریخ رقم کریں گے، یہ تو وہ کر نہیں سکے، البتہ مختلف عہدوں پر تعینات افسروں کے غیرضروری تبادلوں پہ تبادلے کرکے جو نئی تاریخ رقم کررہے ہیں اُس کا خمیازہ بیوروکریسی کی اپنے خلاف مزید نفرت کی صورت میں مزید اُنہیں بھگتنا پڑے گا۔ اِس نفرت کا آغاز موجودہ حکمرانوں کے اقتدار میں آتے ہی ہوگیا تھا، جب اقتدار میں آتے ہی اِن نااہل حکمرانوں نے بڑھکیں لگائیں، بڑے بڑے دعوے کیے”ہم ان افسروں سے بڑی بڑی گاڑیاں چھین لیں گے ....ہم اُن سے بڑے بڑے بنگلے چھین لیں گے .... ہم اُن کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں گے“ .... یہ سب اُس صورت میں ممکن تھا گر ہمارے محترم وزیراعظم اس ضمن میں خود مثال قائم کرتے، بے شک بنی گالہ میں سینکڑوں کنالوں کا محل اُن کا ذاتی ہے وزیراعظم بننے کے بعد وہ اس محل کو ”شوکت خانم ہسپتال “ میں بدل دیتے، جس کی اسلام آباد میں ضرورت بھی ہے، خود پانچ دس مرلے کے گھر میں شفٹ ہو جاتے، اُس کے بعد افسران پر سینکڑوں کنال کے سرکاری بنگلوں میں رہنے کی پابندی عائد کرتے تو بخوشی اُسے قبول کرلیا جاتا۔ اِسی طرح وہ خود چھوٹی گاڑی میں سفر کرتے، اُس کے بعد ہر افسر چھوٹی گاڑی میں سفر کرنا اعزاز سمجھتا، پھر ذرا مزید ہمت کرکے اپنے بچوں کو پاکستان واپس لاکر یہاں کی کسی سرکاری یونیورسٹی میں داخل کروا دیتے، اُس کے بعد ہر افسر اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھانا ہرگز معیوب نہ سمجھتا، .... سو وزیراعظم بننے کے بعد بلکہ وزیراعظم بننے سے پہلے ہی ہمارے محترم خان صاحب نے اس طرح کے نعرے ودعوے بلند کیے، بیوروکریسی میں ان کے خلاف نفرت پیدا ہوگئی۔ رہی سہی کسر نیب کی جائز ناجائز پکڑ دھکڑ نے نکال دی، .... اب بیوروکریسی کی نفرت ہی کا خمیازہ اُنہیں بھگتنا پڑ رہا ہے کہ سواسال اُن کی حکومت کو قائم ہوئے ہوگیا اور ڈھنگ کا کوئی ایک کام وہ نہیں کرسکے، ایک تو ظاہر ہے اس ضمن میں اُن کی اپنی نااہلی ہی کافی ہے۔ اُوپر سے بیوروکریسی کے عدم تعاون نے ان کے لیے جو مسائل کھڑے کیے ہیں اُس کا ادراک ہی ابھی تک انہیںنہیں ہورہا، انتظامی عہدوں پر تعینات مختلف افسران کے طوفان بدتمیزی بلکہ مسلسل طوفانِ بدتمیزی کے باعث پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹناموجودہ نااہل حکمرانوں کے بس میں نہیں، اِس کے باوجود اپنی حماقتوں سے وہ باز نہیں آرہے، جس قسم کی بدتمیزیوں، اخلاقیوں، قانون شکنیوں، بدحواسیوں اور بدانتظامیوں کے روز مظاہرے ہورہے ہیں پونے چار برس تو دورکی بات ہے آج اگر اپوزیشن کے مطالبے پر یا مطالبے کے بغیر ہی الیکشن اناﺅنس ہو جائیں میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں پی ٹی آئی آٹے میں نمک کے برابر سیٹیں بھی نہیں جیت سکے گی، جبکہ ہمارے خان صاحب کے اردگرد جو لوگ ہیں وہ مسلسل اُنہیں یہ یقین دلارہے ہیں کہ جو زبردست کارنامے وہ کررہے ہیں اُن کے بل بوتے پر آئندہ الیکشن وہ بغیر ”خفیہ حمایت“ کے ہی دو تہائی اکثریت سے خود ہی جیت لیں گے، .... جہاں تک ایک گریس فل پولیس افسر کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کے تبادلے کا معاملہ ہے، یہ داستان میں اگلے کالم میں عرض کروں گا۔(ان شاءاللہ)


ای پیپر