پی ایس پی بمقابلہ ڈی ایم جی ؟
28 نومبر 2019 2019-11-28

تبدیلی کے ڈیڑھ سالہ دور حکومت میں ایک کے بعد ایک آئی جی پنجاب کی تبدیلی اور سروس ڈلیوری کے نام پرپولیس اصلاحات کے لیے ہنگامی میٹنگز کے باوجود کرائم کنٹرول کیوں نہیں ہو پارہا، یہ سوال جب چچا حوالدار سے کیا تو انہوں نے تالی بجاتے ہوئے تھالی آگے کر دی اور ایک خاص انداز میں کہنے لگے جیب میں جو کچھ ہے دیدو پھر جواب دوں گا۔ میں نے بھی ایک کپ چائے کے پیسے تھالی میں ڈال دیئے توبوڑھے چچا حوالدار لگے حقائق سے پردہ اٹھانے ۔کہتے ہیں جس دن سے محکمہ پولیس کو خودمختار کیا اُسی دن سے سینئر پولیس افسران آپے سے باہر ہو گئے اور اپنے آپ کو سب سے اعلیٰ سمجھنے لگے ،اتنا بااختیار ادارہ اور پھر پوچھنے والابھی کوئی نہیں۔ فطری طور پر کوئی بھی ادارہ خاص کر جو اتنا با اختیار ہو اور لا محدود اختیارات کے ساتھ ساتھ جہاں فنڈز کی بھر مار بھی ہو تو ایسی صورت میں ایمان ڈولنا فطری عمل ہے ۔

جب تک محکمہ پنجاب پولیس چیف سیکرٹری،ہوم سیکرٹری کے ماتحت رہا آئی جی پنجاب ہر قسم کی خرابیوں ،غلطیوں ،محکمانہ بددیانتیوں کا ذمہ دار اور جوابدہ ہوتا تھا،جس دن سے آئی جی خودمختار ہوا ہے ،گویا کہ تمام نالائق ،کام چوراور امیر بننے کے شوقین دفتروں میں بیٹھ کر آہستہ آہستہ (آواز) میں دوستوں سے گپیں لگانے والے اور پرائیوٹ لوگوں کے سامنے ماتحت ملازمین کو ذلیل کر کے اپنی افسری دکھانے والے نام نہاد افسروں کی موجیں لگی ہوئی ہیں ، کیونکہ اب سوال کارکردگی کا نہیں رہااور آئی جی پنجاب ایسے افسروں کو ہرگز نہیں پوچھتے بلکہ اب وہ اپنی کلاس کو ہر قسم کی گندگی اور نالائقی کے باوجود سینے سے لگاتے ہیں ۔

صنف نازک سے بھی نازک افسر غنڈہ گردی ،ڈاکے ،دہشت گردی جیسے جرائم نہیں روک سکتے ۔مزید یہ کہ صنف نازک افسروںکو فیلڈ پوسٹنگ دے کر زنانیوں ،زانیوں اور زنانوں کا محکمہ بنا دیا گیا ہے ۔پہلے ہوتا یہ تھا کہ سیانے اور پرانے رینکر افسران کارکردگی کی بنیاد پر نیچے سے اوپر گئے ہوتے تھے ،انکی سخت تربیت ،تجربہ اور ہر قسم کے سخت حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کی بنا پر واردات فوراً پکڑی جاتی تھی۔جرائم کی سراغ رسانی کے متعلق پرانے ڈی ایس پیز، ایس پیز اپنی ٹیموں کے ساتھ متحرک رہتے تھے ،ماتحت اور افسر ایک فیملی کی طرح جرائم پیشہ افراد کو قابو کرنے کے متعلق تھانہ ،دفتروں ،سی آئی اے میں بیٹھ کر غورو فکر کرتے،میٹنگز ہوتیں اور پھر ایک دوسرے سے سبقت لینے کے لئے محنت کرتے اور فوراً ملزموں اور مجرموںکو قانون کے شکنجے میں لے آتے،اس طرح کے افسروں کی بدمعاشوں،غنڈوں اوردہشت گردوں پر دہشت تو ہوتی تھی ،بلکہ جرائم کرنے والا ان افسروں کے خوف سے کانپتا تھااور موجودہ دور کے افسروں کی افسری دیکھ کر اُن کے دلوں میں گندے گندے خیالات آتے ہیں ۔

جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے ،رینکر افسران کی کرپشن جہاں ختم ہوتی تھی ، پی ایس پی افسران کی شروع ہوتی ہے۔پہلے افسران (رینکر) جرائم کے قلع قمع کرنے کے لئے پرانے تھانیداروں ،حوالداروں ،کھوجیوں اور مخبروں کے ساتھ رات گئے تک میٹنگیں کرتے ۔میٹنگیں اب بھی پی ایس پی افسران کرتے ہیں اور رات گئے تک کرتے ہیں ،جن میں تحصیلدار ،پٹواری،،قبضہ گروپ مافیا کے لوگ شامل ہوتے ہیں ،ایسی میٹنگز میں ارب پتی بننے کے لئے سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے اور انہی کاوشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر فیصلے کئے جاتے ہیں ،جب کسی بڑے افسر کے کسی کارنامے کا سکینڈل سامنے آنے لگے ،متعلقہ علاقے کا کوئی لاوارث تھانیدار اور قبضہ گروپ کے کسی ڈان کے نوکر پر مقدمہ درج کروا دیا جاتا ہے ۔اب رینکر ز ایس پیز اول تو ہوتے ہی نہیں اگر ہوں تو کسی تھانے کے ایس ایچ او کی گاڑی سے گئی گزری گاڑی اور محرر کے دفتر سے گیا گزرا دفتر ہوتا ہے اور وہ ایس پی کسی سپاہی کو چھٹی دینے کا اختیار بھی نہیں رکھتا ۔جبکہ پی ایس پی افسران کے بنگلوں پر 9،9 گاڑیاں اور سالے، ساس، سسر، دوستوں کے پاس سرکاری گاڑیاں ،پٹرول وڈرائیور وغیرہ لازمی ہوتا ہے تاکہ وہ بھی جرائم کی بیخ کنی کے اس شاہانہ سکواڈکاحصہ بن سکیں۔

سندھ ،بلوچستان ،خیبر پختونخواہ میں یہ افسران انجوائے نہیں کر سکتے ،اس لئے وہاں رینکرز کی پروموشن کا کوئی مسئلہ نہیں ۔وہاں رینکر اچھی پوسٹوں پر نظر آتے ہیں ۔کراچی جیسے بڑے جرائم اور دہشت گردی کے گڑھ شہر کو ہمیشہ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے خون سے چوہدری اسلم جیسے بہادروں نے دہشت گردی سے بچایا۔ ایس پی عمیر خطاب ، ایس پی فیاض ، ایس پی فاروق اعوان کئی قاتلانہ حملوں میں بال بال بچے ۔لیکن ان کے حوصلوں میں کمی نہیں آئی۔پروردگار ان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ،رینکر افسر جس لیول پر جا کر محنت کرتے ہیںپی ایس پی افسر اس ہوا کو چھو بھی نہیں سکتے ، پی ایس پی تو صرف پاکستان کے خزانے پر بوجھ ہیں جن کا ماتحتوں اور انسانوں کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں ۔بھرتی کے وقت ان کا مکمل میڈیکل لازمی ہونا چاہیئے ،تاکہ ان کی جسمانی اور ذہنی مشینری اور چپ کا بھی پتہ چل سکے ۔ چچا حوالدار کہتے ہیں۔ تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ راست تبدیلی نظر آئے۔ معکوس تبدیلی معاشرے کے لیے سازگار ہے نہ معاشرہ اس کا متحمل ہوسکتا ہے۔ بہادری ، حکمت، داﺅد پیچ سیکھنا یا سکھانا اور ان سے نبردآزما ہونا ملزم کو دیکھتے ہی مجرم یا معصوم جان لینا، فراڈیئے کو پہچاننا وغیرہ ایسی صفات ہیں جن کا تعلق جنسیاتی عمل سے ہے۔ ہر ذہین آدمی پی ایس پی تو بن سکتا ہے لیکن ہر پی ایس پی ان خصوصیات کا حامل نہیں ہوسکتا، کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ایسے افسران کی تعیناتی کرتے وقت حسب، نسب کا بھی تجزیہ کرلینا چاہیے۔ شاید یہ تجویز بعض حلقوں کو کڑوی لگے لیکن انگریز دور سے قبل سے لے کر پی ایس پی کی ایجاد تک فورسز میں ملازمت اور تعیناتی کے لیے ان خصائل کو اولیت دی جاتی رہی۔ اب بھی ایسا کرکے آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔


ای پیپر