کھلنا کرتار پور راہداری کا
28 نومبر 2018 2018-11-28

وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کاسنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔۔۔ یہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تجویز تھی۔۔۔ جو انہوں نے گزشتہ 18 اگست کو پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کے موقع پر بھارتی پنجاب سے بطور مہمان عمران عہد کے کرکٹر اور مشرقی پنجاب کے موجودہ وزیر سیاحت نوجوت سنگھ کی آمد پر انہیں کھلی بانہوں کے ساتھ سینے سے لگا کر پیش کی تھی۔۔۔ کچھ لوگوں نے اسے جٹ جپھا سے بھی تعبیر کیا ہے۔۔۔ بھارت کی مرکزی مودی سرکار نے پہلے اس پر صاد کرنے سے اعراض کیا۔۔۔ تین ماہ بعد آمادگی ظاہر کردی۔۔۔ گزشتہ سوموار کو دریائے راوی کے اس جانب چند میل کے فاصلے پر مشرقی پنجاب میں واقع ڈیرہ بابا نانک پر راہداری کا افتتاح ہو چکا ہے۔۔۔ دو روز بعد کل بدھ کے دن پاکستان کی جانب سے سکھ زائرین کے لئے راستے کو کھول دیا گیا ہے۔۔۔ یوں بھارتی سکھوں کی 70 سالہ دیرینہ خواہش پوری ہو گئی ہے۔۔۔ وہ اپنے دھرم کے بانی گورو نانک دیو جی مہاراج کی زندگی کی دونوں آخری یادگاروں تک بغیر ویزہ اور آدھ پون گھنٹہ کی مسافت طے کر کے آ اور جا سکیں گے۔۔۔ گورونانک جی ہندوستان میں لودھی خاندان حکومت کے آخری برسوں اورمغلیہ عہد کے دور آغاز یعنی پندرھویں اور سولہویں صدی کے سالوں کی شخصیت تھے۔۔۔ یہ برصغیر پر مسلمان اقتدار کے ہزار سالہ غلبے کے ماہ و سال تھے۔۔۔ نانک جی درویش صفت قلندر نما آدمی تھے۔۔۔ مسلمانوں کے نظریہ توحید سے متاثر اور ہندو سماج کے رسم و رواج میں رچی بسی زندگی تھی۔۔۔ مروانہ نامی مسلمان اورکچھ ہندو یوگی ان کے ہمرکاب تھے۔۔۔ گورو نانک نے اپنی اصلاحی تعلیمات کے پرچار کے لئے ہندوستان بھر کے دورے کئے ۔۔۔ روایت ہے وہ عراق یہاں تک حجاز تک کا سفر کرتے ہوئے مکہ معظمہ کے طواف کوبھی گئے۔۔۔ انہی اسفار کے دوران اجودھن (موجودہ پاکپتن) بھی جانا ہوا۔۔۔ وہاں حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے مزار پر ان کے پڑپوتے فرید ثانی گدی نشین تھے۔۔۔ گورو جی نے اپنی شخصیت کے طلسم سے فرید ثانی کو قائل کر لیا کہ حضرت باوا صاحب کا جو کلام (پنجابی زبان کا سب سے پرانا تحریری ورثہ) ایک پوٹلی میں بند کر کے پردہ اخفا میں رکھا پڑا تھا ان کے حوالے کر دیں۔۔۔ گورو نانک نے اسی کلام کو بنیاد بنا کر اپنی تعلیمات کے اضافے کے ساتھ سکھ دھرم کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کا ابتدائی مسودہ تیار کیا۔۔۔ جسے بعد میں گورو ارجن سنگھ نے آکری شکل دی۔۔۔ نانک کو ماننے والوں کی کثیر تعداد پنجاب کی اکثریتی زرعی آبادی سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں کی تھی۔۔۔ مسلمانوں میں سے ان کے تمام تر توحیدی نظریات کے باوجود آٹے میں نمک کی مقدار میں ان کے مذہب کو قبول کیا۔۔۔ نانک صاحب نے درحقیقت پنڈتوں کی بالادستی والے بت پرستی کے گلے سڑے عقائد کے حامل اور سماجی لحاظ سے ذات پات میں بٹے ہوئے ہندو سماج کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا تھا۔۔۔ وہی ان کے اصل مخاطب تھے۔۔۔ انہی میں سے ان کے مذہب نے اٹھان لی۔۔۔ اگرچہ مسلمان باباجی کی خداپرستی کی وجہ سے ان سے دوری نہیں رکھتے تھے۔۔۔ اسی لئے گورو جی کے انتقال کے موقع پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے اندر تنازع پیدا ہو گیا کہ تدفین کی جائے یا نعش کو نذرآتش کر دیا جائے۔۔۔ کرتار پور صاحب (پاکستان) اور چند میل کے فاصلے پر ڈیرہ بابا نانک( بھارت) درحقیقت اسی تنازع کی یادگار ہیں۔۔۔ ہر دو مقامات سکھوں کے لئے مرجع خلائق درجہ رکھتے ہیں۔

ابتدا میں سکھ گوروؤں اور مسلمانوں کے روحانی بزرگوں کے درمیان خوشگوار تعلقات رہے۔۔۔ چنانچہ پانچویں گورو ارجن سنگھ کی فرمائش پر حضرت میاں میرؒ نے امرتسر میں سکھوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ دربار صاحب کا بیری کا پودا لگا کر افتتاح کیا مگر سکھ دھرم کی اٹھان چونکہ ہندوؤں کے اندر سے ہوئی تھی اس لئے آگے 

چل کر جب اس نے باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار کی تو بابا نانک کے وارث دس گوروؤں میں سے آخری سلطنت مغلیہ سے جا ٹکرائے۔۔۔ ان میں نویں گورو تیغ بہادر اور ان کے بیٹے اور آخری گورو گوبند سنگھ نے مغربی ہندوستان سے اٹھنے والی مرہٹہ قوت کے ساتھ مل کر سلطنت مغلیہ کو پاش پاش کرنے میں خاص کردار ادا کیا۔۔۔ اگرچہ اٹھارہویں صدی کے وسط میں احمد شاہ ابدالی نے افغانستان سے پے در پے حملے کر کے مرہنوں اور پنجاب کی سکھ طاقت دونوں کو شکست دے دی۔۔۔ جہاں کبھی حضرت میاں میرؒ نے امرتسر میں دربار صاحب کا سنگ بنیاد رکھا تھا وہیں جب یہ مقام مسلمان سلطنت کے در پے آزار ہو کر سکھوں کی مزاحمتی سیاسی تحریک کا مرکز بن گیا توافغان جرنیل احمد شاہ ابدالی نے باقاعدہ یلغار کر کے وقتی طور پر سکھ سیاست مزاحمتی طاقت کو ختم کر دیا۔۔۔ اگرچہ بعد میں سکھوں کی تحریک پھر قوت پکڑ گئی اور اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخری سالوں میں پنجاب کے اندر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے قیام پر منتج ہوئی۔۔۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1837ء میں اپنے انتقال تک پنجاب میں بڑے دبدبے اور سطوت کے ساتھ حکومت چلائی۔۔۔ ان کے دور میں اگرچہ عام سطح پر مسلمانوں کی اکثریتی آبادی کے ساتھ عمومی طور پر خوشگوار تعلقات قائم رہے۔۔۔ لاہور کے مشہور فقیر خاندان کے سرپرست اعلیٰ فقیر عزیزالدین کو مہاراجہ کے مشیر خاص اور وزیراعظم کا درجہ حاصل تھا ان کے دوسرے بھائی ان کے طبیب تھے۔۔۔ لیکن رنجیت سنگھ حکومت مسلمان دور کی یادگاروں کو مٹانے یا ان کی توہین میں پیچھے نہ رہی۔۔۔ لاہور کی تاریخی عالمگیری مسجد کو شاہی اصطبل میں تبدیل کر دیاگیا اور اکبر اعظم کی راجپوت بیوی اور شہنشاہ جہانگیر کی ماں شاہ زمانی بیگم نے اسلام قبول کرنے کے بعد اندرون موچی دروازہ لاہورمیں فن تعمیر کامرقع جو مسجد تعمیر کی۔۔۔ رنجیت سنگھ نے اس سے اپنے بارود خانے کا کام لیا اور عمارت کا حسن بری طرح متاثر ہوا ۔۔۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں پنجاب کے سکھوں نے سلطنت مغلیہ کے ٹمٹاتے چراغ بہادر شاہ ظفر کی رہی سہی بادشاہت کو بجھا دینے میں انگریزوں کے دست بازو کاکام دیا۔۔۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں جب ہندوستان کے اندر برطانوی راج سے آزادی کی تحریکوں نے جنم لیا۔۔۔ ہندو اکثریت کی نمائندہ جماعت کے طور پر کانگریس برصغیر کے سیاسی افق پر چھا گئی۔۔۔ جبکہ مسلمان اپنے حتمی اور فیصلہ کن اظہار کے لئے آل انڈیا مسلم لیگ کہے پلیٹ فارم پرمجتمع ہو گئے تو سکھوں نے بھی شری متی اکالی دل کے نام سے اپنے مذہبی اور سیاسی تشخص کو اجاگر کیا۔۔۔ قائداعظمؒ نے سکھوں کی قیادت کو پاکستان میں شمولیت کی دعوت دی مگر اکالی دل کے قائد ماسٹر تارا سنگھ نے پنجاب اسمبلی کی عمارت کی سیڑھیوں پر کرپان لہرائی اور کانگریس کا ہراول دستہ بن گئے۔۔۔ تقسیم کے وقت پنجاب میں جو مسلمانوں کا قتل عام ہوا اس میں سکھ پیش پیش تھے۔۔۔ 1947ء کے بعد آزاد بھارت میں سکھ آبادی کا ایک معتد بہ حصے کے اندر احساس بیدار ہوا کہ وہ سیاسی طور پر مار کھاتے گئے ہیں۔۔۔ مسلمان اپناعلیحدہ ملک لے اڑے جبکہ ہندو کانگریس ان پر غالب آ گئی ہے یہاں تک کہ ان کا تشخص بھی خطرے میں پڑنے لگ گیا۔۔۔ پنجابی صوبہ تحریک اٹھی۔۔۔ سکھوں کے اندر پاکستان کے لئے ہمدردی کے جذبات بھی پیدا ہوئے لیکن سکھوں کی مجموعی وفاداری بھارت کی دہلی سرکار کے ساتھ رہی۔۔۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں بھارتی فوج کے سکھ جرنیل اروڑہ نے مشرقی پاکستان میں متعین پاکستانی فوج کے کماندار جنرل نیازی سے ہتھیار ڈال دینے کی دستاویز پر دستخط کرائے۔۔۔ ملک ہمارا دولخت ہوا۔۔۔ اسّی کی دہائی کے اندر سکھ گوریلا لیڈر سنت جرنیل سنگھ بھنڈرا والا کی قیادت میں سکھوں کی بھارت سے علیحدگی کی تحریک بڑے زوروشور کے ساتھ ابھری۔۔۔ اس نے ایک مرتبہ تو دہلی سرکار کے درودیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔۔۔ پاکستان پر سکھوں کی درپردہ حمایت کا الزام لگایا گیا۔۔۔ آخرکار جون 1984ء میں اندرا گاندھی کی بھارتی فوج نے احمدشاہ ابدالی کی مانند دربار صاحب پر یلغارکر کے اس تحریک کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔۔۔ حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے اس وقت بھارت کے صدر ایک سکھ گیانی ذیل سنگھ تھے۔۔۔ اگرچہ چار ماہ کے اندر اندرا کے ایک محافظ بے انت سنگھ نے وزیراعظم پر اچانک گولیوں کی بوچھاڑ کر کے اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔۔۔ سکھوں کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں اور پاکستان دونوں کے ساتھ ان کے تعلقات بیک وقت محبت اور نفرت کے جذبات میں مملو رہے ہیں۔۔۔ وہ بھارتی ہندو اکثریت کے ساتھ سخت انقباض بھی رکھتے ہیں لیکن آخری سیاسی وفاداری بھارت کے ساتھ قائم رہتی ہے۔۔۔ پاکستان سکھوں کی مجبوری ہے کیونکہ ان کے مذہب کے بانی بابا نانک جی کا جنم استھان ہماری سرزمین پر ہے۔۔۔ کرتار پور اور دوسری کئی مذہبی یادگاریں بھی اس جانب ہیں۔۔۔ پاکستان کی جانب سے کرتار پور کی سرحد کھولنے کا مقصد بھارتی سکھوں کے اندر نرم گوشہ پیدا کرنا ہے جبکہ مودی سرکار نے قدرے پس و پیش کے بعد اس لیے رضامندی کا اظہار کر دیا ہے کہ اگلے سال کے عام انتخابات میں نریندر سنگھ مودی کو سکھوں کی حمایت درکار ہے۔۔۔ لیکن کیا ہمارے چیف آف دی آرمی سٹاف کی ایما پر وزیراعظم عمران خان نیازی کے ہاتھوں کرتار پور صاحب کی راہداری کے افتتاح کے نتیجے میں پاک بھارت مذاکرات کے عمل کا آغاز ہو جائے گا۔۔۔ جس کی خواہش کااظہار تقریب کے موقع پر عمران خان نے پرزور الفاظ میں کیا۔۔۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔۔۔ تاہم اسی تقریر کے فوری ردعمل کے طور پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایسی کسی پیش رفت سے صاف انکار کر دیا ہے۔۔۔ تاہم سوشل میڈیا پر قادیانی اس موقع پر بے پناہ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے لئے بھی گورداسپور میں واقع اپنے مرکز عقیدت قادیان تک رسائی کی آسان راہیں کھل جائیں گی۔


ای پیپر