کپتانی کے سو دن 
28 نومبر 2018 2018-11-28

پی ٹی آئی حکومت کے سو روز مکمل ہو گئے۔ 

جمعرات کی صبح جب یہ سطور قارئین تک پہنچیں گی تو عمران خان بطور وزیراعظم ان سو دنوں کی کارکردگی بیان کرنے کی تیاری کر رہے ہوں گے۔وزیر اعظم گذشتہ سو دنوں میں ان گنت خطاب کر چکے ہیں۔ ان کے تقریباً ہر خطاب میں کوئی نہ کوئی ایسا نکتہ،دعویٰ ضرور ہوتا ہے جو سوشل اور دیگر میڈیا میں موضوع گفتگو بنتا ہے۔ وجہ شاید اس کی یہ ہے کہ عمران خان نہایت پر اعتماد انسان ہیں۔پہلے سے لکھی ہوئی تقریر یا نکات کی بجائے جو بات ذہن میں آئے اس کو بول دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ایسی روش اپوزیشن میں تو خوب داد پاتی ہے۔ اپوزیشن تو ہوتی ہی عوام اور ووٹر کا لہو گرم رکھنے کا نام۔ لیکن حکومت اور حاکم وقت کے الفاظ ذرا زیادہ ذمہ دارانہ رویوں کا تقاضا کرتے ہیں۔لہٰذا ان سو دنوں میں وزیر اعظم کو پہلا یو ٹرن جو لینا چاہتے وہ یہ ہے کہ وہ کم از کم سفارتی امور مذہبی،تاریخی معاملات پر لکھی ہوئی تحقیق کی چھلنی سے گزری ہوئی تقریر کیا کریں۔ ا سی طرح اعداد و شمار کا معاملہ ہے۔ اس حوالے سے بھی ماہرین کا مہیا کردہ مستند اعداد و شمار ہی زیر بحث آ جائینگے۔ بہر حال یہ تو ایک عاجزانہ سا مشورہ ہے۔ جس کا سو روز ہ کارکردگی کے مباحثے سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلے سو روزہ ایام کی کارکردگی کا جائزہ تو ہر حکومت کا لیا جاتا ہے۔ چونکہ پہلے سو د نوں میں حکومتی پالیسیوں کے حد و حال نکھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کی ڈائریکشن کیا ہو گی۔ ترقیا تی منصوبوں کی نوعیت کیا ہو گی۔ اقتصادی پالیسی کی سمت کیا ہو گی؟ ٹیکس کو لیکشن کیسے کرنی ہے۔ اس کے اہداف کیا ہونگے۔ ان اہداف کو کیسے پورا کرنا ہے۔ ملک میں سر مایہ کاری کو کیسے فروغ دینا ہے۔ اندرونی سرمایہ کاروں کو کیا سہولیات دینا ہے۔ صحت، تعلیم کے شعبو ں میں عوام کو کیا اور کیسے ریلیف دینا ہے۔ صوبوں کے ساتھ تعلقات کیسے ہونگے۔ امن و امان پر کنٹرول کیلئے کیا پالیسی ہو گی۔ غرض ایک ہمہ گیر پالیسی کے تحت ملک کی ترقی کیلئے پہلے سو دنوں میں پالیسی فریم ورک ضرورطے کر لیا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کی پالیسیوں کی کامیابی یا کامیابیوں کا جائزہ لینے کیلئے پہلے سو دن کافی نہیں ہوتے۔ ایسا کرنا عام طور پر نا انصافی ہے۔ لیکن کیا کریں اس ٹریپ میں پی ٹی آئی خود پھنسی۔ جس نے دور اپوزیشن میں ایسے غیر حقیقی دعوے کیے۔ جن کی تکمیل ممکن تو ہے لیکن سو دن تو کیا تین سو دنوں میں بھی نہیں۔ سو دن تو بریفنگ میں گزر جاتے ہیں۔خاص طور پر اس جماعت کیلئے جس میں شامل افراد کی اکثریت کو حکومت سازی نظام حکومت کا کوئی تجربہ نہ ہو۔ تاہم پھر اب چونکہ پی ٹی آئی اپنے پہلے سو دن مکمل کر چکی ہے۔ لہٰذا اس بات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ کون سے شعبہ میں کیا کار کردگی ہے۔ قلم کا ر کے نزدیک حکمران اور عوام کے درمیان روابط کے حوالے سے اہم کامیابی حاصل ہوئی سٹیزن ویب پورٹل کا قیام دور جدید کا انوکھا آئیڈ یا۔عوامی شکایات کی شنوائی اور ازالے کیلئے جدید ڈیجیٹل سہولیات انٹرنیٹ کا استعمال 

رابطوں کو موثر بنائے گا۔ شکایات سیل کا قیام کوئی پہلی دفعہ نہیں ہو ا۔ ماضی کے حکمرانوں نے بھی ا س حوالے سے نت نئی اخترائیں نکالیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے دو راقتدار میں براہ راست عوامی شکایات سننے کیلئے ٹیلی فون کال سننے کا عمل متعارف کرایا تھا۔کچھ عرصہ وہ شکایات براہ راست سنتے بھی رہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ وزیر اعظم کیلئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ایسی مشق کو جاری رکھے۔ اسی طرح پرویز مشرف نے بھی ایسی ہی مشق کی تھی۔ بعد میں آنے والے حکمرانوں نے بھی مانیٹرنگ سیل گریوینسیز سیل شکایات سیل کے ناموں سے ایسے انتظامات کیے۔ کچھ لوگوں کی شکایات کا ازالہ ہوا کچھ کا نہیں ہو سکاہوگا۔ عوامی شکایات عام طور پر سرکاری محکموں کے متعلقہ ہوا کرتی ہیں۔ بیوروکریسی ایسی شکایات سن تو لیتی ہیں۔ لیکن ازالے کیلئے کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھاتی۔ موجودہ حکومت نے جو طریقہ نکالاہے وہ موثر، مسلسل اور دیرپا ہے۔ اس کا ریکارڈ مرتب کرنا آسان ہے۔ اور ازالے کیلئے کوشش نہ کرنے والے اہلکار کی نشاندہی کرکے اس کے خلاف کاروائی کرنا ممکن ہو گا۔ وزیر اعظم آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کو یاد دہانی کیلئے مختلف رنگوں کے کاغذوں پر مبنی خطوط ارسال کیے جائینگے۔ سرخ رنگ کا کاغذ اس بات کی نشانی ہو گی کہ متعلقہ افسر کوئی کاروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لہٰذا وہ تادیبی ایکشن کیلئے تیار رہے۔ اسی طرح ایک اور اہم اقدام سادگی و کفائت شعاری مہم ہے۔ غیر ضروری گاڑیوں کو فروخت، عملہ میں کمی اور پروٹوکول سے اجتناب۔ اس اقدام میں شنید ہے وزیر اعظم ایوان صدر کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ وزرائے کرام سرکاری افسروں کے غیر ملکی دوروں میں بھی خاصی کمی آئی ہے۔ ایوان صدر دیگر سرکاری عمارات میں پرتعیش دعوتوں اور تقریبات کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ ایوان صدر میں ظہرانے اور عشائیوں میں سادہ ترین کھانے کا مشاہدہ تو خاکسار نے خود کیا ہے۔ قومی اسمبلی اور دیگر عمارتوں پر بھی سرکاری اخراجات میں کمی آئی ہے۔ کوئی بھی حکومت اپنا ایجنڈا اسی صورت میں نافذ کر سکتی ہے۔ جب وہ موثر قانون سازی کرے۔ اس حوالے سے حکومت کو ابھی تک کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا دعوی ہے کہ انہوں نے مقصود ایشو پر انقلابی قانون سازی کا مسودہ کیا ہے۔ لیکن ایسا مسودہ کس کام کا۔ قانون سازی تو پارلیمنٹ کا کام ہے۔ کوئی مسودہ قانون سب سے پہلے متعلقہ وزارت کی قائم کمیٹی میں جاتا ہے۔ زیر بحث آتا ہے۔ اس میں ترامیم کی جاتی ہیں۔پھر کہیں جا کر وہ مسودہ حتمی شکل اختیار کر کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری کے مراحل سے گزرتا ہے۔ پھر کابینہ منظور کرتی ہے۔ صدر مملکت کے پاس دستخط کیلئے جاتا ہے۔ تب کہیں جا کر وہ قانون بنتا ہے۔ لیکن موجودہ حکومت ابھی تک قائم کمیٹیاں مکمل نہیں کر سکی جس کی وجہ سے قانون سازی کا عمل لیٹ پڑا ہے۔ تین ماہ گزر چکے۔ 4 اجلاس گزرچکے لیکن ڈیڈ لاک کی سی کیفیت ہے۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملہ پر تنازع قانون سازی کی راہ میں اکاؤنٹ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تنازع کو حل کرے۔ تاکہ قومی اسمبلی اپنا کردار ادا کرے۔ اسی طرح فارن پالیسی کا معاملہ ہے۔ حکومت فارن پالیسی پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیرا عظم عمران خان نے سب سے پہلے تو امریکی صدر کی پرزہ سرائی کا بحث موثر اور دبنگ انداز میں جوا ب دیا ہے۔ جس کے بعد امریکی حکام کے ہوش ٹھکانے آئے ہیں۔ اب وہ پس پردہ رابطوں کے ذریعے معاملات کو کول ڈاؤن کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم کے چین، سعودی عرب، متحدہ امارات ملائشیا کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ کچھ ظاہری اور کچھ پوشیدہ۔سعودی عرب نے کھل کر اقتصادی پیکج دیا۔ موخر ادائیگی پر تیل بھی۔ چین کا سٹائل ذرا مختلف ہے۔ وہ اعلان کر کے کچھ نہیں کرتے۔ اور کچھ نہیں ہوا تو سی پیک پر چھائے شکوک کے بادل جھٹ گئے۔ یو اے ای نے بھی سرمایہ کاری کا دعوی کیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی سو دنوں میں جو سفارتی چھکا ہے۔ وہ کرتارپورہ بارڈر کی اوپننگ ہے۔ جس کے دور رس سفارتی اثرات ہونگے۔ 

5 لاکھ مکانوں کی تعمیر بلدیاتی انتخابات، ایک کروڑ نوکریاں اور معیشت کی بحالی ایسے اقدامات ہیں۔ جو پی ٹی آئی کیلئے کڑا چیلنج ہیں۔ ان چیلنجوں سے عہدہ براہ ہونے کیلئے سو دن کافی نہیں۔ اس کیلئے پی ٹی آئی کو کڑی محنت کرنا ہو گی۔ عمران خان کا کپتانی کا یہ مشکل ترین دور ہے کہ وہ کیسی کپتانی کرتے ہیں۔


ای پیپر