ڈیم فنڈ ریزنگ قومی کمپین 
28 نومبر 2018 2018-11-28

جناب چیف جسٹس ثاقب نثار نے فرمایا ہے۔ چندے سے ڈیم بنانا ممکن نہیں۔ اگر ہم صرف چندے سے ڈیم بنانے کی کوشش کریں تو اس کوشش میں نو سال لگ جائیں گے۔ چنانچہ ہمیں ڈیم بنانے کے لیے اور پیسے اکھٹے کرنے کے لیے دوسرے ذرائع فنڈ ریزنگ پر بھی کام کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ماہرین معاشیات کو درخواست کی کہ چندے کے علاوہ فنڈ جمع کرنے کے مختلف ذرائع پر ان کی رہنمائی کی جائے۔ برطانیہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب چیف جسٹس صاحب نے وطن عزیز کو درپیش پانی کے مسائل پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا پاکستان میں آخری ڈیم چالیس سال قبل بنایا گیا۔ نئے ڈیمز کا نہ بنانا ایک مجرمانہ غفلت تھی اور اس کا حساب لینا ہو گا۔ پاکستان کے شہروں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے گر گئی ہے اور پینے کا صاف پانی عدم دستیاب ہوتا جا رہا ہے جبکہ سیوریج اور پینے کا پانی ساتھ ساتھ ہونے سے پینے کا پانی مضر صحت ہو رہا ہے اور پانی کی کمی نے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ وطن عزیز میں ہسپتالوں کی صورت حال ٹھیک نہیں اور مریضوں کو دوائیاں میسر نہیں۔ ان کا یہ بھی فرمانا تھا کہ پاکستان میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ یاد رہے آنر ایبل چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب اپنے بیٹے کی گریجوئیشن تقریب میں شرکت کرنے ایک نجی دورے پر برطانیہ تشریف لائے تھے اور ان کے ہمراہ ان کی فیملی کے افراد بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس صاحب کے مطابق ان کے اس نجی دورے کے دوران کچھ درد مند اشخاص نے جو اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں۔ بھاشہ ڈیم کی تعمیر کے لیے چند فنڈ ریزنگ تقریبات کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں شرکت کرنا ان کے نزدیک ایک قومی فریضہ تھا۔ چیف جسٹس صاحب کا فرمانا تھا۔ فنڈ ریزنگ مہم نہ صرف ایک قومی کمپین بن چکی ہے بلکہ ایک انسانیت کی بنیاد بنتی جا رہی ہے۔ برطانیہ میں منعقد ڈیم کی تعمیر کے لیے یہ فنڈ ریزنگ تقریبات خاصی کامیاب رہیں اور تارکین وطن اور نیک نام اور سخی پرور افراد نے دل کھول کر اس فنڈ ریزنگ مہم میں حصہ لیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس فنڈ ریزنگ مہم کے دوران خطیر رقم اکھٹی کی گئی اور کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح جناب چیف جسٹس صاحب کا یہ دورہ کامیاب رہا۔ لیکن اس کے باوجود چیف جسٹس صاحب کا یہ فرمانا کہ ہمیں ڈیمز بنانے کے لیے چندے کے علاوہ دوسرے ذرائع فنڈ ریزنگ پر بھی توجہ دینی ہو گی۔ ایک حقیت پسند سوچ کا مظہر ہے۔ یاد رہے بھاشہ ڈیم کی تعمیر کے لیے 14 بلین ڈالر کا تخمینہ ہے جو پاک روپے میں تقریبا 18 کھرب یعنی 18 سو ارب روپے بنتا ہے۔ اگر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہا اور پاک روپے کی قیمت گرتی رہی تو یہ تخمینہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسٹیٹ بنک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ڈیم فنڈ میں اب تک سات ارب ستانوے کروڑ روپے اکھٹے ہوے ہیں جس میں پاکستان کے اندر سے سات ارب روپے جبکہ ستانوے کروڑ روپے بیرون ملک سے آئے ہیں۔ ان ستانوے کروڑ روپوں میں امریکہ سے آنے والا چندہ نمبر ون جبکہ برطانیہ دوسرے نمبر پر ہے۔ یاد رہے اسٹیٹ بنک نے ڈیم فنڈ ریزنگ مہم کے تحت ہونے والی کسی بھی بنک ٹرانسفر پر کسی بھی قسم کی فیس ختم کر رکھی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی تارکین وطن سے فنڈ ریزنگ مہم میں ایک ایک ہزار ڈالر دینے کی اپیل کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ صرف چندے سے یہ ڈیم تعمیر کرنا ممکن نہیں ہے۔ جس رفتار سے چندے آ رہے ہیں۔ اس کے مطابق 1800 ارب روپے اکھٹے کرنے میں ایک صدی لگ سکتی ہے۔ اس لیے جناب چیف جسٹس صاحب نے دوسرے ذرائع فنڈ ریزنگ مثلا بانڈ وغیرہ پر بھی ماہرین معیشت کی رائے طلب کی ہے۔ یاد رہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت بھاشہ ڈیم کی زمین پہلے ہی 120 ارب روپے سے خرید چکی ہے اور مسلم لیگ ن کی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ وہ بھاشہ ڈیم کو اپنے ملکی ذرائع سے تعمیر کرے گی۔ ایک اندازے کے مطابق ملکی ذرائع سے یہ ڈیم تعمیر کرنے کی صورت میں ملکی جی ڈی پی کا دس فیصد خرچ ہو سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے۔ اتنے بڑے پراجیکٹس چندوں سے تعمیر نہیں ہوتے ان کے لیے ڈونر ملکوں اور ڈونر تنظیموں اور عالمی بنکوں کی ضرورت پڑتی ہے لیکن بدقسمتی سے اس وقت عمران حکومت غیر ملکی امداد حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ عمران حکومت کو اس وقت اپنا بیلنس آف پیمنٹ درست کرنے کے لیے 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ ن لیگ حکومت نے جو 18 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑے تھے۔ وہ اس وقت سات ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ تجارتی خسارہ دن بدن بڑھ رہا ہے جبکہ سعودی عرب، چین ، یو اے ای اور ملائشیا کے دورے کسی بھی قسم کی مالی امداد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک لطیفہ گردش میں ہے۔ سعودی قرض خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ چینی امداد بتائی نہیں جا سکتی۔ یو اے ای مدد دکھائی نہیں جا سکتی جبکہ آئی ایم ایف کا قرض کڑی شرائط کی بنا پر لیا نہیں جا سکتا۔ 

اس صورتحال میں جناب چیف جسٹس صاحب کی چندہ مہم قابل ستائش ہے۔ پانی کے مسائل پر انہوں نے جو قومی مہم اٹھائی ہے۔ وہ ان کے اخلاص، دردمندی اور قوم سے محبت کی مظہر ہے اور ہر پاکستانی کو نہ صرف اس کی تعریف کرنا چاہیے بلکہ دل کھول کر اس میں حصہ لینا چاہیے۔ ایسے موقع پر سوشل میڈیا پر جو تنقیدی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جناب چیف جسٹس صاحب کس حیثیت سے چندہ مہم میں حصہ لے رہے ہیں یا یہ کہ اگر انہوں نے بات کرنی ہے تو اپنی عدالتوں اور انصاف کی ترسیل کے حوالے سے بات کریں یہ کہ عدالتوں میں لاکھوں مقدمات التواء کا شکار ہیں۔ کئی کئی سال لوگوں کو انصاف نہیں ملتا جبکہ چیف جسٹس صاحب عدالتی انصاف اور عدالتی ریفارمز پر کام کرنے کی بجاے ڈیمز اور پانی اور ہسپتالوں پر توجہ دے رہے ہیں جو کہ حکومتی کام ہیں۔ اس طرح جناب چیف جسٹس صاحب کے اس برطانوی نجی دورے کے اخراجات پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ ایک اعتراض یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان فنڈ ریزنگ مہم تقریبات کے سپانسرز ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے افراد تھے۔ یہ تمام اعتراضات براے اعتراضات ہیں اور اس عظیم قومی کمپین کے سامنے ہیچ ہیں۔ اس کے باوجود اگر ممکن ہو تو سپریم کورٹ کے آفس کو سرکاری طور پر ان تمام اعتراضات کا ایک ایک کرکے مناسب جواب دینا چاہیے تاکہ عام لوگوں کے ذہن میں کوئی بدگمانی نہ رہے اور ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ ریزنگ مہم کامیابی سے رواں دواں رہے اور جناب چیف جسٹس صاحب نے جو یہ نعرہ حق ببانگ دہل بلند کیا ہے کہ وہ دریائے سندھ کے ایک ایک انچ پر ڈیم تعمیر کر دیں گے۔ وہ اس میں کامیاب ہو سکیں۔ 


ای پیپر