’دہلی 360کلو میٹر‘‘ : انڈیا کی تھرڈ کلاس سفارتکاری
28 نومبر 2018 2018-11-28

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان انڈیا معاملات میں انڈیا نے اس طرح کا طرز عمل اپنا رکھا ہے کہ اسے عالمی سفارتی سطح پر بیک فٹ پر جا کر اپنی ساکھ بچانی پڑ رہی ہے جس میں پے در پے بہت سے واقعات شامل ہیں انڈیا کی شرمندگی کا سلسلہ بلوچستان میں کلبھوشن کی گرفتاری سے شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر دنیا بھر میں ہونے والا احتجاج حتیٰ کہ انڈیا کے اندر انسانی حقوق اور خواتین تنظیموں نے وہاں عورتوں کے حقوق کی پامالی پر آواز اٹھائی۔ عمران خان کے وزیراعظم بننے پر نریندر مودی کو خصوصی طور پر حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی مگر وہ نہ آئے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کے مؤقف کو سراہا گیا جبکہ انڈیا کو قیام امن میں عدم دلچسپی کا ذمہ دار قرار دیا گیا پھر اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان اور انڈیا کے وزرائے خارجہ کی ملاقات طے ہوئی جسے پہلے بھارت نے رضا مندی ظاہر کی مگر عین موقع پر منحرف ہو گیا۔ 

دونوں ممالک کے درمیان خفیہ جنگ بھی جاری ہے کلبھوشن نیٹ ورک کے ٹوٹنے کے بعد انڈیا تے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ اپنے ملک سے کسی پاکستانی جاسوس کو پکڑ کر دنیا میں پراپیگنڈا کرے مگر اس میں اسے آج تک کامیابی نہیں ہوئی۔ انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس میں انڈین خفیہ ایجنسی Raw نے ہمیشہ پاکستان کی ISI سے شکست کھائی ہے کیونکہ پاکستانی ایجنسی نے ’’را‘‘ کے ہر حملے کو بے نقاب کیا ہے خواہ وہ کلبھوشن کی شکل میں ایران سے آپریٹ کریں یا افغانستان کی ایجنسی NDS کے ساتھ مل کر کوئی سازش کریں ہماری کاؤنٹر انٹیلی جنس کے ریڈار سے نہیں بچ سکتے۔ 

حال ہی میں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر خود کش حملہ افغانستان اور انڈیا کا جوائنٹ آپریشن تھا جسے پاکستان کے بہادر پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر ناکام بنایا۔ اس حملے کی وجہ یہ تھی کہ عمران خان کے 5 روزہ دورۂ چین میں انہیں اس قدر پذیرائی ملی جو ایک تاریخی ریکارڈ سے انڈین سفارتی حلقے اس سے اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار تھے کہ انہوں نے فوری طور پر پاک چائنا تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے یہ حملہ پلان کیا مگر انہیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ اس حملے سے پاکستان کو 2 بہت بڑے فائدے حاصل ہوئے ہیں ۔ پہلا فائدہ تو یہ ہوا ہے کہ حملے میں مارے جانے والا ایک شخص وہ تھا جسے گزشتہ کئی سال سے لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کر کے پاکستان آرمی کے خلاف جعلی مہم چلائی جا رہی تھی کہ وہ ملک دشمنوں کو غائب کر دیتی ہے حالانکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ روپوش ہو کر خفیہ تنظیموں میں دہشت گردی کے لیے بھرتی ہو جاتے 

ہیں اور ان کے لواحقین دانستہ طور پر پاکستانی ایجنسیوں کے خلاف پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ اس حملے کے بعد ان کی قلعی کھل گئی ہے۔ دوسرا اور اہم ترین فائدہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان کے قریبی دوست چائنا نے ہماری سکیورٹی پر اطمینان کا اظہار کیا کیونکہ اس حملے میں کوئی چینی باشندہ ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ چین پاکستان سے اس قدر خوش ہے کہ چائنا کے اندر عوامی سطح پر شہید پاکستانی پولیس اہلکاروں کے لیے عطیات اکٹھے کیے جا رہے ہیں یعنی انڈیا نے پاک چائنا تعلقات خراب کرنے کے لیے جو قدم اٹھایا تھا اس سے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ چائنا نے اس حملے کو سی پیک پر حملہ سمجھتے ہوئے انڈیا پر سرخ نشان لگا دیا ہے کہ وہ چین کو نقصان پہنچانے کے در پے ہے۔ اس کا دور رس ردعمل آئے گا کیونکہ اب چائنا خاموش نہیں رہے گا چینی اخبار پہلے ہی اپنی حکومتی پالیسی واضح کر چکے ہیں کہ سی پیک پر حملہ چائنا پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ 

اسی اثناء میں پاکستان نے کرتار پور بارڈر کو سکھ یاتریوں کے لیے کھول کر ایک بہت بڑا لینڈ مارک عبور کر لیا ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے انڈین سفارتکاری کو چاروں شانے چت کر دیا ہے کیونکہ انڈیا کبھی بھی یہ بارڈر نہیں کھولنا چاہتا تھا لیکن یہ چونکہ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے مشرقی پنجاب کے کروڑوں لوگوں کی خواہش تھی جسے رد کرنا انڈین حکومت کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ تھا اس لیے انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی یہ فیصلہ کرنا پڑا اس موقع پر بھی سفارتی سطح پر پاکستان کاپلہ بھاری نظر آتا ہے کیونکہ کرتار پور کوریڈور کے افتتاح کے موقع پر پاکستان نے انڈین وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی مگر انہوں نے معذرت کر لی۔ البتہ عمران خان کے کرکٹ کے ساتھی اور انڈین پنجاب کے وزیر نجوت سنگھ سندھو نے اس میں شرکت کا اعلان کیا۔ 

انڈیا میں 19 مارچ کو عام انتخابات ہو رہے ہیں جس میں نریندر مودی کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ مودہ حکومت نے سکھوں کو خوش کرنے کے لیے کرتار کوریڈور کھول تو دیا ہے مگر انتخابات کے بعد اگر مودی دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ اس کو کسی بھی وقت بند کر سکتے ہیں البتہ انتخابات میں ان کی جیت کے امکانات کم ہیں۔ مذاکرات سے انکار کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ جب تک انڈیا میں نئی حکومت قائم نہیں ہوتی ہمیں انتظار کرنا پڑے گا مودی کے دور میں انڈین معیشت نیچے آئی ہے اور فی کس آمدنی میں کمی اور غربت میں اضافہ ہوا ہے اس کے باوجود انڈیا نے اپنا ڈیفنس بجٹ پہلے سے مزید بڑھا دیا ہے۔ 

پاک و ہند تعلقات کے ضمن میں اس ہفتے ہمیں تاریخ کے سب سے بڑے مذاق کا سامنا کرنا پڑا یہ واقعہ ایسا ہے کہ اس پر ہنسی روکنا ممکن نہیں اس احمقانہ واقعے نے تو سرجیکل سٹرائیک کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے انڈیا کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ RAW کے چیف کو کان پکڑوا کر جوتے مارنے چاہئیں۔ ہوا یہ کہ فیصل آباد کے ایک اسلامی مرکز کے دو طالبعلم طیب اور ندیم قصور میں گنڈا سنگھ بارڈر پر پرچم کشائی دیکھنے گئے جہاں پرانے دور کا سنگ میل اب بھی موجود ہے جس پر لکھا ہے کہ دہلی 360 کلومیٹر اور فیروز پور 9 کلو میٹر ۔ یہ ایک طرح سے ایک یادگار ہے جو آنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ ان دونوں طالب علموں نے اس سنگ میل کے ساتھ اپنی تصویر بنا کر اسے سوشل میڈیا پر جاری کر دیا۔ یہ تصویر انڈیا کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے وہاں سے لفٹ کر کے پورے ملک کے ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے ساتھ چلا دی کہ یہ 2 دہشت گرد انڈیا میں داخل ہو چکے ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں۔ اینکر حضرات نے کہنا شروع کر دیا کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ پاکستان سے ہمارے ملک میں در اندازی ہو رہی ہے۔ انڈیا کو اس وقت تاریخی شرمندگی اور ڈوب مرنے کی کیفیت در پیش ہوئی جب پاکستانی میڈیا نے ان دونوں نوجوانوں کی نہ صرف شناخت بتائی بلکہ انہیں لائیو پیش کر دیا کہ وہ پاکستان میں ہیں اور ایک سیلفی بنانے پر انہیں انڈیا میں دہشت کی علامت سمجھ لیا گیا ہے۔ اس احمقانہ الزام پر انڈین حکومت RAW اور بھارتی میڈیا اب منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ 

خبریں آ رہی ہیں کہ کرتار پور کاریڈور کھل جانے پر دنیا بھر میں سکھ برادری بہت خوش ہے کینیڈا میں مقیم سکھ کمیونٹی نے جذبۂ خیر سگالی کے تحت ڈیم فنڈ کے لیے رقم دینے کا اعلان بھی کیا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے نریندر مودی کے کہنے پر کرتار پور بارڈر کھلنے کی تقریب میں شمولیت سے معذرت کی ہے۔ ایک اچھے اور سکھ دوست فیصلے کو انہوں نے سیاست کی نذر کر دیا یہ سب کچھ انہوں نے محض کرسی بچانے اور اقتدار کی خاطر کیا ہے مگر اس کے باوجود ان کی پارٹی پنجاب پر حکومت سے محروم ہونے والی ہے کیونکہ سکھوں کی اکثریت اگلے الیکشن میں ان کے خلاف ووٹ دے گی۔ 

ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر انڈیا کو دفاعی پوزیشن میں بلکہ گھٹنے ٹیکنے کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ انڈیا نے نواز دور میں پاکستان کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تقریباً عملاً بے دخل کر دیا ہے مگر پاکستان نے اب یہ دونوں Out Posts انڈیا سے واپس چھین لی ہیں عمران خان کا حالیہ دورۂ سعودی عرب اور امارات اس کی مثال ہے۔ 


ای پیپر