پاپولسٹ لیڈروں کا ابھار
28 نومبر 2018 2018-11-28

ارادہ تو تحریک انصاف کی حکومت کے 100 دن پورے ہونے پر اس کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا مگر احساس ہوا کہ ابھی شاید ایک یا دو دن باقی ہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ ان دو دنوں میں یہ حکومت کچھ ایسا کر دے کہ سارا تجزیہ ہی دھرے کا دھرا رہ جائے۔ اس لیے فی الحال 100 دن کی کارکردگی پر تجزیہ چند دنوں کے لیے مؤخر کر دیا ۔ شرط زندگی اگلے کالم میں اس کا ذکر ہو گا۔ 

فی الحال اس کالم میں ایک اور اہم مسئلہ زیر بحث لاتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے بالعموم اور 2008 ء کے عالمی معاشی بحران کے بعد سے دنیا کے مختلف ممالک میں دائیں بازو کے ریڈیکل اور پاپولسٹ رہنماؤں کا ایک واضح ابھار نظر آتا ہے ۔ خاص طور پر صدر ٹرمپ کے صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد اس عمل میں تیزی آئی ہے۔ اس ابھار کی تازہ ترین مثال برازیل کے نو منتخب صدر بولسنارہ ( Bolsanaro ) کی واضح انتخابی فتح ہے۔ بہت سارے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دائیں بازو کے پاپولسٹ راہنما تیزی سے ابھر کر سامنے آ رہے ہیں ۔ چند سال قبل یا اس سے بھی قلیل عرصے میں بننے والی جماعتیں اور رہنما روایتی حکمران اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹیوں کے مقابلے میں انتخابی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔ پاپولسٹ رہنماؤں کا ابھار 21 ویں صدی کی اب تک کی سب سے اہم سیاسی نشونما اور مظہر قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہوا ہے کہ مغربی ممالک میں دو جماعتی مضبوط سیاسی اور انتخابی نظام کی موجودگی کے با وجود نئی سیاسی قوتوں اور پاپولسٹ قیادتوں کو ابھر نے کا موقع مل گیا اور کئی دہائیوں تک دو جماعتوں کو مسلسل ووٹ دینے والے ووٹرز نے پرانی جماعتوں کو مسترد کرتے ہوئے نئی قوتوں کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں دائیں بازو کے پاپولسٹ رہنما سامنے آئے ہیں جبکہ چند ممالک میں بائیں بازو کے پاپولسٹ لیڈر بھی جتنے میں کامیاب ہوئے ہیں یا انہیں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکہ، فرانس، جرمنی، سویڈن، ہالینڈ، ہنگری، پولینڈ، ترکی، فلپائن، آسٹریا، برازیل اور انڈیا میں دائیں بازو کے پالولسٹ لیڈر ابھرے ہیں تو برطانیہ، پرتگال، سپین اور یونان میں بائیں بازو کی جماعتوں اور ہنماؤں نے نمایاں کامیابی سمیٹی ہے۔ 

ان میں سے کچھ رہنماؤں نے تو پرانی روایتی دائیں بازو کی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے ہی کامیابی سمیٹی ہے جیسا کہ صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر ا مودی جبکہ میکرون اور دیگر رہنماؤں نے نئی جماعتوں کے ذریعے اپنا پاپولسٹ پیغام اور نعرے عوام تک پہنچائے۔ 

پاپولسٹ قیادتوں کی کامیابی کی اہم وجہ تو یہ ہے کہ پرانی جماعتیں اور قیادتیں معاشی بحران اور عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ وہ سرمایہ دار حکمران طبقہ جو کہ سرمایہ داری نظام کو چلانے کا ذمہ دار ہے وہ 2008ء کے عالمی معاشی بحران کو مکمل طور پر حل کرنے پر اور عوامی مسائل کو کم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ حکمران طبقے کی روایتی دائیں بازو کی جماعتیں معاشی بحران کے نتیجے میں پیدا ہ ونے والے مسائل اور مشکلات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں اور اس طرح روایتی سوشل ڈیمو کریٹ جماعتیں بھی ایسا پروگرام، لائحہ عمل اور پالیسیاں سامنے لانے میں ناکام رہی ہیں جو کہ سرمایہ داری نظام کو در پیش مشکلات، مسائل اور چیلنجز کا سامنا کر سکیں اور عوامی مسائل کو بھی کسی حد تک حل کر سکیں۔ دراصل 2008ء کا عالمی معاشی بحران سرمایہ دار حکمران طبقے کی ناکام معاشی پالیسیوں کا نتیجہ تھا مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنے اور اپنی معاشی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی بجائے عالمی سرمایہ دار طبقے نے اس معاشی بحران کا بوجھ محنت کش عوام اور درمیانے طبقے پر منتقل کر دیا۔ ایک طرف تو ملٹی نیشنل کمپنیوں، بڑے کاروباری اداروں، بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے کھربوں ڈالر ان نجی اداروں کو دیئے گئے۔ دوسری طرف فلاحی ریاست، سماجی پروگراموں، منصوبوں اور پہلے سے حاصل شدہ فوائد اور مراعات پر شدید حملے کیے گئے۔ بجٹ خسارے اور قرضوں کی شرح کم کرنے کے نام پر عوام کو حاصل شہ سہولیات، سروسز ارو سماجی فلاحی سہولیات کو واپس لیا گیا۔ بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں نہ صرف غربت میں اضافہ ہوا بلکہ سماجی و طبقاتی تفریق بڑھ گئی اور عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوا۔ تنخواہوں میں یا تو کمی ہوئی یا پھر جامد کر دی گئیں۔ ایک طرف امیر ترین افراد کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہوا کیونکہ ان پر ٹیکس کی شرح کم کر دی گئی جبکہ نیو لبرل پالیسیوں کے نتیجے میں عوام اور درمیانے طبقے کی آمدن اور معیار زندگی میں کمی واقع ہو گئی۔ نیو لبرل معاشی پالیسیوں نے دنیا میں امارت اور غربت کے درمیان تفریق کو اس بلند سطح پر پہنچا دیا جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ عوام کی اکثریت کو غربت، بے روزگاری ، معاشی بدحالی اور سہولیات سے محرومی کی زندگی کے دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اور درمیانے طبقے نے روایتی جماعتوں، قیادتوں اور حکمران طبقے کی بجائے نئی سیاسی قوتوں یا رہنماؤں کا انتخاب کیا۔ یہ دراصل ان حالات کے خلاف عوامی ردعمل ہے جن میں انہیں رہنے اور زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ ان رہنماؤں کی کامیابی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ پیچیدہ معاشی اور سماجی مسائل کا بہت ہی سادہ حل پیش کرتے ہیں۔ یہ بے روزگاری، طبقاتی تفریق ، غربت، بھوک 228 طبقاتی اور سماجی استحصال ، نسلی ، قومی، جنسی اور لسانی تعصبات اور اختیارات کی وجہ غایت ہی سادگی سے مہاجرت اور بدعنوانی کو قرار دیتے ہیں۔ یہ ان مسائل کی وجہ چند بدعنوان لیڈروں اور حکمران طبقے کی ایک حصے کی بدعنوانی اور بد انتظامی کو قرار دیتے ہیں اور ان معاشی پالیسیوں اور نظام کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں جو کہ ان تمام معاشی و سماجی برائیوں اور مسائل کی جڑ ہے۔ یہ رہنما اس بات کو مانتے ہی نہیں ہیں کہ غربت، بے روزگاری، بھوک، استحصال ، کم اجرتیں اور عدم مساوات کی وجہ محنت کش عوام کا بے تحاشا استحصال اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ ان تمام مسائل کو چند بدعنوان افراد یا رہنماؤں کے کھاتے میں ڈال کر اپنی ایمانداری، دیانت اور خلوص کی بنیاد پر ان کا حل پیش کرتے ہیں۔ یہ رہنما اس نظام اور طبقے کا حصہ دار ہونے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے باوجود خود کو سیاسی طور پر ان سے الگ دکھاتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ مقتدر قوتوں اور روایتی حکمران اشرافیہ کے خلاف ہیں اور عوام کے ساتھ ہیں مگر دراصل یہ اس نظام اور اشرافیہ کا حصہ ہوتے ہیں۔ پاپولسٹ رہنما عمومی طور پر بدعنوانی، امیگریشن، امن و امان ، اشرافیہ مخالف، معاشی بحالی، قوم پرستی، نسل پرستی اور عظمت رفتہ کی بحالی کے نعروں کے ساتھ سیاست کرتے ہیں اور نعروں کے ذریعے عوام میں اپنی حمایت کرتے ہیں۔ 

اپنی تمام تر کمزوریوں اور بیانیے کی خامیوں کے باوجود ان رہنماؤں میں صلاحیت اور قابلیت ہوتی ہے کہ یہ اپنا پیغام واضح اور سادہ الفاظ میں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ یہ اس دانش، فکر اور علمی قابلیت اور کرشماتی شخصیت سے محروم ہوتے ہیں جس سے 1960ء اور 1970ء کی دہائی کے زیادہ تر رہنما مالا مال تھے۔ سرمایہ داری نظام کے بحران اور معاشی پالیسیوں نے وہ حالات پیدا کیے ہیں جن میں پاپولسٹ رہنما بآسانی نشوو نما پا سکتے ہیں اور ابھر سکتے ہیں۔ 


ای پیپر