ایران سنی عالم دین کو مسجد کے باہر قتل کر دیا گیا 
28 نومبر 2018 (16:30) 2018-11-28

تہران: ایران میں سنی اور شیعہ فرقوں کے درمیان مصالحت کے حامی ایک سنی عالم دین کو گولی مار کر قتل کردیا گیا ۔

اطلاعات کے مطابق سنی عالم عبدالغفور جمال زئی کو دارالحکومت تہران سے قریباً 300 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع قصبے گورگان میں ایک مسجد کے باہر قتل کیا گیا ہے۔ انھیں شکار کے لیے استعمال ہونے والی بندوق سے پشت سے گولی ماری گئی تھی۔

واقعے کی مزید تفصیل بتائی گئی اور نہ یہ بتایا کہ مسلح حملہ آور وں کی تعداد کیا تھی اور ان کے محرکات کیا تھے؟ فوری طور پر کسی گروپ نے قتل کے اس واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔رپورٹ کے مطابق مقتول عالم دین اس بات میں یقین رکھتے تھے کہ دشمنانِ اسلام ایران میں اہلِ تشیع اور اہلِ سنت کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایران میں اہلِ تشیع کی اکثریت ہے اور اہلِ سْنت ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ تاہم انھیں ایران میں شیعہ آبادی کے برابر شہری اور مذہبی حقوق حاصل حاصل نہیں ہیں۔جولائی میں ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک اور سْنی عالم دین کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔


ای پیپر