احتساب عدالت نے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 9 دن کی توسیع دیدی
28 نومبر 2018 (13:38) 2018-11-28

لاہور: احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 9دن کی توسیع کردی،دوران سماعت شہباز شریف کی میڈیکل رپورٹس بھی عدالت میں پیش کردی گئیں، شہباز شریف سے اظہار یکجہتی کیلئے بڑی تعداد میں لیگی رہنمااور کارکن بھی آئے لیکن انہیں سول سیکرٹریٹ چوک میں ہی روک دیا گیا جس پر شہباز شریف کے حق میں اورحکومت کے خلاف نعرے لگائے جاتے رہے ۔

نیب کی جانب سے محمد شہباز شریف کو انتہائی سخت سکیورٹی میں احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن کے رو برو پیش کیا گیا ۔نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ اور اسد اللہ پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے نیب کے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کتنے دن کا ریمانڈ لے چکے ہیں؟جس پر نیب حکام نے بتایا کہ شہباز شریف 54 روز سے تحویل میں ہیں تاہم سابق وزیراعلی پنجاب نے تصحیح کی کہ 55 دن ہوچکے ہیں۔ احتساب عدالت کے جج نے مزید استفسار کیا کہ 55 روز ہوگئے، کیا تفتیش مکمل نہیں ہوئی؟نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا جس کی وجہ سے تفتیش نہیں ہوسکی۔

شہباز شریف نے کہا کہ اس دوران بھی تفتیش ہوتی رہی اور انہیں سوالنامہ دیا گیا تھا۔ نیب وکیل نے کہا کہ 19 نومبر کو شہباز شریف کو سوالنامہ دیا گیا جس میں مشکوک ٹرانزیکشن سے متعلق سوالات تھے۔ شہباز شریف نے تحریری جواب جمع کرا دیا ہے جس میں کچھ چیزیں اہم ہیں۔ کچھ سوالات کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ مجھے یاد نہیں، میں چیک کر کے بتاؤں گا۔ شہباز شریف نے 6 کروڑ کے تحائف اپنے اہل خانہ کو دیئے۔اس موقع پر شہباز شریف نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے بات کرنا چاہی جس پر احتساب عدالت کے جج نے شہباز شریف کو دلائل دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی باری پر جواب دیں گے۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ پراجیکٹ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور ان پر بطور وزیراعلی پنجاب قومی خزانے کو کڑوروں کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔جو گفٹس دیئے گئے ہیں ہم ان کی تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔جو گفٹ دیئے گئے اس کا ریکارڈ موجود نہیں، ٹیکس ریٹرن ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں کہ 6 کروڑ کے گفٹ کیسے دیئے؟۔جس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر آشیانہ کیس کی بات کریں کہ اس میں کیا بے ضابطگی ہے۔ شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ آشیانہ اقبال کیس کے حوالے سے ہونے والی میٹنگز میں شریک افراد سے سامنا نہیں کروایا گیا۔جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ان لوگوں کے بیان ریکارڈ ہوچکے ہیں۔تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ جی تمام لوگوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ گواہان کے بیانات قلمبند کرنے ہیں اور ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے۔اس کے بعد شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 10 جنوری سے نیب اس معاملے میں انکوائری کر رہا ہے، 11 ماہ کا وقت گزر گیا ہے جس میں 55 دن کا جسمانی ریمانڈ بھی شامل ہے۔ شہباز شریف ٹیکس ادا کرتے رہے ہیں اور ان کی 20 کروڑ آمدن تھی، اگر انہوں نے 6 کروڑ کے تحائف دئیے تو یہ کون سا جرم ہے اور کس قانون کے تحت جرم ہے۔

شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے دیگر ساتھی ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جاچکے ہیں، نیب غیر قانونی طور اور کسی وجہ کے بغیر جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر رہا ہے جبکہ نیب ایف بی آر سے شہباز شریف کے ٹیکس سے متعلق تمام معلومات لے چکا ہے۔ایک دھیلہ بھی ایسا نہیں جس کا ریکارڈ شہباز شریف نے نہ دیا ہو، جس کیس میں جسمانی ریمانڈ مانگا جا رہا ہے اس میں تمام تر تفصیلات نیب کو دے چکے ہیں اور ریکارڈ بھی دیا جاچکا ہے۔ شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں شہباز شریف کے پاس ایک انچ بھی ایسی زمین نہیں جس کا ریکارڈ موجود نہیں، پاکستان سے باہر بھی کوئی جائیداد بغیر ٹیکس کے نہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شہباز شریف کے خلاف ریفرنس تیار ہے جو جلد دائر کر دیا جائے گا جس پر احتساب عدالت کے جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ریفرنس تیار کر کے اپروول کے لیے بھجوا دیا ہے؟تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ابھی ریفرنس تیار کر رہے ہیں کچھ قانونی چیزیں پوری کرنی ہیں۔

اس موقع پر شہباز شریف کی میڈیکل رپورٹس بھی عدالت میں پیش کی گئیں ۔نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ وہ شیخ زید ہسپتال سے شہباز شریف کا میڈیکل چیک اپ کرائیں گے جس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پمز سے ان کا علاج ہونا چاہیے کیونکہ ان کی بیماری سے متعلق تمام ہسٹری انہیں معلوم ہے۔جس پر عدالت نے نیب کی جانب سے شہباز شریف کے ریمانڈ میں توسیع کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعد ازاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 9 دن کی توسیع کرتے ہوئے سماعت 6 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور عدالت آنے والے تمام راستے کنٹینر زاور خاردار تار لگا کر بند رکھے گئے جس کی وجہ سے شہباز شریف سے اظہار یکجہتی کے لئے آنے والے اراکین اسمبلی سمیت رہنما اور کارکن سول سیکرٹریٹ چوک سے آگے نہ جا سکے۔


ای پیپر