ایک مُثبت یُوٹرن
28 نومبر 2018 2018-11-28

تحریک انصاف نے حکومت بنانے کے بعد بسنت کے حوالے سے اپنے موقف پر بھی یوٹرن لے لیا ہے کہ شہباز شریف کے پورے دور میں تحریک انصاف کے رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ بسنت سمیت کسی بھی معاملے پر پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے، محفوظ بسنت کا نہ کروایا جانا شہباز شریف حکومت کی نااہلی اور ناکامی ہے۔ وہ دلیل دیتے تھے کہ بسنت لاہوریوں کا ایک ایسا تہوار ہے جس کی بین الاقوامی پہچان اور اہمیت ہے جس نے اپنی مقبولیت میں ہندوستان اور متحدہ عرب امارات سمیت دنیا بھر کے پتنگ بازی کے تہواروں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔جب آخری مرتبہ جنرل پرویز مشرف کی خواہش پر اس وقت کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے بسنت منانے کی باقاعدہ اجازت دی تھی تو بلاشبہ لاہور کے چھوٹے بڑے ہوٹلوں میں جگہ نہیں رہی تھی، پورے شہرکی فضا رنگ برنگی پتنگوں سے رنگین ہو گئی تھی، پتنگ ساز تو ایک طرف رہے، نانبائیوں سمیت بہت سارے دیگر کاروباروالوں کی عید ہو گئی تھی ،کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے محنت کشوں اورمزووروں کی جیبوں میںمنتقل ہوئے تھے۔

تحریک انصاف والے کہتے تھے کہ ان کی پارٹی نوجوانوں کی ہے اور اگر ان کی حکومت بنی تو وہ نوجوانوں کی خواہشات کے عین مطابق لاہور میں بسنت کروا کے دکھائیں گے مگر جب میں نے یہی سوال حکومت بننے کے بعد پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جمشید اقبال چیمہ کے سامنے رکھا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میںبسنت ایک بڑا تہوار بنااور یہ بھی کہ اس کے ذریعے پیسہ امیروں کی تجوریوں سے نکل کے غریبوں کی جیب میں جاتا ہے مگر ان کا سوال سو فیصد درست ہے کہ کیا بسنت مناتے ہوئے ان قوانین پرعمل کیاجاتا ہے جو جان و مال محفوط بنانے کے حوالے سے بنائے گئے ہیں۔ بسنت کے حوالے سے باقاعدہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی طرف سے کی گئی قانون سازی بھی موجود ہے جس میں کسی بھی ضلع کے ناظم ( یعنی بلدیاتی سربراہ) کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے ضلعے میں پندرہ روز کے لئے پتنگ بازی کی اجازت دے سکتا ہے تاہم عملی طور پر یہ اجازت وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے ہوتی ہے۔ جمشید اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ ایسی بسنت کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس میں کیمیکل لگی ڈور موٹرسائیکل سواروں کے گلے کاٹ رہی ہو جس میں بچے پتنگیںلوٹنے کے لئے سڑکوں پر گاڑیوں تلے کچلے جا رہے ہوں، جہاں بدتہذیبی عروج پر ہو اورچھتوں پر کھڑے اوباش نوجوان دوسرے گھروں میںجھانکتے ہوئے بہوبیٹیوں کی عزتیں اچھال رہے ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم بہ حیثیت مجموعی قانون پر عمل کرنے والا ایک مہذب معاشرہ بن جائیں گے تو بسنت کی اجازت بھی دے دی جائے گی۔

خواجہ ندیم سعید وائیں اور شیخ محمد سلیم ڈسٹرکٹ کائیٹ فلائینگ ایسوسی ایشن کے عہدیدار رہے ہیں۔ شیخ محمد سلیم وہ شریف آدمی ہیں جنہیں بسنت کا اعلان کرنے کے جرم میں ایک مرتبہ اس وقت کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے سی آئی اے کے ذریعے اٹھوا لیا تھا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے بھی بسنت پراتنے یوٹرن لئے کہ یہ معاملہ ان کے لئے راو¿نڈ اباو¿ٹ بن گیا۔ ہر سیزن میں اعلان کیا جاتا تھا کہ وزیراعلیٰ نے محفوظ بسنت کے لئے متعلقہ اداروں او رذمہ داروں سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔ کہاجاتا رہا کہ جلو پارک یا راوی کے پیٹ میں بسنت منانے کی اجازت دی جا رہی ہے، ایک موقعے پر چھانگا مانگا میں بسنت کے انعقاد کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا اور حکومتی کمیٹی کے ارکان چھانگا مانگا پہنچ بھی گئے مگر بعد ازاں وہ اعلان واپس لے لیا گیا۔ لاہور میں پرویز مشرف کے دور کے بعد ایک ہی مرتبہ بسنت منائی جاسکی اور وہ2009 تھا جب پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی اسمبلی کو معطل کرتے ہوئے سلمان تاثیر مرحوم کی قیادت میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔ یہ بسنت بھی ایک سیاسی لطیفہ تھی کیونکہ اس بسنت کا اعلان اس لانگ مارچ کو لاہور میں ناکام بنانے کے لئے کیا گیا تھا جو نواز شریف کی قیادت میں عدلیہ بحالی کے لئے تھا ۔ لاہوریوں نے اس روز بسنت کم منائی تھی اورلانگ مارچ میں زیادہ شرکت کی تھی مگر بہرحال وہ آخری بسنت تھی جس کا اعلان ہنگامی بنیادوں پر کیا گیا تھا۔

خواجہ ندیم وائیں اور شیخ سلیم کہتے ہیں کہ اس مرتبہ بھی جلو پارک میں اجازت دے دی جائے، حکومت قانون کے مطابق ڈسٹرکٹ کائیٹ فلائینگ ایسوسی ایشن کے انتخابات کروائے اور ذمہ داریاں دے۔ سید ذوالفقار حسین بسنت فیسٹیول کے آرگنائزر کے طور پر بسنت کی تاریخوں کا بھی اعلان کرتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لاہور کا تہوار انڈیا، گلف اور یوکے کو دے دیا گیا ہے مگر بنیادی سوال پر وہ اختلاف نہیں کرتے کہ کیا محفوظ بسنت ممکن ہے۔میرا کہنا ہے کہ آپ بسنت کو کسی علاقے اور کچھ دنوں تک محدود نہیں کر سکتے ۔ یہاں جمشید اقبال چیمہ کی دلیل درست ہے کہ سو کلومیٹر لمبے اور چالیس پچاس کلومیٹر چوڑے شہر میں رہنے والے سوا کروڑ لاہوریوںکو چالیس ہزار پولیس اہلکاروں کے ذریعے محفوظ بسنت منانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کیاپولیس چندفٹ کی گلیوں میں کئی کئی منزلہ گھروں سے غیر قانونی ڈوریں اور پتنگیں برآمد کر سکتی ہے، ہرگز نہیں،مجھے یقین ہے کہ اگر پولیس ، لیسکو اور دیگر اداروں سے بھی پوچھا جائے تووہ یہ خوا مخواہ کا عذاب گلے میں ڈالنے کی ہرگز حمایت نہیں کریں گے۔ تفریح ہمارا حق ہے اورہلا گلا ہر کسی کو اچھا لگتا ہے کہ مگر کوئی بھی تفریح اور ہلا گلا اپنے بچوں کے زندگی کی قیمت پر نہیں کیا جا سکتا، دنیا کی کوئی مہذب قوم ایسا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب پرویز مشر ف کے دباو¿ پر چودھری پرویز الٰہی نے بطور وزیراعلیٰ لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دی تھی تو دس سے زائد بچے اور بڑے نامعلوم ہاتھوں سے نکلنے والی ڈوروں اور چھتوں سے گر کر مارے گئے تھے۔ میں اس موقعے پر موجود تھا جب آنکھوں میں آنسو لئے ان مر جانے والے بچوں کی مائیں اور باپ چودھری پرویز الٰہی سے تین، تین لاکھ روپے کے امدادی چیک لیتے ہوئے سسک رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ چودھری صاحب یہ چیک آپ رکھ لیں اور ہمیں ہمارے بچے واپس لوٹا دیں۔ میں نے وہاںچودھری پرویز الٰہی جیسے جہاندیدہ شخص کے دل کو بھی پگھلتے ہوئے دیکھا تھا۔

پی ٹی آئی کے رہنما جمشید اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ بسنت کی مخالفت یو ٹرن نہیں بلکہ درست راستے کی طرف قدم ہے، اگر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بسنت منانے کی اجازت دی جائے گی تو میری طرف سے صاف جواب ہے جو ’ناں ‘ہے مگر میرا خیال ہے کہ ابھی حتمی فیصلہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بطور وزیراعظم کریں گے۔ بسنت کی حمایت سے مخالفت کا یوٹرن بہت اچھا ، بہت مقدس ہے مگربسنت فروری کے وسط میں ہوتی ہے اور پی ٹی آئی کے پاس ان ساٹھ ، ستر دنوں میں ایک اور یوٹرن لینے کے کم از کم ساٹھ ، سترمواقعے موجود ہیں۔


ای پیپر