عدالت عظمیٰ اور شعبہ صحت کی حالت زار
28 May 2021 2021-05-28

پہلے ملک کے ایک بڑے اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر پر ایک نظر ڈالئے۔

عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے ملک میں امراض قلب کے غیر مستند ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کے دل کے آپریشن کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ہدایت جاری کی ہے کہ ان غیر رجسٹرڈ اور نان کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کو دل کی سرجری کی اجازت نہ دی جائے۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس مطاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے بدھ کے روز ملک میں دل کے مریضوں کو غیر معیاری سٹنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی تو پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب میں امراض قلب کے چالیس سرٹیفائیڈ ڈاکٹر ز ہیں۔ عدالت نے امراض قلب کے غیر مستند ماہرین کی حوصلہ شکنی کی ہدایت کی اور کہا کہ صوبائی ہیلتھ کئیر کمیشنز میں امراض قلب کے ڈاکٹروں کی رجسٹریشن ہونی چاہیے تاکہ مریضوں کی زندگیوں کو نان کوالیفائیڈ ڈاکٹروں سے بچایا جا سکے۔ عدالت نے قرار دیا کہ صحت کے معاملے میں کسی بھی غفلت کی ذمہ داری متعلقہ ہیلتھ کئیر کمیشن پر عائد ہو گی۔ فاضل چیف جسٹس نے ریماکس دئیے کہ پورے خیبر پختونخواہ میں صرف ایک کوالیفائیڈ سرجن کا ہونا حیران کن ہے۔ دیکھنا ہو گا اس صورت حال میں گزشتہ ایک سال کے اندر خیبر پختونخواہ میں امراض قلب کے 4615 پروسیجر کیسے ہو گئے۔ عدالت نے پنجاب میں بھی امراض قلب کے ماہر ڈاکٹروں کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب ہیلتھ کمیشن میں صرف 40 سرٹیفائیڈ ڈاکٹرز کا ہونا صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اتنے ڈاکٹرز تو صرف لاہور میں ہونے چاہییں۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ امراض قلب کا معاملہ پروفیشنل ڈاکٹروں کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔ کاروبار ی لوگوں نے امراض قلب کو پیسہ بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے“ ۔

اس خبر پر تبصرے کی گنجائش نہیں۔ عدالت عظمی کے سامنے چونکہ صرف امراض قلب بالخصوص سٹنٹ کے حوالے سے مقدمہ زیر سماعت ہے اس لئے عدالت کے ریماکس بھی اسی شعبے تک محدود ہیں لیکن طب و صحت کا ایسا کون سا پہلو ہے جس پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا جاسکے۔ ایسی ایسی کہانیاں سننے میں آتی ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سرجری یا آپریشن یقینا انتہائی مہارت کا شعبہ ہے۔ صرف مکمل طور ر تربیت یافتہ اور معقول تجربہ رکھنے والا ڈاکٹر ہی یہ کام سر انجام دے سکتا ہے۔ لیکن وطن کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک جو کچھ ہو رہا ہے۔ وہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے والا انتہائی شرمناک کھیل ہے۔ گردوں کی خرید و فروخت کے بارے میں آئے دن خبریں اخبارات میں آتی رہتی ہیں۔ کوئی اس طرح کا جائزہ لے تو پتہ چلے کہ ملک بھر میں گردوں کے علاج معالجے، کسی بھی طرح کے پروسیجر یا پیوند کاری کے کتنے ماہرین ہیں۔ لیکن دکانیں ہیں کہ گلی گلی محلے محلے کھلی ہوئی ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر ہے بھی تو اس کا بھتہ مقرر ہے جو اسے باقاعدگی سے ملتا رہتا ہے۔ بینائی کتنی قیمتی چیز ہے۔ اللہ نہ کرئے کہ کوئی بصارت سے محروم ہو۔ لیکن وقفے وقفے سے خبریں آتی رہتی ہیں۔ کہ کس طرح کسی اناڑی نام نہاد معالج امراض چشم کی وجہ سے لوگ بینائی گنوا بیٹھے۔ یہاں تو قدم قدم پر کینسر جیسے موذی مرض 

کے لئے ٹونوں اور ٹوٹکوں کے ٹھیلے لگائے "معالج" بھی موجود ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کی نگہبانی کا نظام نا پید ہے۔ ہے بھی تو غیر موثر اور بد عنوانی میں لت پت ۔ سرکاری ہسپتالوں کا رونا تو ہم اکثر روتے رہتے ہیں۔ جہاں مفت علاج کے نام پر مریض، ہر قسم کا سلوک برداشت کرتے رہتے ہیں۔ کسی بڑے کوالیفائیڈ ڈاکٹر کا چہرہ دیکھنا تو انہیں کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ اکثر میڈیکل کالجوں کے طلبا ءو طالبات کی تجربہ گاہ بنے 

رہتے ہیں۔ اب وہ زمانہ بھی گیا کہ ہسپتال سے غریبوں کو مفت دوا مل جاتی تھی۔اب تو پرچیوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات تو انجکشن کی سرنج بھی مریض کے لواحقین کو خرید کر لانا پڑتی ہے۔ دوسری طرف پرائیویٹ ہسپتالوں کی عمومی حالت بھی نا گفتہ بہ ہے۔ سب کے بارے میں کہنا تو نا انصافی ہو گی لیکن زیادہ تعداد، شفا خانوں اور ہسپتالوں کے نام پر منافع خوری کا اندھا کاروبار چل رہا ہے۔ ان ہسپتالوں میں مریض کو ایک شکار سمجھا جاتا ہے۔ ایک دفعہ جال میں آ جانے کے بعد اس شکار کی کھال ادھیڑ نا ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ضرورت ہے یا نہیں، طرح طرح کے ٹیسٹ، ایکسرے، سی۔ ٹی۔ سکین اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ کمرے کا ایک دن کا بل کسی فائیو سٹار ہوٹل کے بل سے بھی زیادہ۔ جو ایک بار شکنجے میں آگیا، اسکی بیماری جائے نہ جائے، بہت کچھ چلا جاتا ہے۔

آج کل کرونا کی وبا چل رہی ہے۔ اس کے علاج سے جڑی کہانیاں بھی کم نہیں۔ مجھے ذاتی طور پر تجربہ ہوا کہ کچھ لوگ ویکسی نیشن میں بھی کرپشن کا دھندا چلا رہے ہیں۔ پانچ ہزار روپیہ دیں، کسی بھی نام کی ویکسین کا ٹیکہ لگ جائے گا اور ویکسی نیشن کا باضابطہ سرٹیفیکیٹ بھی مل جائے گا۔ کرونا کی پرائیویٹ علاج گاہیں بھی دونوں ہاتھوں سے مال بنا رہی ہیں حکومت آئے دن خوش خبری سناتی ہے کہ اس نے ہیلتھ کارڈ کا دائرہ فلاں شہر یا علاقے تک پھیلا دیا ہے۔ لیکن ہیلتھ کارڈ رکھنے والے دو چار شہریوں سے پوچھیے کہ انہیں کب کس بیماری کے لئے ہسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کرنے اور ہیلتھ کارڈ استعمال میں لانے کی ضرورت محسوس ہوئی اور ان پر کیا گزری؟

سپریم کورٹ نے تعجب کااظہار کیا ہے کہ پورے صوبہ خیبر پختونخواہ میں امراض قلب کا صرف ایک تربیت یافتہ کوالیفائیڈ سرجن ہے۔ ذرا حساب لگائیے کہ گزشتہ ایک سال میں خیبر پختون خواہ میں 4615 پروسیجرکیسے ہو گئے؟، خیبر پختونخوا کی آبادی ساڑھے تین کروڑ افراد کو چھو رہی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لئے ایک ہارٹ سرجن۔ اس پر کیا کہا جاے اور کیا لکھا جائے؟ دعوے، تقریریں، بیانات، ٹی۔وی ٹاک شوز، کارکردگی کی خوبصورت کہانیاں سب ایک طرف اور دوسری طرف پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی طرف سے حیرت کا اظہار۔ بس یہی کافی ہے۔ آج کل تو ہر شخص نے موبائیل تھام رکھا ہے۔ ہر موبائیل میں کیلکولیٹر بھی موجود ہے۔ فرصت ملے تو حساب کتاب لگا لیجئے کہ اگر صوبے میں 4615 ہارٹ پروسیجر اسی ایک ماہر امراض قلب نے کئے ہیں تو اوسطا ہر روز اس نے کتنے مریضوں کا علاج کیا؟ اگر کسی ایک فرد کی طرف سے ایسی جناتی کارکردگی خارج از امکان ہے تو ممکن ہے اگلی سماعت میں معزز جج صاحباب یہ بھی پوچھیں کہ یہ پروسیجر کن ”ماہرین“نے کئے۔

پنجاب کی آبادی گیارہ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لئے چالیس ہارٹ سپیشلسٹ۔ گویا اوسطا تقریبا پچیس لاکھ افراد کے لئے ایک ماہر امراض قلب ہے۔ اب ہمیں یہ معلوم نہیں کہ پنجاب میں سال بھر کے اندر کتنے ہارٹ پروسیجر ہوئے اور یہ کہ کیا ایسے تمام پروسیجرز ان چالیس ڈاکٹروں نے کئے یا ان اناڑیوں نے کئے جن کے ہاتھ دلوں پر نشتر چلاتے بھی نہیں کانپتے۔

زرا یہ بھی حساب کتاب لگا یا جائے کہ ہمارے پرائیویٹ میڈیکل کالج کیا کچھ کر رہے ہیں۔ کیا وہ مطلوبہ معیار پر پورے اترتے ہیں؟ کیا وہ واقعی اہل اور ہنر مند ڈاکٹرز پیدا کر رہے ہیں؟ یا انہوں نے بھی بقول جج صاحبان، اسے کاروبار بنا لیا ہے اور ہمارے ہاں کے ہر دوسرے کاروبار کی طرح ان کا بھی واحد مقصد پیسے بٹورنا ہے۔


ای پیپر