کوروناسے لڑنے کے لئے دنیا کا یک جا ن ہونا ناگزیر
28 May 2020 (22:18) 2020-05-28

کو رونا وا ئرس کی بناء پر جہا ں ترقی یا فتہ ممالک کو معاشی مسا ئل در پیش ہیں، وہیںترقی پذیر ممالک کو کورونا وائرس کے ساتھ غربت کا مسئلہ درپیش ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ایک نہ دکھائی دینے والے وائر س نے جس طرح اقوام عالم کو اپنی لپیٹ میں لے کر بے دست و پا کردیا ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ نظامِ زندگی مفلوج ہے اور تین لاکھ سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا کوئی نہیں جانتا۔ وائرس کے خلاف جنگ میں عالمی سطح پر ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ ہماری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے۔ کروڑوں لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے معیشت کا پہیہ چلانابھی ضروری ہے۔ لہٰذا موجودہ صورتحال میں وائرس سے بچائو اور معیشت بحالی کے اقدامات میں توازن پیدا کرنا ہے۔اس ضمن میںا قوام عالم کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔ دنیا کے تمام ممالک کو اس سچ کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ انہوں نے اسلحے کی دوڑ میں شامل ہوکر، نظام صحت کو تباہی و بربادی سے دوچار کردیا ہے۔ ایک وائرس کا ترنوالہ جس طرح لاکھوں انسان بن رہے ہیں اور جدید طبی سائنس تاحال اس کا علاج دریافت کرنے سے قاصر نظر آرہی ہے اس تمام تر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام عالم کو اپنی سوچ، فکر اور طرزِ حیات کو تبدیل کرنا ہوگا تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔ جنگی جنون کو ترک کرکے انسانیت کی بقا کے لیے شعبہ صحت پر بھرپور توجہ دینی ہوگی۔ اگر دنیا نے جینے کے انداز نہ بدلے تو پھر اسی طرح کے دیگر وبائی امراض کا شکار ہوکر موت کو گلے لگانا ہوگا۔ حیاتِ انسانی چاہتے ہیں تو اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لائیں، کورونا وائرس کے خاتمے کے بعد نئی دنیا تشکیل دیں جس میں انسانی اقدار کو فوقیت حاصل ہو۔طبی ماہرین کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے لاک ڈائون میں نرمی کا فیصلہ دراصل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے کیونکہ ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ غربت کا مسئلہ درپیش ہے۔ اڑھائی کروڑ محنت کش یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں یا خود روزگار سے وابستہ ہیں۔ ان کے ساتھ بارہ سے پندرہ کروڑ مزید افراد جڑے ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس کی قیامت خیزی اپنی جگہ، غربت کا پھیلائو روکنا بھی حکومت کا فرض ہے۔ عالمگیر وبا سے نمٹنے کے لیے پاکستان سمیت 100 سے زائد ترقی پذیر ممالک عالمی بینک کی معاونت حاصل کر رہے ہیں۔ جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) کی جانب سے کورونا وائرس سے پید اہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے منصوبوں کے لیے ساڑھے دس ارب سے زائد کے فنڈ کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ہم اگر دونوں خبروں کا لب لباب کریں تو کچھ یوں ہے کہ غیرملکی مالیاتی ادارے ہم پر جس اعتماد کا اظہار کررہے ہیں وہ ہماری ملکی معیشت اور پبلک سیکٹر کے لیے نیک شگون ہے۔ لاک ڈائون کے ہاتھوں پریشان پاکستانی قوم کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے شاپنگ مالز کھولنے کی اجازت مژدہ جانفزا ثابت ہوئی۔ ملک بھر میں شاپنگ مالز کھلے تو خریداری کے لیے عوام ٹوٹ پڑے۔ لیکن دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچائو کے لیے بنائے گئے ایس اوپیز پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔ مارکیٹوں میں موجود بہت کم

لوگوں نے ماسک کا استعمال کیا، سماجی فاصلے کا بھی خیال نہیں رکھا جارہا ہے۔ ایسا محسوس ہورہاہے جیسے کورونا وائرس کا خاتمہ ملک سے ہوگیا ہے اور لاک ڈائون کی اسیر قوم کو رہائی مل گئی ہے، وہ سڑکوں اور بازاروں میں نکل آئی ہے۔ بچے، نوجوان، خواتین اوربزرگ سب شاپنگ میں مصروف ہیں۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ ہم ایک ناسمجھ قوم ہیں جو کورونا وائرس کی تباہ کاریاں دنیا بھر میں دیکھنے کے باوجود اسے خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔ کیا پاکستانی عوام جشن مرگ انبوہ منارہے ہیں۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ہمیں اپنے ان ہم وطنوں کا خیال بھی رکھنا چاہیے جو عید منانے سے قاصر ہیں، بے جا اسراف سے پرہیز کرتے ہوئے ہمیں اپنے غریب اور بے روزگار ہم وطنوں کی دل کھول کر مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں ہمارے ساتھ شریک ہوسکیں۔کورونا وائرس سے تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی شاہین رضا سمیت ہلا کتوں کی تعدا د میں روز افزوں اضا فہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ موت کا بھیانک رقص جاری ہے، صورتحال سنگین ہوتی چلی جارہی ہے اور ہم خواب غفلت کا شکار ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں لاک ڈائون کھلنے کے بعد ریکارڈ کورونا کیسز سامنے آنا شر وع ہو چکے ہیں۔ لاک ڈائون نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے۔ ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچے جو مختلف اداروں میں علاج، تعلیم اور بحالی کی خدما ت پارہے تھے، لاک ڈائون اور اداروں کی بندش نے ان سب کو گھروں میں بند کردیا ہے جس سے حالات بگڑ رہے ہیں، امید کا رشتہ ٹوٹ رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ان اداروں کی بحالی کے لیے بھی فوری طور پر احکامات جاری کرنے چاہئیں۔ ہر مشکل گھڑی میں پاک فوج ہی قوم کے کام آتی ہے۔ ملکی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میںبھی پاک فوج اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔ خصوصی فوجی طیارے کے ذریعے زائرین کا چوبیس رکنی وفد گلگت بلتستان پہنچ گیا ہے۔ زائرین میں سے بیس کا تعلق سکردو جبکہ چار کا تعلق گلگت ریجن سے ہے۔ یہ زائرین تفتان میں پھنسے ہوئے تھے۔ زائرین کو آرمی چیف اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان کی ہدایت پر واپس لایا گیا ہے۔ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ پاک فوج نے اب تک 550 سے زائد زائرین کو ان کے گھروں تک پہنچایا ہے۔ پاکستان ریلوے کی بحالی سے عام آدمی کو یقینا ریلیف ملا ہے۔ اب عوام اپنے آبائی علاقوں میں بآسانی پہنچ کر عزیزوں اور رشتے داروں کے ساتھ عید کی خوشیاں مناسکیں گے۔ آن لائن سسٹم کے ذریعے بکنگ کرانے والے مسافروں کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ریلوے اسٹیشنز پر موجود بکنگ آفس کھولنے کا فیصلہ بھی درست ہے۔ ریلوے انتظامیہ نے جو حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیںان کے تحت ماسک اور ہینڈ سینی ٹائزر کے بغیر کسی مسافر کو ٹرین میں جانے کی اجازت نہیں۔ سامان کی چیکنگ بھی کمپیوٹرائزڈ مشینری سے کی جارہی ہے۔ پہلی بار سماجی دوری کی خلاف ورزی پر 500 روپے جرمانہ، دوسری بار ایک ہزار روپے اور تیسری خلاف ورزی کرنے پر مسافر کو اگلے سٹیشن پر اتار دیا جائے گا۔ جبکہ اسٹیشنوں سے متصل 200 میٹر ایریا میں غیرضروری افراد کے داخلے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ تمام کوششیں اس وقت رنگ لائیں گی جبکہ عوام ان پر سختی سے عملدرآمد کریں گے۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ لاہور میں حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے پر تمام پبلک ٹرانسپورٹرز نے گاڑیاں چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ جی ٹی روڈ پر کرایوں میں 20 فیصد کمی کے ساتھ تمام سیٹوں پر مسافروں کو بٹھایا جائے گا جبکہ موٹر وے پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں کرایوں میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور ایک سیٹ چھوڑ کر مسافر کو بٹھایا جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لائق تحسین اقدامات کے سبب ذرائع آمد و رفت کی بحالی سے عام آدمی کی مشکلات میں کمی ہورہی ہے۔عالمی بینک کی جانب سے غریب اور کمزور طبقات کے لیے 25 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد میں کیش ٹرانسفر بھی شامل ہے، اس امداد سے یقینا ریلیف ملے گا۔ دوسری جانب ایک رپورٹ میںخدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک کو پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سستی درآمدات کی وجہ سے اگر آئل ریفائنریوں نے پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار گھٹادی تو ان مصنوعات کی قلت ہوسکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوراً مسئلے کا حل تلاش کرے ورنہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملنے والا ریلیف اپنی افادیت عام آدمی کے لیے کھو بیٹھے گا۔ لاک ڈائون میں نرمی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمام احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کردیا جائے اور شتربے مہار کی طرح جہاں جی چاہے وہاں چلے گئے۔ کورونا وائرس جھوٹ نہیں، حقیقت ہے۔ ہمیں اس حقیقت کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھنا ضروری ہے۔ عوام جب تک حکومت کے ساتھ مکمل اور بھرپور تعاون نہیں کریں گے اس وقت تک کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔


ای پیپر