کشمیری ڈومیسائل قانون پر او آئی سی اعلامیہ خوش آئند
28 May 2020 (22:17) 2020-05-28

گزشتہ ہفتے اسلامی تعاون تنظیم کے مستقل انسانی حقوق کمیشن نے ٹوئٹرپر جاری کردہ اپنے پیغام میں بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے قواعد 2020ء کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت جبری طور پر آبادیاتی تبدیلی کے ذریعے منظم طریقے سے مقامی آبادی کو اپنی ہی زمین پر اقلیت میں تبدیل کرکے ان کے حقِ خود ارادیت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اور یہ کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے جس کی ضمانت بین الاقوامی انسانی حقوق کے متعددمعاہدوں کے تحت حاصل کی گئی تھی جس میں جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 27 اور 49 شامل ہیں۔ کمیشن نے مزید کہا ہے کہ بھارتی حکومت اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں کی طرف سے مذمت کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی ، معاشی اور مواصلاتی بندوشوں کے ذریعے کشمیری مسلمانوں پر منظم ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارت نے گزشتہ برس 5 اگست کو 370 اور 35 (A ) کا خاتمہ کر کے کشمیر کی جو آئینی اور قانونی حیثیت تبدیل کی تھی، اس کی مختلف شقیںپچھلے 9 ماہ سے مرحلہ وار نافذ کر رہا ہے ۔ ایسے وقت میں جب دنیا کرونا کے عذاب میں پھنسی ہوئی ہے اور اس سے مقابلہ کرنے کی کوشش میں ہے، بھارت مکاریوں اور چال بازیوں کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس نے گزشتہ ماہ ایک اعلامیے کے ذریعے کشمیر میں شہریت کا نیا قانون " جموں و کشمیر ڈومیسائل سرٹیفکیٹ قواعد 2020ء" نافذ کر دیا جو کہ صرف اور صرف کشمیر کی جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ جس کے مطابق سرکاری محکموں میں چپڑاسی، خاکروب، پولیس کانسٹیبل اور نچلی سطح کے کلرک وغیرہ کلاس فور کے عہدوں کو کشمیری عوام کے لئے مخصوص کیا گیا ہے جب کہ گزٹیڈ پوسٹس کے لئے پورے انڈیا سے امیدوا ر نوکریوں کے لئے اہل ہوں گے۔ جس کی صرف یہی وجہ ہے وہ بھارت میں سینئر آفیسرز کی نوکریوں پر ہندوؤں کو تعینات کرنا چاہتا ہے تا کہ ایک تو وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا سکے، دوسرا ان ہندو افسران کے ذریعے کشمیرمیں من مانے فیصلے نافذ کر سکے، ظاہر ہے جب 70 لاکھ کشمیریوں کو 130 کروڑ ہندوؤں سے مقابلہ کرنا پڑے گا تو اسی تناسب سے کشمیریوں کے لئے بڑی نوکریاں محدود ہو جائیں گی۔ کشمیر کی سیاسی اور انتظامی حیثیت کے بارے میں اس اعلامیے پر کشمیری عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس اگست میں کشمیر کو وفاق میں مکمل طور پر ضم کر کے خطے کو دو حصوں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا تھا۔ بھارت سمجھتا تھا کہ کشمیری کبھی اس قانون کو تسلیم نہیں کریں گے اس لئے گزشتہ 9ماہ سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور ساتھ ہی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ سیکڑوں سماجی شخصیات اور نوجوانوں کو گرفتار کیا ہوا ہے۔ سیاسی اجتماعات، تقاریر اور انٹر نیٹ پر پابندی ہے۔ کرفیو

کی وجہ سے کشمیری جو کئی مہینوں سے مصائب کا شکار ہیں یہ اعلان کر کے محصور کشمیریوں کا نفسیاتی ٹارچر کیا ہے۔ ہندو توا کے لوگوںکو خوش کرنے کے لئے مودی کشمیریوں کو سزا دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

اگر تاریخی طور پر مشاہدہ کیا جائے تو اپنے جماعتی منشور میں کسی بھارتی پارٹی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بین الاقوامی تنازعے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے حکومت کی ان ظالمانہ پالیسیوں پر تنقید کی جن کے تحت بے گناہ کشمیریوں کو فوجی بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شروع دن سے ہی بھارت کی سیاسی جماعتوں میں اس بات پر مکمل اتفاق رہا ہے کہ کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت کسی صورت نہیں دیا جائے گا اور پوری ریاست کو پچھلے 72 سالوں سے بزورِ طاقت بھارت کا اٹوٹ انگ بنا کر رکھا جا رہا ہے۔ اگر ہم بھارتی جنتا پارٹی کے عروج کی بات کریں تو اس کے ووٹوں کے پیچھے صرف مسلم اور پاکستان دشمنی ہے۔ بی جے پی اس وقت بھارت کی سب سے بڑی پارٹی ہے اس جماعت کے پیچھے آر ایس ایس اور ہندو توا کا بنیادی منشور بھارت کو مکمل طور پر ہندو دیش بنانا ہے۔

آزادی کے بعد بھارت نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ لیا اور اس پر سیکولرازم کا پردہ ڈال لیا۔ یہ لبادہ بھارت نے اپنی ہندو شناخت کو چھپانے کے لئے پہنا تھا۔ جب تک کانگرس کا دور رہا یہ لبادہ بھی کچھ کام کرتا رہا لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں سے یہ علامتی سا لبادہ بھی بی جے پی نے اتار پھینکا ہے۔ جس کے روحِ رواں انتہا پسند ہندو ہیں جو صرف ہندو مت کا پرچار اور ہندو مذہب کی تاریخی تہذیب کا احیاء چاہتے ہیں اور بھارت نے سیکولرازم کو چھوڑ کر اسی ایجنڈے کو شناخت بنا لیا ہے اور اسی ایجنڈے کو بھارتی عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ووٹ دے رہے ہیں۔ بی جے پی نے سیکولرازم کی جگہ بھارتی عوام کو ہندو ازم کے جنون میں مبتلا کر دیا ہے اور بھارت مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے لئے سنگین مسائل پیدا کر دئے ہیں اور کشمیر میں 370، 35-A کا خاتمہ اور حالیہ دنوں میں تقرریوں میں کشمیری ڈومیسائل کی جگہ پورے بھارت کے ڈومیسائل کے حامل افراد کو اہل قرار دیا جانا اسی کی کڑی ہے یعنی بھارت میں ہندو راج قائم کیا جائے گا یہاں سیکولر ازم یا جمہوریت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے جو ہندو دھرم سے تعلق نہیں رکھتا اسے یا تو مار دیا جائے گا یا پھر اسے یہاں سے بھگا دیا جائے گا۔ بھارت نے بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے جب کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اقلیتوں کو مذہبی آزادی نہ ملنا بھارتی سیکو لرازم کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اسی حوالے سے "یو ایس کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی" نے بھی بھارت کی جانب سے انسانیت کے خلاف جرائم، مذہبی خلاف ورزیوں اور بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی مسلسل کوششوں کی دینا کے سامنے نشاندہی کی ہے۔

آج تمام دنیا کرونا وائرس کی زد میں ہے،کرۂ ارض کی بڑی طاقتیں جو بات بات پر کمزور ملکوں کو اپنے ایٹمی دانت دکھاتے پھرتے تھے اس مہلک وائرس کے سامنے نے بس اور لاچار ہو چکے ہیں۔ جنممالک کو اپنے طبی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی پر فخر ہوا کرتا تھا وہ گھٹنوں کے بل آن گرے ہیں اور وقت کے بڑے بڑے فرعون بھی آسمان کی طرف نظریں کئے ہوئے کسی معجزے کے انتظار میں اپنے دن گزار رہے ہیں۔ دنیا انتہائی مشکل وقت سے گزر رہی ہے انسانی آبادی پر یہ کڑا وقت ہے۔ اس بیماری کے خوف نے لوگوں سے آرام سکون چھین لیا ہے اور ہر کوئی دعا گو ہے کہ اس وائرس کی وباء سے نکلنے کے لئے چشمِ فلک ان پر نظرِ کرم کرے اورا نہیں اس مشکل مرحلے سے سرخروئی کے ساتھ نکالے۔ لیکن ایسے مشکل حالات میں بھی نریندر مودی کشمیریوں کے ساتھ زیادتی کرنے کا کوئی موقع نہیں جانے دے رہا۔ مودی خوفِ خدا بھولا ہوا ہے اور اس نے نظر بند کشمیریوں کو ایک اور زک پہنچا دی ہے۔ یہ وقت خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کا ہے اور اس کا سب سے بہترین طریقہ مظلوموں کی دعائیں لینا ہے لیکن مودی ہندو توا کے زیرِ اثر ہیں انہیں کسی بات کا خوف نہیں ہے۔


ای پیپر