امیونٹی پاسپورٹ…
28 May 2020 (22:16) 2020-05-28

دوستو، خبر کے مطابق حکومتِ پاکستان نے بالآخر کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈی ٹیسٹ کرنے کی اجازت دے دی۔ پاکستان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹ کرنے کیلئے رہنما ہدایات جاری کردی ہیں۔ان ہدایات کے مطابق کورونا کا اینٹی باڈی ٹیسٹ عوام میں کورونا کے خلاف بننے والی قوتِ مدافعت کو جانچنے، ریسرچ پروجیکٹ، پیسیو امیونائزیشن کیلئے پلازما کے ڈونرز، اور بغیر کسی علامت کے اگر کسی کو کورونا کی موجودگی کا شبہ ہو تو اس صورت میں یہ ٹیسٹ صرف کسی مستند لیبارٹری سے کروایا جا سکتا ہے۔صرف ان کمپنیوں کی بنائی جانے والی کِٹوں سے اینٹی باڈی ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن کی کٹس امریکن ایف ڈی اے اور یورپی یونین سے منظور شدہ ہوں۔ واضح رہے کہ کورونا کی تشخیص کیلئے اینٹی باڈی ٹیسٹ گمراہ کن نتائج دیتا ہے اور مرض کی علامات کی موجودگی میں کورونا کا صرف پی سی آر ٹیسٹ کروایا جانا چاہئیے۔ کورونا کے اینٹی باڈی ٹیسٹ کی اجازت کورونا کی تشخیص کیلئے ہرگز نہیں ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں پچھلے دو ماہ سے اینٹی باڈی ٹیسٹ کروانے کی مہم شروع کی جاچکی ہے۔ جن لوگوں میں اینٹی باڈی کی موجودگی کی تصدیق ہوجاتی ہے ان کو ‘‘ امیونٹی پاسپورٹ’’ جاری کردیا جاتا ہے جس کے مطابق ایسے شخص کو کورونا کا دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے اور وہ لاک ڈاؤن سے نکل کر اپنے کام پر جا سکتا ہے اور معیشت کا پہیہ چلانے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔پاکستان میں ماہرین کے اصرار کے باوجود حکومتی ادارے پچھلے دو ماہ تک اینٹی باڈی ٹیسٹ کرنے کی اجازت دینے میں کشمکش کا شکار رہے اور لیت و لعل سے کام لیتے رہے تاہم عید سے دو دن پہلے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کی وجہ سے ہیلتھ سیکٹر میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔

آپ احباب کو یاد ہوگا رمضان المبارک میں اپنے کسی کالم میں ہم نے انکشاف کیا تھا کہ کورونا کی ویکسین کے بغیر اب شادیاں، بیرون ملک سفر، حج و عمرے بھی نہیں ہوسکیں گے۔۔ امیونٹی پاسپورٹ اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔۔ اب اس سے اگلی خبر بھی سن لیں ، دبئی پولیس کے ایک سائنسدان نے گلف نیوز کو بتایا کہ موبائل فون کورونا وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہیں اور امکان ہے کہ یہ آپ کے علم میں آئے بغیر کسی مرض کو گھر میں لے جانے والا ایک ٹروجن ہارس ہوں۔عالمی وبائی مرض کووڈ19 کے دوران، جس نے اب تک 4.6 ملین سے زائد افرادکو متاثر کیا ہے ، سائنس دان نے کہا کہ فون وباء کے پھیلاؤ اور آلودگی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔دبئی پولیس میں محکمہ برائے فارنسک سائنسز اینڈ کرمنولوجی کے ڈائریکٹر ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے آسٹریلوی یونیورسٹیز کے متعدد سائنسدانوں کے ایک گروپ کے ساتھ تحقیق کی جس میں یہ ثابت ہوا کہ موبائل فون کووڈ 19 سمیت دیگر جراثیم کی منتقلی کے لئے ایک راستہ پیش کرتے ہیں جس میں کووڈ19 بھی شامل ہے۔انہوںنے بتایاکہ ہم نے مختلف موبائل فونز کا تجزیہ کیا اور ان کی سطح پر سیکڑوں جراثیم پائے۔موبائل فونز کی اوپری سطح متعدی جراثیم جیسے بیکٹیریا اور کووڈ 19 وائرس رکھتے ہیں۔ فونز ٹروجن ہارس ہیں جو ممکنہ طور پر وبائی امراض میں کمیونٹی ٹرانسمیشن میں معاون ہوں گے۔تحقیق کے مطابق ، فونز کے ذریعے متعدی جراثیم کی یہ منتقلی لوگوں کی صحت کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ انفیکشن فون کے ذریعے کام کے مقامات ، عوامی نقل و حمل ، بحری جہاز اور ہوائی جہازوں میں پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ۔۔۔ موبائل فون دوران استعمال گرمی پیدا کرتا ہے اور یہ جراثیم کو زیادہ دیر تک زندہ رہنے اور ان کی پیدائش کے عمل کو متحرک کرتا ہے۔ موبائل فون کے زریعے کورونا وائرس سمیت وائرس کے پھیلاؤ میں مدد فراہم کرنے کا امکان ہے۔سائنس دانوں کے گروپ نے جرنل آف ٹریول میڈیسن اینڈ انفیکٹو بیماری کے تحقیقی نتائج شائع کرنے سے پہلے موبائل فون پر پائے جانے والے جرثوموں کا تجزیہ کرنے والے تمام مطالعات اور جرائد کا جائزہ لیا۔دبئی پولیس کے مطابق آلودہ موبائل فون بائیو سکیورٹی کیلئے ایک حقیقی خطرہ ہیں ، جن کی مدد سے متعدی امراض آسانی سے سرحدوں کو عبور کرسکتے ہیں۔اگر کوئی شخص وائرس سے متاثر ہوا ہے تو ان کے موبائل فونز کے آلودہ ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے کیونکہ وائرس طویل عرصے تک سطحوں پر رہ سکتے ہیں۔

آپ کو کافی بری بری خبریں سنادیں۔۔چلیں اب آپ کا موڈ خوشگوار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ شوہر نہانے کے لیے باتھ روم میں گیا تھا۔بیوی نے اسکا موبائل چیک کیا۔ کانٹیکٹ لسٹ میں ایک نام کورونا نظر آیا۔بیوی کو حیرت بھی ہوئی اور تجسّس بھی۔ بیوی نے وہ نمبر ڈائل کیا تو۔۔۔کچن میں رکھا اس کا خود کا فون بجنے لگا۔۔لاکھ سمجھانے پر بھی شوہر باتھ روم سے باہر نہیں آرہا۔۔ بول رہا ہے۔۔میں کورنٹائن میں ہوں۔۔۔ کورونا چونکہ عالمی وبا ہے، اس حوالے سے وقفے وقفے سے احتیاطیں اور مشورے عالمی ادارہ صحت جاری کرتا رہتا ہے۔۔ ذرا سوچیں ، موسیقی کے حوالے سے کیا مشورے سامنے آسکتے ہیں۔۔ عالمی ادارہ صحت کے کچھ منظور شدہ گانے آپ کو بتارہے ہیں آپ بلاجھجک سنیں پولیس آپ کو نہیں پکڑے گی۔۔ پہلا گانا ہے۔۔ تیری دنیا سے دور،چلے ہوکر مجبورہمیں یاد رکھنا۔۔( اپنی جان کی حفاظت کا یہی بہترین طریقہ ہے،عالمی ادارہ صحت)۔۔تیری گلیوں میں نہ رکھیں گے قدم۔۔۔(یہی اسپرٹ چاہیئے نوجوانوں میں،عالمی ادارہ صحت)۔۔ چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے،پھر بھی کبھی اب نام کو تیرے،آواز میں نہ دوں گا۔۔(ضابطہ اخلاق تو یہی کہتا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دوری اختیار کی جائے،عالمی ادارہ صحت)۔۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق موجودہ حالات میں ان گانوں سے سختی سے پرہیز کیا جائے۔۔لگ جا گلے کہ پھریہ حسیں رات ہو کہ نہ ہو۔ (سختی سے ممنوع)۔۔بانہوں میں چلے آؤ (سوال ہی پیدا نہیں ہوتا)۔۔۔تم پاس آئے یوں مسکرائے(نا ممکن۔۔۔ نا ممکن!)مسافر ہوں یارو۔۔ مجھے چلتے جانا ہے۔ (پاگل ہو گئے ہو؟ حکومت کی ہدایات ہیں کہ اپنے گھر میں لاک ڈاؤن رہنا ہے)۔۔ مست ملنگ کیتاای(حجام اور بیوٹی پارلرز ایس او پیز کے تحت کھولنے کا حکم دے دیاگیا ہے)۔۔میں تیرے عشق میں مرنہ جاؤں کہیں، تم مجھے آزمانے کی کوشش نہ کرنا (ماسک لگائیں،سوشل ڈسٹنسنگ اپنائیں)۔۔ پردیسی ،پردیسی جانا نہیں، مجھے چھوڑ کے(ارے جانے دو اسے، کوروناکا رکنا خطرناک ہوگا)۔۔میرے ہاتھوں میں نو،نو چوڑیاں ہیں(آپ کے ہاتھوں میں سینٹائزر ہونا چاہیئے)۔۔تم تو ٹھہرے پردیسی ساتھ کیا نبھاؤ گے (اسٹے ہوم،اسٹے سیف)۔۔یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں(کہابھی تھا، احتیاط کرو۔۔ہوگئے ناں کورونا وائرس کا شکار)۔۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔سوشل ڈسٹنگسنگ ان سے سیکھو جو کام نکلنے جانے کے بعد دور ہوجاتے ہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر