لاک ڈائون کا خاتمہ… خطرہ ابھی ٹلانہیں
28 May 2020 (22:15) 2020-05-28

جوکام بڑے کرتے ہیں وہی پھرچھوٹے بھی کرتے ہیں۔ہمارے ہاں توویسے بھی بڑوں کے نقش قدم پرچلنے کانہ صرف رواج عام ہے بلکہ اس معاشرے میں بزرگوں کے طورطریقوں، کام ،اقدام اورحرکتوں کواپنانے کو بڑوں کی تعظیم سے تعبیرکرکے خربوزے سے رنگ پکڑنے والوں کو فرمانبردار، تابع فرمان اور وفادار جیسے نام واعزازسے بھی نوازاجاتاہے۔ایسے معاشرے میں جہاںنافرمانی اورمن مانی کی سزا بہت سخت ہو وہاں پھر بڑوں کے طور طریقوں سے بھلا کون ظالم انکار کی جرأت کر سکتا ہے۔۔؟ کورونا کواقتدارمیں بیٹھنے والے ہمارے بزرگوں نے مذاق میں لیا۔ایسے میں پھرگلی محلوں میں پھرنے اوررہنے والے ہمارے جیسے کیڑے مکوڑے کورناکوسنجیدگی کے ساتھ لیکر بزرگوں کی نافرمانی جیسے گناہ اورجرائم کاارتکاب کیسے کرسکتے تھے۔۔؟کہاجارہاہے کہ چھوٹے اگرگھروں میں ٹک کربیٹھتے توحالات کبھی اتنے خراب نہ ہوتے۔ماناکہ بہت سے چھوٹوں نے ضدی بچوں کی طرح گھروں سے نکل کر کرونا کو زبردستی گلے لگایا مگر انتہائی معذرت کے ساتھ بڑے اگرشروع میںاس طرح دھوم دھام کے ساتھ کروناکااستقبال نہ کرتے ۔اسے اس ملک میں خوش آمدیدنہ کہتے توچھوٹوں کوپھراس طرح کرنے کی نوبت،ہمت یاضرورت کبھی پیش نہ آتی۔ایسے وقت میں جب پوری دنیاکروناپراپنے دروازے بندکررہے تھے ہمارے بڑے تفتان بارڈرسمیت اپنے تمام دروازے کھول کرکروناکوویلکم ویلکم کہتے رہے پھرانہی بڑوں کی دیکھادیکھی ہمارے چھوٹوں نے بھی بازاروں،چوکوں اورچوراہوں پرنکل کرکروناکی ہرجگہ مہمان نوازی شروع کردی ۔آج اگراس ملک میں کروناہردسویں یابیسویں گھرکامہمان بناہواہے تواس میں چھوٹوں سے زیادہ ہمارے ان بڑوں کاہاتھ ہے جوآج بھی چین کی بانسری بجاکراقتدارکے مزے لے رہے ہیں۔بڑے ٹھیک ہوں توپھرغلط چھوٹے بھی نہیں ہوتے مگرافسوس ہمیں نہ بڑے ٹھیک ملے اورنہ ہی چھوٹے غلطیوں اورخامیوں سے پاک ۔بڑوں نے کروناکودروازوں تک لایااورچھوٹے پھراسے فرمانبرداراورمہمان نوازبچوں کی طرح گھروں کے اندرلیکرگئے۔کروناکے معاملے پر جتنے مجرم اورگناہ گارچھوٹے ہیں ان سے زیادہ کہیں حدسے بھی زیادہ مجرم اورگناہ گاراس معاملے میں اقتدارمیں بیٹھنے والے

ہمارے یہ سیاسی بزرگ،پیرومرشدہیں۔حکمران کرونا کے معاملے میں لاکھ اپنی صفائیاں پیش کریں۔ ہزاروں قسمیں اٹھائیں۔لاکھوں پریس کانفرنسز کریں۔ حق اور سچ یہ ہے کہ اس بدقسمت ملک میں کروناکے پھیلائوکے اصل ذمہ داریہی سیاسی پیر اور بزرگ ہیں۔ کرونا کے منڈلاتے بادل کے سائے تلے آج اگراس ملک میں رش پررش اوربازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تویہ بھی ان بزرگوں کے اس ’نقش قدم‘ پر چھوٹوں کے چلنے کی برکت ہے جس پرچلنے کو آج ہر شخص اپنے لئے سعادت اور اعزاز سمجھتا ہے۔ مساجدمیں تین تین فٹ کے فاصلے ناپنے اورلکیریں کھینچنے والوں کی سرپرستی میں جب سندھ کے اندرجلوسوں پرجلوس نکلے توپھرکروناکے نام سے کانپنے ،لرزنے اورگھروں میں چھپ کربیٹھنے والے بھی پھران کی تقلیدکیئے بغیرنہیں رہ سکے ۔یہی وجہ ہے کہ دوماہ تک جوکروناکے خوف اورڈرکی وجہ سے گھروں سے نکلنے کے لئے تیارنہیں تھے وہ بھی پھران بزرگ حکمرانوں کی دیکھادیکھی ایک دم بازاروں اورشاہراہوں پرنکل آئے۔آج اس ملک کی گلی محلوں اوربازاروں کی حالت دیکھ کرانسان کوخوف آنے لگتاہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ کروناخطرناک نہیں ۔ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اورآج بھی کہتے ہیں کہ کروناخطرناک انتہائی خطرناک ہے ہمیں ہرحال میں اس سے خودکواوراپنی نسلوں کواس سے بچاناہوگاپرسوال ہماراصرف یہ ہے کہ کروناجب اتناخطرناک ہے توپھرہمارے سیاسی بزرگوں نے اسے مذاق میں کیوں لیا۔۔؟بغیرکسی فیس ماسک اوردیگرحفاظتی اقدامات کے آج بازاروں میں گھومنے اورپھرنے والے مجرم واقعی بہت بڑے مجرم اورگناہ گارہیں لیکن ان سے بھی بڑے مجرم اورگناہ گاروہ ہیں جنہوں نے سندھ میں ایس اوپیزکی دھجیاں بکھیرتے اور حدودو قیود کو ہوامیں اڑاتے ہوئے انہیں یہ راستہ دکھایا۔ حکمران کروناکومذاق نہ بناتے توآج کروناکے سنگ میں عوام کوبھی اس طرح جھومنے ،ناچنے اورکھیلنے کی جرات کبھی نہ ہوتی ۔مگرافسوس مرض بڑھتاگیاجوں جوں دواکی کے مصداق کروناکے معاملے میں جوں جوں اقدامات ہورہے ہیں اتنے ہی حالات ہمارے ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں۔اللہ نہ کرے بڑوں اورچھوٹوں کایہی رویہ اگراسی طرح جاری رہاتوکل کوحالات کوسنبھالنانہ پھران بڑوں کے لئے ممکن ہوگااورنہ ہی پھرچھوٹے اس تپش کی ذرہ بھی کوئی تاب لاسکیں گے۔ہم نے اپنی طرف سے کروناکواس ملک میںپھلنے پھولنے اور پھیلنے کے لئے ہرراستہ اورموقع فراہم کیایہ تواللہ کالاکھ لاکھ شکرہے کہ اس نے ابھی تک ہمیں اس کی کل تباہی سے بچائے رکھاہے۔بات اگر صرف ہمارے احتیاط اوربزرگ حکمرانوں کے اقدامات کی ہوتی تونہ جانے اب تک اس ملک اورقوم کی کیاحالت ہوتی۔۔؟یہ تواللہ کاکوئی خصوصی کرم ہے کہ خالی ہاتھ اورسرکشی کے باوجوداب تک ہماراحال امریکہ اوراٹلی جیسانہیں ہوا۔غلطیوں پرغلطیوں اورکوتاہیوں پرکوتاہیوں کے باوجودحالات اب بھی ہمارے ہاتھ سے نکلے نہیں۔اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے سابقہ گناہوں اورجرائم کاکفارہ اداکرکے کروناکے خلاف یک قوم ویکجان ہوجائیں۔ہم نے توکروناکوسیاسی ،سماجی اورمذہبی فرقوں،گروہوں اورپارٹیوں میں تقسیم کردیاہے لیکن ایک بات یادرکھیں ۔کروناکاکوئی دین ،کوئی مذہب،کوئی قوم اورکوئی سیاسی پارٹی نہیں ۔ڈیل ،ڈھیل ،فائدے اوراپنائیت کے لحاظ سے تو کروناکسی کانہیں لیکن نقصان کے لئے یہ سب کے لئے یکساں ہے۔ وارکرتے ہوئے یہ پھردین ، مذہب، قوم اور سیاسی پارٹی کودیکھتاہے نہ ہی پھرامیرغریب اورکالے گورے میں یہ کوئی تفریق کرتاہے۔عربی ہیں یاعجمی،کالے ہیں یاگورے سب ابھی تک اس کانشانہ بن چکے ہیں ۔اس سے چین جیساترقی یافتہ ملک بچااورنہ ہی آج امریکہ،برطانیہ اوراٹلی جیسے بڑے ممالک اس سے محفوظ ہیں۔اس سے اگرمحفوظ ہیں توصرف وہی لوگ ہیں جوخودتک محدودہیں ۔آوارہ گردی اورروڈماسٹری کی ہمیں برسوں سے عادت ہے اوراسی عادت سے مجبور ہو کرآج ہم بازاروں میں پیدل مارچ کررہے ہیں۔ لاک ڈائون کے خاتمے کوغنیمت سمجھ کر بھیڑ بکریوں کی طرح بازاروں میں نکلنے والوں کوایک بات یادرکھنی چاہیئے لاک ڈائون ختم ہواہے کرونانہیں ۔کروناآج بھی اس ملک کے اندرتاک لگائے بیٹھاہے۔بلاکسی شک وشبے کے موت کاواقعی ایک دن مقرر ہے لیکن زندگی بچانے کے لئے احتیاطی تدابیراوراقدامات اٹھانے کاذکربھی دین اورقرآن میں موجود ہے۔ اس وقت کروناسے زندگی کاتحفظ ہرانسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔اس لئے ہمیں دینی تعلیمات کے مطابق احتیاطی تدابیرکواپناتے ہوئے خودکوکروناکی اس وباء سے بچاناہوگا۔


ای پیپر