’دھمکی ‘ایک اور لاک ڈائون کی
28 May 2020 (14:17) 2020-05-28

وزیراعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے وفاقی حکومت کی جانب سے متنبہ کیا ہے اگر لوگوں نے کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کی خاطر سختی کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو حکومت ایک مرتبہ پھر لاک ڈائون مسلط کرنے پر مجبور ہو جائے گی… ان کے بقول عید پر جس طرح بے احتیاطی اور پابندیوں کی خلاف ورزی ہوئی باعث تشویش ہے… اموات بڑھ سکتی ہیں، سخت اقدامات کرنے ہوں گے… دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کورونا ختم نہیں ہوا… دوسری بڑی لہر آنے کا خدشہ ہے… تو کیا ان تمام تر تنبیہات کو سامنے رکھتے ہوئے اور اچانک موت کا شکار ہو جانے کے خدشے کے پیش نظر ہمارے لوگ ضروری نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں گے… احتیاطی تدابیر پر اگر پہلے صحیح معنوں میں عمل نہیں کیا تو اب راہ راست پر آ جائیں گے… خود کو گھروں کی چاردیواری کے اندر پابند رکھیں گے… بغیر اشد ضروری کام باہر نہیں نکلیں گے… سماجی رابطے کو برقرار رکھنے میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دیں گے… مساجد کے اندر اور دوسرے اجتماعات کے مواقع پر حکومتی پابندیوں کا پوری طرح پاس و لحاظ کریں گے… گھروں سے باہر ماسک پہنے رہیں گے… دکانوں سے خریداری کے دوران ضروری فاصلہ قائم رکھیں گے… تاکہ عید پر ہونے والی بے احتیاطیوں کو دہرایا نہ جا سکے اور حکومت دوبارہ لاک ڈائون کی سختیاں رو بہ عمل لانے پر مجبور نہ ہو جائے… عالمی ادارہ صحت نے جو تنبیہ کی ہے کورونا کا ایک اور دور شروع ہونے والا ہے جو وسیع پیمانے پر اموات کا پیامبر بن کر سامنے آئے گا… اس واضح تنبیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے طرزعمل کی اصلاح کر لیں گے تاکہ اس مہلک مرض کا شکار نہ ہوں… کثیر تعداد میں اموات سے بچے رہیں اور دوسری بار لاک ڈائون کے نفاذ کی وجہ سے پہلے سے ڈوبتی ہوئی معیشت مزید بحران اور سخت قسم کی کساد بازاری کا شکار نہ ہو جائے… بے روزگاری کا بھوت ہمارے سروں پر ناچتا رہے اور ایک کے بعد دوسرے کاروبار کی مزید تباہی کی خبریں آنا شروع ہو جائیں… یہ لمحہ موجود کا انتہائی تشویشناک امر ہے… لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس حکومت نے خطرے کی یہ گھنٹی بجائی ہے کیا وہ گزشتہ آٹھ دس ماہ کے ٹریک ریکارڈ کے پیش نظر اس کی اہلیت رکھتی ہے کہ پُرزور اپیل بلکہ سخت قسم کی دھمکی سے کام لیتے ہوئے ملک کے عوام کو خوشدلی کے ساتھ یا آنے والے شدید خطرے کے خوف سے آگاہ کر کے سخت اور ضروری پابندیاں ملحوظ خاطر رکھنے پر آمادہ کر پائے… یا انہیں اہل وطن کو اس طرح کے ڈسپلن کا پابند کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہو کہ لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اور ملک دونوں کے وسیع تر مفاد کی خاطر نظم و ضبط اختیار کرنے کی راہ پر چل پڑیں… چلو عید پر جو کچھ ہوا سو ہوا آئندہ راہ احتیاط…!

ایسا ہوتا معلوم نہیں ہو رہا… یوں محسوس ہوتا ہے پاکستان کے عوام نے وزیراعظم کے مشیر برائے امور صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زبانی وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سخت تنبیہ کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا ہے… انہیں معلوم ہے موجودہ حکومت پہلے روز سے لاک ڈائون کی حامی نہیں تھی… اس کے وزیراعظم بڑی مشکل سے اس پر آمادہ بلکہ مجبور ہوئے تھے دوسری بار انہیں اور اس کی معیشت کو ایسے لاک ڈائون کی جکڑبندیوں میں باندھ لے گی جس پر وہ خود روزاوّل سے نیم دلی کے ساتھ عمل پیرا رہی ہے… وزیراعظم عمران خان برملا کہتے تھے لاک ڈائون شائد بڑے پیمانے پر اموات کو روکنے میں تو کامیاب ہو جائے گا لیکن غریب آدمی سے اس کی روٹی چھین لے گا… عام آدمی کے روزگار کے لئے تباہ کن ثابت ہو گا… کاروبار بند ہوں گے تو معیشت کا پہیہ رک جائے گا… لہٰذا سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہئے… دوسری جانب اٹھارہویں ترمیم کی عطا فرمودہ صوبائی خودمختاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبہ سندھ کی حکومت نے لوگوں کی زندگیوں کو ان کے روزگار وغیرہ پر قابل ترجیح سمجھا… لاک ڈائون کی راہ پر چل نکلی… مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوئے… وردی والے حاکم

بھی قدرے متاثر ہوئے… اچانک آئی ایس پی آر کا اعلان جاری ہوا پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی لاک ڈائون ہو گا… عمل شروع ہو گیا… وزیراعظم کے پاس ہاں کے ساتھ ہاں ملانے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا… خان بہادر عمران کی بے بسی دیکھا چاہیے تھی… آرمی چیف کے ایماء پر نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول قائم کر دیا گیا… جس کی سربراہی وفاقی وزیر اسد عمر کے سپرد کی گئی لیکن اختیارات میں عساکر پاکستان کے نمائندے لیفٹیننٹ جنرل حفیظ الرحمن برابر کے شریک تھے… اس ادارے نے روزانہ کے حساب سے اجلاس منعقد کر کے باقاعدہ سائنٹیفک طریقے سے کورونا پابندیوں پر عملدرآمد کی صورت حال کو مانیٹر کرنا شروع کر دیا… لاک ڈائون حکومتی پالیسی کا حصہ بنا اور نہ بھی بناکیونکہ وزیراعظم مسلسل اور برملا اس خیال کا اظہار کرتے رہے… لاک ڈائون انہوں نے نہیں اشرافیہ نے مسلط کرایا ہے… یہ اشرافیہ کون سی ہے… میڈیا اور دوسرے مبصرین کی جانب سے بار بار سوال اٹھائے گئے… مگر وزیراعظم اور ان کے کیمپ کی جانب سے یقین کے ساتھ جواب دینے سے مسلسل احتراز کیا گیا… قوم سخت ابہام کا شکار ہوئی… خلجان میں مبتلا ہوئی… ہمارے لوگ عمومی طور پر دیہاتی مزاج رکھتے ہیں… زیادہ اور سخت قسم کے نظم و ضبط کا پابند رکھنے کی ان کی کبھی تربیت نہیں کی گئی… اس پر مستزاد ان کے وزیراعظم کا دو عملی پر مبنی رویہ… لہٰذا لاک ڈائون مسلط ہو کر معیشت پر منفی اثرات مرتب کرنے میں تو پیچھے نہ رہا لیکن عام آدمی کو اس مہلک مرض اور اموات کی بڑھتی ہوئی شرح سے محفوظ رکھنے میں بہت زیادہ کامیابی نہ دکھا سکا… اسی دوران سندھ اور وفاقی حکومتوں کے درمیان الزام طرازی کی وہ جنگ شروع ہو گئی… جو پاکستانی سیاسیات کا معمول ہے… طرفین نے ایک دوسرے کو کورونا وائرس کی پیداکردہ مخدوش صورت کا ذمہ دار قرار دیا… عمران حکومت کو غصہ تھا کہ لاک ڈائون شروع کرنے اور اس پر قدرے بہتر طریقے سے عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ان کی رقیب جماعت سندھ میں پی پی پی کی حکومت کی تعریف کیوں کی جا رہی ہے جبکہ سندھ حکومت کے زعماء کو سخت گلہ تھا ان کے اچھے کاموں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں… نیز وفاقی حکومت ان کے ساتھ تعاون کیوں نہیں کرتی… لفاظی کی اس جنگ نے ملک کے عوام کے اذہان کو مزید ابہام کا شکار کر دیا… لاک ڈائون پر عمل کیا جائے یا نہیں اس کی پابندیوں سے پوری طرح عہدہ برآ ہوا جائے یا نہیں… چنانچہ لاک ڈائون کی وجہ سے معیشت کونقصان پہنچتا رہا… عام آدمی سخت قسم کی بے روزگاری کا شکار ہوا… دکانیں بند ہونے کی وجہ درمیانے درجے کے تاجروں کو مندے کا سامنا تھا… برآمدات میں کمی واقع ہوئی… زرمبادلہ کے ذخائر گر گئے یعنی پوری کی پوری معیشت کو وہ زوال دیکھنا نصیب ہوا جس کا کسی کو خیال نہ تھا… لیکن عام مہلک ترین بیماری سے تحفظ کے لئے عام آدمی کو اس طرح بچا کر رکھنے کی تدابیر زیادہ تر کارگر ثابت نہ ہوئیں…

وزیراعظم سے لے کر نچلی سطح تک حکومتی کارندے ژولیدہ فکری اور سخت قسم کے ابہام میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بیماری کی روک تھام میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہو رہے… معیشت کو دھچکے لگنا شروع ہوئے تو وزیراعظم نے سمارٹ لاک ڈائون کا تصور پیش کر ڈالا… یہ کیا ہوتا ہے… عام لاک ڈائون کے مقابلے میں اس کی حدودوقیود کیا ہوں گی… کورونا کی روک تھام کیونکرہو گی اس کی بابت کچھ نہ بتایا گیا… ابہام گہرا ہوتا ہو گیا… رمضان کی آمد آمد تھی وفاق اور سندھ دونوں کی حکومتیں چاہتی تھیں جمعہ اور تراویح کے اجتماعات کے موقع پر جم غفیر جمع نہ ہونے پائیں… مبادا لاک ڈائون پابندیوں کی خلاف ورزی دیکھنے کو ملے… پہلے علماء نے ان شرائط کو تسلیم کرنے سے انکار کیا… پھر آمادہ ہوئے تو نیم دلی کے ساتھ کئی مساجد کے اندر عمل ہوا اور کئی ایک میں وہی روایتی انداز برقرار رہا… مساجد کی رونقوں میں فرق آیا بھی اور نہیں بھی… ہر جگہ پر نیم رضامندی کی کیفیت جاری رہی… ان پر یہ بات بھی اثرانداز نہ ہو سکی کہ… پاکستان کے علاوہ عالم اسلام کی پیشتر مساجد میں جمعہ اور تراویح کے اجتماعات منعقد نہیں ہو رہے حتیٰ کہ حرمین الشریفین میں بھی نہیں… لیکن ہمارے علماء اس معاملے میں یکسوئی کا مظاہرہ نہ کر سکے… عوام لاک ڈائون کے بارے میں پہلے ہی بے اعتنائی اور زیادہ تر عدم احتیاط کا مظاہرہ کر رہے تھے مزید دو عملی سے دوچار ہو گئے… یہ کیسا لاک ڈائون ہے وزیراعظم کو اس پر پورا یقین نہیں… علماء حضرات اسے خاطر میں نہیں لاتے اور پرکاہ کی اہمیت نہیںدیتے… ڈاکٹر حضرات اور ماہرین طب و سائنس ایک کے بعد خطرے کی دوسری گھنٹی بجائے جا رہے ہیں خبردار کورونا وائرس سخت جان لیوا ہے… مہلک بیماری اور انسانی جانوں کے لئے خطرناک ثابت ہو رہا ہے اور مزید ہو سکتا ہے… قوم ان دونوںکی گرفتار چلی آ رہی تھی کہ رمضان کے آخری عشرے میں نہلے پہ دہلے کا کام چیف جسٹس آف پاکستان کے ایک حکمنامے نے دے دیا… حکومتوں سے کہا گیا عید سر پر کھڑی ہے بڑے شاپنگ مال کیوں بند کر رکھے ہیں انہیں روزمرہ کا کاروبار کرنے دے تاکہ عوام عید کی خریداری کریں… خواتین اور بچے نئے کپڑے خریدیں… بس ایک فلڈ گیٹ تھا جو کھل گیا… وفاقی وزیر اطلاعات فراز شبلی نے بیان دیا چیف جسٹس کے حکمنامے کی وجہ سے وزیراعظم کے خیالات کی توثیق ہو گئی ہے… علماء کی جانب سے اعلان ہوا جمعتہ الوداع اور عید کے موقع پر ایک مسجد بھی بند نہیں کی جائے گی… دکانوں اور بازاروں کی رونق ایسے لوٹ آئی کہ کہاں کی احتیاط اور کدھر کا سماجی فاصلہ… ماسک نام کی چیز کسی کسی کے چہرے پر نظر آئی… باقی سب لاپرواہی کے عالم میں عید شاپنگ کا شوق پورا کرنے میں مدہوش رہے قوم اور ملک کو اس حالت تک پہنچا کر وزیراعظم کے مشیر صحت حکومت کی جانب سے دھمکی دیتے ہیں اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا گیا تو زیادہ سخت قسم کا لاک ڈائون مسلط کیا جائے گا… سبحان اللہ اس گیدڑ بھبھکی کو کون سنجیدگی سے لے گا…


ای پیپر