جب چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلا … !
28 May 2020 (14:17) 2020-05-28

28 مئی ہماری قومی تاریخ کا ایک یاد گار دن ہے کہ آج سے 22 سال قبل 28 مئی 1998ء کو ہم نے چاغی کی پہاڑیوں میں کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے دُنیا کے سامنے اپنی ایٹمی صلاحیت کا باضابطہ ثبوت مہیا کیا تھا۔ مئی 1998ء کے دن بھی کیا عجیب دن تھے ۔ صورتحال آج کل کے دِنوں سے اس لحاظ سے کچھ ملتی جلتی تھی کہ فکر، پریشانی ، خطرات ، خدشات کی صورتحال اسی طرح ملک و قوم پر حاوی تھی جیسے کے آج کل کرونا کی وبا اورحکومتی بد انتظامی کی وجہ سے ہم پریشانی اور فکر مندی کا شکارہیں ۔تاہم اُس وقت صورتحال اس لحاظ بہت بہتر تھی کہ پوری قوم ایک طرح کے جذبوں اور ولولوں سے سر شار تھی کہ ہم نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا ہر صورت میں جواب دینا ہے اور اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔

بھارت 13 مئی 1998ء کو پوکھران (راجستھان) میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اپنی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہا تھا ۔ اُس کے تنگ نظر رہنما اور حکومتی عہدیدار پاکستان کو صفہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں اُنگلیاں اُٹھ رہی تھیں ۔ وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت پر اندرونی طور پر بڑا دبائو تھا کہ وہ ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیں۔ عالمی رائے عامہ ، جاپان سمیت G-8 ممالک ، یورپی یونین اور امریکہ برطانیہ وغیرہ پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکے کرنے کے سخت مخالف تھے۔ پاکستان کو دھماکوں سے روکنے کے لیے ترغیب، تحریص اور دبائو کے سبھی حربے آزمائے جا رہے تھے۔ امریکی صدر بل کلنٹن بذاتِ خود وزیرِ اعظم نواز شریف پر دھماکے نہ کرنے کے لیے دبائو ڈال رہا تھا۔ بل کلنٹن کی طرف سے دھماکے نہ کرنے کی صورت میں اربوں ڈالر امداد کی پیشکش ، بصورتِ دیگر اقتصادی پابندیاں لگانے کے ہر دو آپشن موجود تھے۔ غرضیکہ یہ ایک بڑا نازک اور مشکل وقت تھا۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے دھماکے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا ۔ میاں صاحب نے مشورے کے لیے اخبارات کے مدیران اور سینیئر صحافیوں کا اجلاس بھی بلایا ۔ اس موقع پر نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر مرحوم مجید نظامی نے میاں نواز شریف کے استفسار پر اُنھیں جواب دیا کہ میاں صاحب ایٹمی دھماکے کریں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ اور پھر 28 مئی 1998ء کا دن آن پہنچا جب سہ پہر کے 3:13 منٹ پر چاغی کی پہاڑیوں کا رنگ بدلنا شروع ہوا۔ پاکستان سات کامیاب ایٹمی دھماکے کر چکا تھا۔زیرِ زمین دھماکوں کے نتیجے میں بے پناہ توانائی اور حرارت کے اخراج سے پہاڑیوں کا رنگ پہلے کالا، پھر سُرخی مائل اور آخر میں سفید ہو گیا۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا ثبوت ساری دُنیا کے سامنے آ چکا تھا۔

ایٹمی دھماکوں کے لیے جب چاغی کی پہاڑیوں میں تیاریاں جاری تھیں اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی زیرِ قیادت ایٹمی سائنسدانوں، ٹیکنیشنز اور دیگر ماہرین کی ٹیمیں سرگرمِ عمل تھیں تو اس بات کا شدید خطرہ پیدا ہوا کہ بھارت اسرائیل اور امریکہ کے گٹھ جوڑ سے کہیں حملہ نہ کر دے۔28 مئی کی رات کو اطلاع آئی کہ حملہ ہو سکتا ہے محفوظ مقام پر ماہرین منتقل ہو جائیں لیکن ایٹمی دھماکوں کی تیاری کاکام جاری رہا اور اُس رات کو پوری قوم ہی سینہ سپر نہیں رہی بلکہ پاکستان کا ہر لڑاکا ہوائی جہاز پاکستان کی فضائوں میں اور چاغی کی پہاڑیوںکے آس پاس محوِ پرواز رہا کہ دُشمن کو پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات ہی نہ ہو سکی۔

یہ عجیب بات تھی کہ چاغی میں ایٹمی دھماکے کیے جانے کا فیصلہ ہوا تو اس میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے سائنسدانوں بالخصوص محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ حالانکہ ساری دُنیا جانتی تھی کہ کہوٹہ ہی وہ جگہ ہے کہ جہاں یورینیم کی افزودگی اور ایٹم بم بنانے کاکام ہوتا رہا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان چاغی کے مقام پر ایک مہمان کے طور پر موجود تھے انہیں دانستہ نظر انداز کیا گیا یا کچھ اور بات تھی البتہ بعد میں 2004ء میں اُن کو ایٹمی پھیلائو میں ملوث ہونے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ بہر کیف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف ایٹمی پھیلائو میں ملوث ہونے کا الزام کس حد تک درست ہے یا درست نہیں ہے اس بارے میں آج تک حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ خیر یہ ایک جملہ معترضہ سہی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام پاکستانیوں کے لیے ہمیشہ سے ایک رومانس کی حیثیت اختیار کیے رہا ہے اور وہ اس کے لیے اپنا تن ، من ، دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے ہیں۔ پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے مشن پر گامزن تھا تو اسے قدم قدم پر رکاوٹوں، مخالفتوں اور

دُشمنوں کی سازشوں کا سامنا تھا۔ ہر طرف خطرات ہی خطرات تھے اب وہ جوہری اثاثوں کا مالک ہے تو یہ خطرات بڑھے ہیں کم نہیں ہوئے۔ دُنیا کا ہر اُوباش اور بدمعاش پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے ۔ آئے روز اس طرح کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اور ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں ہیں اور انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جس سے دُنیا کے امن کو زبردست خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس طرح کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ امریکہ اور اُس کے اتحادی ان اثاثوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔لیکن امریکہ ہو یا کوئی اور دُنیا کی طاقت انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ پاکستان کے یہ ایٹمی اثاثے پاکستانیوں کے لیے زندگی اورموت کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ بات طے ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ یہ اثاثے جو عالمِ اسلام کا ناز اور فخر ہیں ان پر اللہ اور اُس کے حبیبِ کبریا ؐکا سایہ ہے اور انشاء اللہ یہ ہمیشہ محفوظ رہیں گے اور کہیں اگر کوئی مشکل وقت آیا پاکستان کی سا لمیت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان کی یہ جوہری صلاحیت اُس کے تحفظ اور اُس کے دفاع کی بہت بڑی ضمانت بن کر سامنے آئے گی۔

یہاں اس بات کا تھوڑا سا تذکرہ کرنا بے جا نہیں ہو گا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے متعلقہ ذمہ دار شخصیات ، اداروں ، حکومتی زعما اور مسلح افواج کے سربراہان نے اسے اپنے ایمان اور یقین کا حصہ سمجھ کر پروان چڑھایا اور اسکو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اکثر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ایک جمہوری وزیرِ اعظم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور دوسرے جمہوری وزیرِ اعظم نے دھماکے کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا۔ یہ درست ہے کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت 1975-76 ء میں کہوٹہ میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر پُر جوش طریقے سے کام شروع ہوا۔ یہ بھی درست ہے کہ مئی 1998ء میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں ایٹمی دھماکے ہوئے لیکن درمیان بھی بائیس ، تیئس سال کیا ہوتا رہا ۔بھٹو کی حکومت تو جولائی 1977ء میں ختم ہو گئی تھی ۔ ساری دُنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے 1984ء تک ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور اس کے کولڈ تجربات بھی کر لیے تھے ۔ یہ جنرل ضیاء الحق کا دور تھا۔ جنرل ضیاء الحق ایک فوجی آمر اور غاصب سہی لیکن ماننا پڑے گا کہ اُس نے بڑی ہمت، جرات، دلیری اور ثابت قدمی کے ساتھ ہر دبائو کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ پھر غلام اسحاق خان جو ملک کے صدر رہے اُنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی دل و جان سے حفاظت کی ۔ آرمی سربراہان جنرل مرزا اسلم بیگ، جنرل عبدالوحید کاکڑ و دیگر سمیت آئی ایس آئی کے سربراہان جن میں جنرل حمید گل کا نام سرفہرست ہے وغیرہ سبھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے اپنے اپنے ادوار میں پاسبان رہے اور قوم ان پر بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔


ای پیپر