عالم اسلام کی پہلی جوہری طاقت
28 May 2020 (14:16) 2020-05-28

آج سے تقریباً 22 سال پہلے کی بات ہے جب بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اپنی طاقت کا رعب پاکستان پر ڈالنا شروع کر دیا۔ بھارتی قیادت کا تو لب و لہجہ بالکل بدل چکا تھا اور بھارتی قیادت پاکستان کو سبق سکھانے کی باتیں کر رہی تھی۔ ادھر امریکہ کے صدر بل کلنٹن اور دوسرے غیرمسلم ممالک پاکستان پر اس بات کا دباؤ ڈال رہے تھے کہ پاکستان بھارت کے مقابلہ میں کوئی جوابی کارروائی نہ کرے اور اگر پاکستان نے کوئی جوابی کارروائی کی تو پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا ہو گا۔لیکن پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے مقابلہ میں ایٹمی دھماکے کر دکھائے۔ پاکستان کی جوابی کارروائی دیکھ کر بھارتی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکے کرنے سے عالم اسلام کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔

بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد ضروری تھا کہ اسی زبان میں بھارت کو جواب دیا جاتا۔ لہذا سیاسی و عسکری قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی۔ اس موقع پر شیخ رشید احمد، گوہر ایوب اور راجہ ظفر الحق نے فوری طورپر دھماکہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لہذا آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے بھی اس پر لبیک کہتے ہوئے اپنی رضامندی دی۔ اس موقع پر نوائے وقت اخبار کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی مرحوم کا دبنگ کردار بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ نوائے وقت کے ایڈیٹر ان چیف مجید نظامی مرحوم کے بارے میں اس حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ جب نواز شریف نے نظامی صاحب مرحوم سے اٹیمی دھماکوں کے حوالے سے صلاح مشورہ کیا تو انھوں نے فوری طور پر ان کی حکومت کو ایسا کرنے کو کہا اور یہ ان کے تاریخی جملے میڈیا میں بہت مشہور ہوئے کہ میاں صاحب اگر آپ نے اٹیمی دھماکے نہ کئے تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔ جناب مجید نظامی مرحوم نے یہ بھی کہا کہ آپ ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں آپ کو دوہری وارننگ کا سامنا ہے۔ اگر دھماکہ کرتے ہیں تو ممکن ہے امریکہ آپ کا دھماکہ کر دے مگر قومی اور ملکی سالمیت اس امر کی متقاضی ہے کہ آپ ایٹمی دھماکہ کریں۔ گویا جناب مجید نظامی نے نوائے وقت کی طرف سے حاکم وقت کو بلاخوف و خطر کھری کھری سنا کر قومی فرض ادا کیا تھا۔ یوں پاکستان جوہری ملک بن گیا۔

پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے بعد حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو ایسے مواقع نظر سے گزرتے ہیں

جن پر اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو بھارت پاکستان کو کھا چکا ہوتا۔ قارئین کو ذہن نشین رہنا چاہیے کہ سری لنکا ہو یا بنگلہ دیش، نیپال ہو یا بھوٹان حتیٰ کہ مالدیپ ان سب کو بھارت نے ایٹمی قوت بن کر اپنی طفیلی ریاستیں اس حد تک بنا رکھا ہے کہ بنگلہ دیش جیسا مسلمان ملک پاکستان اپنی کرکٹ ٹیم بھیجنے کا اعلان کرکے بھارتی آنکھ کے اشارے پر یہ اعلان واپس لے لیتا ہے۔ جب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی توازن قائم ہوا ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ پاکستان ایٹمی بموں کی تعداد اور کوالٹی میں بھارت پر برتری اور پاکستان کے میزائلوں کے سو فیصد ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت نے بھارت کے مقابلے میں وطن عزیز کو محفوظ بنادیا ہے اور اس حد تک محفوظ بنادیا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ نہیں کرسکے گا۔

اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ’’ اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن ہیں اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے ایٹمی ملک بننے کا فیصلہ کیا ۔

اس عظیم کارنامے کا سہرا سب سے بڑھ کر پاکستانی عوام ،ذولفقار علی بھٹو ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، ڈاکٹر ثمرمبارک مند اور ان کے سیکڑوں دیگر ساتھیوں کو جاتا ہے۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تو پاکستان پر امریکہ نے پابندی لگا دی کیونکہ پاکستان نے مسلم ملک ہو کر اتنی ہمت کیسے کی کہ وہ ایٹمی طاقت حاصل کر لی۔پاکستان کے دشمنوں کے ہاں اس دن صف ماتم بچھی ہوئی تھی، دوسری طرف مسلم ممالک خوشیوں سے نہال تھے۔ سعودی عرب کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے کسی کی پروا کئے بغیر پاکستان کو فوری طور پر 50ہزار بیرل تیل مفت اور مسلسل دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ ہی حال دیگر مسلم ممالک کا تھا۔ایٹم بم بنانے میں بھی مسلم ممالک نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔

آج پاکستان کا جغرافیائی سرحدوں کے حوالے سے دفاع پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کے ناتے بے شک ناقابل تسخیر ہو چکا ہے مگر اندرونی طور پر دشمن ہمیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش میں ہے اور مودی کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد ہمیں اپنی سلامتی کے معاملہ میں زیادہ فکر مند ہونا ہے کیونکہ مودی اب پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی اپنی حسرت نکالنے کے لیے کوئی بھی اوچھا ہتھکنڈہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لئے ہمیں مودی کے دوسرے دور اقتدار میں اپنے دفاع کیلئے زیادہ چوکنا اور چوکس رہنا ہوگا جس کیلئے ہمارا بہرصورت اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی پر ہی تکیہ ہے۔

یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ملک کی سلامتی کے خلاف بھارتی سازشوں کا مکمل ادراک ہے جنہیں عالمی اور علاقائی فورموں پر ساتھ ہی ساتھ بے نقاب بھی کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میںپہلا معجزہ قیام پاکستان کا ہے جبکہ دوسرا معجزہ 1998 ء میں ہوا جب ایسی قوم جس میں نہ کوئی تعلیم عام تھی اور نہ ہی ٹیکنالوجی میسر تھی، وہ ایٹمی قوت بننے میں کامیاب ہوگئی اور آج سے ٹھیک 20 سال پہلے 28 مئی 1998 ء کو جمعرات کے دن 3بج کر 15منٹ پر چاغی کے مقام پر واقع کوہ کامبران میں کھدی ہوئی ایک کلو میٹر لمبی زگ زیگ سرنگ میں ایٹمی دھماکے کرکے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند کردیا اور دفاع وطن کو بیرونی جارحیت سے مکمل محفوظ بنادیا۔

1974 میں بھارت کے پہلے ایٹمی دھماکے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ پاکستان کو خوفزدہ کر کے اسی خطے میں اپنی برتری اور بالادستی قائم کر سکے۔ قیام پاکستان کے وقت ہی سے بھارت ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں رسائی حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہوگیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہونے ولاپاکستان تھا جو بھارت کے ہندو حکمرانوں کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹکتا رہا۔

چاغی میں ہونے والے دھماکوں کی قوت بھارت کے 43 کلو ٹن کے مقابلے میں 50 کلو ٹن تھی۔ بھارت نے 11 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے لئے خطرات پیدا کر دیئے تھے جس کا جواب ایٹمی دھماکوں سے ہی دیا گیا۔ امریکی صدر کلنٹن، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی وزیراعظم موتو نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کئے جائیں ورنہ اس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی لیکن حکومت پاکستان نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کر کے قومی تاریخ کا انمٹ باب رقم کر دیا۔


ای پیپر