کورونا سازش اور کرنل کی بیوی
28 May 2020 (14:16) 2020-05-28

کورونا اگر مسلمانوں کے خلاف سازش ہے تو سب سے کم مریض مسلم ممالک میں کیوں ہیں۔ سعودی عرب اسرائیل کا بڑا بیٹا بنا ہوا ہے۔ وہاں یہ مریض سب سے زیادہ ہونے چاہیے تھے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات اسرائیلیوں کے لیے ہمدرد بن کر سامنے آیاہے۔ لیکن وہاں مریض بہت کم ہیں۔ اسی طرح پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش میں مریض کم ہیں۔ بہت سے افریقی مسلم ممالک میں کورونا مریض موجود ہی نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو نہ ہونے کے برابر۔ زیادہ مرنے والے اور متاثر ہونے والے غیر مسلم ہیں۔ اٹلی، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چائنہ، جرمنی جیسے ممالک میں کورونا نے صحیح معنوں میں تباہی مچائی ہے۔ بلکہ یہودیوں کا سب سے لاڈلہ ملک امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ وہاں کورونا کے مریض اور اس سے ہونے والی ہلاکتیں سب سے زیادہ ہیں۔ اگر سازشی تھیوری ہی بنانی ہے تو یہ امریکہ کے خلاف سازش دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں پولیو کے بارے میں بھی یہی کہانی سنائی جاتی تھی کہ یہ یہودی سازش ہے۔ بچوں کو بانجھ کر دیتاہے۔ بل گیٹس یہودی ہے۔ وہ مسلمانوں کی طاقت کم کرنا چاہتا ہے اس مقصد کے لیے پولیو ویکسین مسلمان بچوں کو پلائی جا رہی ہے تا کہ ان کی نسل ختم کی جا سکے۔ اس سے زیادہ احمقانہ پروپیگنڈا اور کیا ہو سکتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بہت سے صاحب علم علما بھی اسی تصور کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ پوری دنیا کے بچوں نے پولیو کے قطرے پیے ہیں اور پولیو دنیا سے تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ نہ تو باقی اسلامی دنیا کے بچے بانجھ ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کے پیٹ میں بیماریوں نے جنم لیا ہے۔ بلکہ پاکستان میں ایک نسل پولیو کے قطرے پی کر ہی بڑی ہوئی ہے اور بچے بھی پیدا کر رہی ہے۔ جہالت پھیلانے اور اسے ماننے کے بعض معاملات میں پاکستان سب سے آگے ہے۔ سازشی تھیوری انسان کو ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور الفاظ کے جوڑ توڑ اس تھیوری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انسان ڈراموں، قصوں اور کہانیوں سے متاثر ہو جاتاہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا حقیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان میں کئی ایسے ویب چینلز دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہے ہیں جو صرف سازشی تھیوریاں بیچتے ہیں۔ ان کے سبسکرائبرز لاکھوں میں ہیں۔ لاکھوں لوگ روز ان کی کہانیوں کو سنتے ہیں اور انھیں سچ بھی مان لیتے ہیں۔ شاید پوری دنیا میں ہاکستان سے زیادہ بے وقوف سبسکرائبرز آپ کو نہ مل سکیں۔ ماتم کرنے کا مقام یہ ہے کہ صاحب عقل و فہم بھی ان پر یقین کرکے اپنی گفتگو کے دلائل میں ان ویڈیوز کی انفارمیشن کے حوالے دیتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ پاکستان میں کورونا کے بہت سے کیس مشتبہ ہیں۔ ٹیسٹنگ کٹس کے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ عمومی طور پر گورنمنٹ لیبارٹیوں سے کرائے گئے کورونا ٹیسٹ غیر ذمہ داری سے کیے جا رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے سرکاری ادارے کام کرتے ہیں۔ لاپروائی اور بغیر دلچسپی کے۔ بہت سے کیس تو ایسے بھی سامنے آئے ہیں کہ جہاں کئی مرتبہ یہ کہہ کر ٹیسٹ لیے گئے ہیں کہ آپ کا نمونہ ٹھیک نہیں لیا گیا۔ کئی مریضوں کی کورونا رپورٹ نیگیٹو آنے کے باوجود فارغ نہیں کیا گیا۔ اس طرح کی سیکڑوں شکایتیں روزانہ میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ یہ بظاہر مس ہینڈلنگ کے کیسز محسوس ہوتے ہیں۔ کورونا موجود ہے۔ پوری دنیا ایک ہی وقت میں ایک ہی طرح کی سازش نہیں گھڑ سکتی۔ مسلمانوں کو مارنے کے اور بھی طریقے موجود ہیں۔ عراق، لیبیا،شام میں مسلمان جنگ سے مر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو مارنے کے لیے امریکہ اپنی معیشت کیوں تباہ کرے گا جبکہ یہ کام دیگر آسان طریقوں سے بھی آسانی سے سرانجام دیا جا سکتا ہے۔

اب بات کر لیتے ہیں کرنل کی مبینہ بیوی کے حوالے سے۔ کرنل صاحب کی مبینہ بیوی کا عمل قابل مذمت ہے۔ فوج کا امیج خراب کرنے والے فوجی افسروں کی فیمیلز کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔ بلاشبہ یہ خاتون فوج کے مائنڈ سیٹ کی نمائندہ نہیں ہے۔ایک معمولی واقعہ کو بنیاد بنا کر پوری فوج پر تنقید کرنا کم عقلی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ کرنل کی بیوی تقریبا چودہ گھنٹے ٹویٹر کر ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ مقامی میڈیا کے علاوہ انٹرنیشنل میڈیا نے بھی اسے کوریج دی۔ بے لگام میڈیا ہوا کے رخ کے ساتھ چل رہا تھا۔ حالانکہ اس طرح کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہماری سڑکوں پر پیش آتے ہیں۔ اکثر سیاستدانوں کا دماغ بھی اسی طرح خراب ہوتا ہے۔ خاندان میں ایک شخص وزیر بن جائے تو کوسوں دور کے رشتے دار بھی گاڑی پر سبز جھنڈا لگا لیتے ہیں۔ پولیس، سرکاری اداروں نیز کہ جہاں بھی زور چلتا ہے بدمعاشی دکھاتے ہیں۔ اگر کوئی انھیں انکار کر دے تو غنڈوں کی فوج لا کر حملہ کروا دیتے ہیں۔ تب کوئی ٹویٹر ٹاپ ٹرینڈ نہیں بنتا لیکن جہاں بات فوج کی آجائے تو گھر کے منافق اور باہر کے دشمن مل کر ملک کے اداروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا منفی پہلو ہے۔ سیاستدان، بیوروکریٹ، اسٹبلشمنٹ اور میڈیا کوئی بھی اس سے بچا ہوا نہیں ہے۔ دماغ میں فتور آنا ہو تو کرنل کی بیوی میں بھی آسکتا ہے۔ اگر نہ آنا ہو تو باراک اوبامہ کی بیوی میں بھی نہیں آتا۔یہ ایک طبقے کا معاملہ نہیں بلکہ معاشرتی تربیت کا معاملہ ہے۔ جس پر ہم نے بحیثیت قوم کبھی کام ہی نہیں کیا۔ دوسری طرف اس معاملے کو اچھالنے میں اداروں کے ردعمل میں سستی کا رویہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چوبیس گھنٹے فوج کی تذلیل ہوتی رہی لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر کے آفس یا سوشل میڈیا اکاونٹ سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ سوشل میڈیا کے دور میں وقت پر جواب دینا ہی کارگر ہوتا ہے۔ جب پانی پلوں سے گزر جائے تو بند بند باندھنا بے سود ہوتا ہے۔ گاڑی کا نمبر سب کے سامنے تھا۔ آجکل تو آن لائن کوئی بھی چیک کر سکتا ہے کہ گاڑی کس کے نام ہے۔ شوہر، گھر اور دیگر معلومات صرف چند منٹوں میں ٹیبل پر موجود ہو سکتی ہیں۔ عورت کا بروقت معافی نامہ چلا کر معاملے کو ٹھنڈا کیا جا سکتا تھا لیکن شاید اسے جان بوجھ کر ہوا دی گئی۔ اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے۔ لیکن ایک حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس ایک واقعہ نے فوج کے تاثر کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔


ای پیپر