طیارہ حادثے کی تحقیقات ناگزیر
28 May 2020 (14:15) 2020-05-28

عید سے قبل الوادع جمعہ کے روز قومی ائیر لائن کی پرواز کو پیش آنے والا حادثہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ 97 افراد کی موت نے 97 خاندانوں کو جس کرب میں مبتلا کیا اس سے کورونا کے باعث عید کی گہنائی ہوئی خوشیاں مزید ماند پڑ گئیں۔ حادثے کے اگلے دن ہی مجھے طیارے کے پائلٹ کیپٹن سجاد اور ائیر ہوسٹس انعم کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ مرحومہ انعم کے اہل خانہ سے بات ہوئی تو پتہ چلا کے انعم کی والدہ کو بیٹی کی موت کی خبر نہیں دی گئی تھی۔ ہمارے کسی ساتھی نے ان سے بیٹی کی موت کا افسوس کرتے ہوئے مغفرت کی دعا کی تو انعم کی والدہ کی طبعیت بگڑ گئی جس کے باعث انھیں فوری اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ کیپٹن سجاد شہید کے گھر پہنچے تو وہاں بھی سوگ کا منظر دل دہلا رہا تھا۔ کیپٹن سجاد شہید کے والد اور بچوں سے گفتگو کا حوصلہ ہی نہ ہوا مگر انکے ہم زلف سے بات ہوئی جنھوں نے مطالبہ کیا کی ہمیشہ کی طرح حادثے کا ذمہ دار پائلٹ کو نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے وزیراعظم سے مطالبہ ہے کہ شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ کیپٹن سجاد کے والد نے بھی گورنر پنجاب سے ملاقات کے دوران مطالبہ کیا کہ پی آئی اے والے خود ہی انکوائری کر رہے ہیں اور خود ہی پائلٹ کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرے بیٹے نے پرواز کے 17 ہزار گھنٹے مکمل کیے ہوئے ہیں بلیک باکس کی رپورٹ آنے تک کوئی بات نہ کی جائے۔ جن خاندانوں نے اس حادثے میں اپنے پیاروں کو کھویا انکے لیے اللہ تعالیٰ سے صبر اور حوصلے کی دعا ہے۔ بلاشبہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں وہ جسے بچانا چاہے بچانے کی قدرت رکھتا ہے۔ المناک حادثے میں بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود سمیت 2 مسافروں کا زندہ بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دنوں مسافروں اور زمین پر طیارہ گرنے سے اپنے گھروں میں متاثر

ہونے والے زخمیوں کو مکمل صحت و تندرستی عطا کرے مگر قومی ائیر لائن کو پیش آنے والے حادثے کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ عام شہری، زندہ بچ جانے والے مسافر، طیارے سے متاثر ہونے والی آبادی کے مکین اور 97 افراد کے ورثا جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حادثہ اچانک پیش آیا یا کوئی تکنیکی خرابی پہلے سے موجود تھی؟ پی آئی اے کی کی جانب سے حادثے کا شکار ہونے والی ائیر بس اے-320 کی ٹیکنیکل ہسٹری جاری کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ طیارے میں انجن، لینڈنگ گئیر اور میجر ائیر کرافٹ میں کوئی فنی خرابی نہیں تھی۔ سندھ حکومت نے طیارہ حادثے کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کے ممبران قومی ائیر لائن کے سی ای او کے ماتحت ہیں اسی لیے تحقیقات کے دوران سی ای او پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے سربراہ کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ زندہ بچ جانے والے مسافر زبیر کی جانب سے طیارے کے رن وے پر ایک مرتبہ آنے اور پھر اڑان بھرنے کے انکشاف نے پی آئی اے انتظامیہ اور پائلٹس ایسوسی کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ ائیر ٹریفک کنٹرولر کے مطابق پائلٹ نے ہماری ہدایات ہر عملدرآمد نہیں کیا جو حادثے کا سبب بنا۔ تحقیقاتی ٹیم کو موصول ہونے والے تحریری جواب کے مطابق جہاز کے کپتان نے لینڈنگ سے 10 ناٹیکل میل پر دی گئی ہدایت کو بھی نظر انداز کردیا، کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل جہاز کی اونچائی 1800 فٹ ہونی چاہئے تھی لیکن کپتان اس وقت طیارے کو 3000 فٹ اونچائی پر اڑا رہا تھا، باربار ہدایت پر بھی کپتان نے کہا کہ وہ لینڈنگ سے پہلے اونچائی اور اسپیڈ کو کنٹرول کرلے گا تاہم ایسا نہیں ہوا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ کپتان لینڈنگ کے وقت اونچائی اور اسپیڈ کنٹرول کرتے وقت لینڈنگ گیئر کھولنا بھول گیا‘جہاز کے کپتان نے پہلی بار لینڈنگ گیئر کھولے بغیر طیارہ لینڈ کرادیا، کپتان نے جہاز کو لینڈنگ کرائی تو گیئر نہ کھلنے کی وجہ سے جہاز کے دونوں انجن رن وے پر ٹکرائے اور تین بار رن وے سے رگڑ کھائی جس کی وجہ سے چنگاریاں اٹھیں اور کپتان نے جہاز کو دوبارہ ٹیک آف کرادیا۔جہاز کے کپتان نے دوبارہ لینڈنگ کے وقت بتایا کہ جہاز کے انجن کام کرنا چھوڑ گئے ہیں تاہم کپتان نے ایمرجنسی لینڈنگ کا نہیں بتایا اور کہا کہ وہ پرسکون ہے۔ اس جواب کے برعکس پائلٹس کی تنظیم پالپا کا کہنا ہے کہ انھیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ انتظامیہ شفاف تحقیقات کے حق میں نہیں، تحقیقات کو رخ موڑ کر سارا ملبہ پائلٹ پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ طیارے کا بلیک باکس تو مل گیا ہے لہذا تحقیقات سے قبل قیاس آرائیاں یقیناً لواحقین کے لیے تکلیف کا باعث ہیں اسی لیے حتمی رپورٹ سے قبل پی آئی اے انتظامیہ اور پالپا کو بیان بازی سے بھی گریز کرنا ہوگا۔ قومی ائیر لائن کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ماضی میں بھی کئی مرتبہ غفلت سامنے آئی مگر کوئی تحقیقات منظر عام پر نہ آ سکیں۔ 3 سال قبل چترال سے اسلام آباد جانے والا جہاز حادثے کا شکار ہوا تھا مگر آج تک وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔ پی آئی اے میں نظام کے ساتھ ساتھ ترتیب بھی عجیب و غریب ہے سول ایوی ایشن آزادانہ کام کر نہیں سکتی تو تحقیقاتی کمیٹی کیا کرے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ دوسرے ملکوں میں حادثے نہیں ہوتے لیکن حادثے کے بعد کوتاہیاں درست کی جاتی ہیں مگر ہمارے ہاں 4 دن واویلا کر کے پھر وہی روش اپنا لی جاتی ہے۔ موجود صورتحال میں وزیراعظم کو خود شفاف تحقیقات یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہونگے۔ اس امر کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ تحقیقات کے دوران معلومات باہر نہ آئیں، قیاس آرائیوں سے لواحقین کی تکلیف کا اندازہ بھی لگانا ہو گا اور جلد از جلد تحقیقات کا عمل مکمل کرکے ذمہ داران کو عوام کے سامنے لانا ہو گا۔


ای پیپر