ہندوستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا
28 May 2020 (14:15) 2020-05-28

بلوچستان میں دو تین سال سکون سے گزر گئے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہو گیا ہے ۔لیکن گزشتہ ایک ہفتے سے دہشت گردوں نے ایک بار پھر پیغام دیا ہے کہ نہیں ابھی ہم ختم نہیں ہوئے بلکہ ہم تازہ دم ہو کر لڑنے کے لئے آئے ہیں۔ہندوستانی کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر یہ بیہودہ گفتگو کر رہے تھے کہ پاکستان کشمیر کشمیر کی رٹ چھوڑے اور بلوچستان کی فکر کرے۔ ہم جلد ہی بلوچستان پر حملے کر کے ان کو سبق سکھانے والے ہیں ۔ ان کی دھمکی کے چند دنوں بعد ہی یہ دھماکے اور قاتلانہ حملے شروع ہو گئے۔ گزشتہ ہفتے کیچ کے علاقے بلیدہ کے پاس ایف سی کانوائے کے راستے پر بارودی سرنگ بچھائی گئی جس سے ایف سی (آرمی) کی گاڑی ٹکرا کر تباہ ہو گئی اور اس میں ایک افسر میجر ندیم عباس اور 5جوان شہید ہو گئے۔ کیچ کے علاقے میں یہ بہت بڑا حملہ تھا۔ابھی چند ہی دن گزرے ہیںکیچ ہی کے علاقے مند کے پاس ایک ایف سی چوکی پر حملہ کر کے ایک جوان کو شہید کر دیا گیا۔کیچ (تربت) ضلع کو بھی کہتے ہیں اور کیچ اس علاقے کا بھی نام ہے جیسے پوٹھوہار، ہزارہ وغیرہ گوادر سے ایک شاہراہ براستہ تربت مند اور کرمب بنائی گئی ہے اس شاہراہ کا نام زبیدہ جلال روڈ ہے۔ پرویز مشرف نے تعلیم کے لئے زبیدہ جلال کی کوششوں کو سراہتے ہوئے گوادر سے ایرانی بارڈر تک بنائی تھی۔ یہ سڑک آج بھی موٹروے سے بہت بہتر بنی ہوئی ہے۔ اگر پانی کا گلاس بھر کر کار میں رکھ دیا جائے تو نہیں گرتا۔گوادر سے 155کلومیٹر دورتربت ہے۔تربت یہاں کا ضلعی ہیڈکوارٹر ہے۔پہلے بھی اس کو تربت ہی کہتے تھے پھر یونیورسٹی بننے اور یہ عظیم سڑک تعمیر ہونے کے بعد پڑھے لکھے طبقے نے اعتراض کیا کہ تربت تو قبر کو کہتے ہیں اس کو ہمارے علاقے کا نام دیا جائے لہٰذا اب کاغذوں اور سڑکوں پر لکھے ہوئے بورڈز اور بینروں پر سے تربت کا ٹ کر کیچ لکھا جا رہا ہے۔ گوادر سے تقریباً دو گھنٹے میں کار پر تربت پہنچا جا سکتا ہے ۔پھر تربت سے 115کلومیٹر دورمندزبیدہ جلال کا شہر ہے یہ پاکستان کی طرف سے آخری ایسا قصبہ یا چھوٹا سا

شہر ہے جہاں سے ضرورت کی ہر چیز مل جاتی ہے اور پھر مند سے کرمب ایرانی بارڈر 21کلومیٹر ہے۔

اس بارڈر سے قانونی طور پر پیدل آر پار آ جا سکتے ہیں۔ کرمب سے مند اور پھر تربت تک ٹویوٹا کمپنی کی چھوٹی گاڑی کورے بطور ٹیکسی چلتی ہے۔ کرمب بارڈر کے نزدیک دو بڑے سپرسٹور بنے ہوئے ہیں جہاں سے ایرانی سامان تھوک کے حساب سے دکاندار خرید کر لاتے ہیں۔ مند کے بعدبا لیچہ(سرسبز علاقہ علاقہ ہے جہاں فروٹ کے باغات ہیں) ایک مقام ہے اس کے پاس ایف سی کی چوکی پر حملہ ہوا۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ یہ سڑک موٹروے سے بہت بہتر بنی ہوئی ہے لیکن دہشت گردوں نے ہر 5/7کلومیٹر کے بعد سڑک کھود کر نالیاں بنا دی ہیں جو تقریباًً ایک فٹ چوڑی اور ایک فٹ گہری بنائی گئی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ پیچھا کرنے والی فورسز کی گاڑیاں رفتار نہ پکڑ سکیں اور نہ ہی پکڑ سکیں۔ ان کے پاس ایرانی پک اپ(زمبا) گاڑیاں ہیںجو جمپ پروف ہیں اور ان کی بہت زیادہ رفتار ہوتی ہے۔ دوسرا ایف سی پر حملہ پیرغائب مزار کے پاس ہوا۔ پیر غائب بلوچستان کا بہت بڑا مزار ہے ۔یہاں پر دو بڑے مزارات ہیں پیرغائب اور بی بی نانی۔وہاں کی روایات کے مطابق یہ دو بہن بھائی تھے۔ بی بی نانی کا مزار کوئٹہ سے60کلومیٹر سبی نصیر آباد روڈ پر واقع ہے اور پیر غائب جو روایت کے مطابق وہاں گم ہو گئے تھے لیکن اب وہاں ان کا مزار ہے۔ ان کے مزار کے پاس انتہائی سخت پتھر میں سے 3فٹ گولائی میں ایک سوراخ ہے جس سے بہت زور اور پریشر سے پانی نکل رہا ہے جو انتہائی صاف اورشفاف ہے ۔اور پھر جو پانی اتنے پریشر سے آ تا ہے وہ تقریباً دو کلومیٹر کے بعد غائب ہو جاتا ہے۔اس سے آبپاشی وغیرہ کا کوئی کام نہیں لیا جا رہا۔ یہ پانی صدیوں سے دن رات چل رہا ہے۔بہت ہی خوبصورت چشمہ ہے اس کے سامنے ایک تالاب سا بنا ہوا ہے جس میں لوگ بلوچستان اور سندھ سے نہانے کے لئے آتے ہیں۔ بہت ہی خوبصورت تفریح گاہ ہے۔ تالاب تقریباً پانچ فٹ گہرا ہے لیکن اتنا صاف ہے کہ زمین پر پڑا ایک معمولی تنکا بھی نظر آتا ہے۔

پیر غائب مزارپر لوگ منتیں دینے اور چڑھاوے دینے کے لئے بھی حاضر ہوتے ہیں وہاں میرے ساتھ بہت ہی دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ وہاں تالاب پر دوسرے لوگوں کے ساتھ میں بھی پانی سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔عصر کے وقت دیکھا تو ہر آدمی جلدی جلدی وہ جگہ چھوڑ رہا تھا اور وہاں سے نکل رہا تھا۔میرے حساب سے شام ہونے میں ابھی کافی وقت تھا۔ ایک شخص کو محسوس ہوا کہ میں شاید نیا آیا ہوں مجھے وہاں کا پتہ نہیں تھا وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ بھائی آپ یہاں سے چلے جائیں۔ وجہ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پہاڑ کے پیچھے سب فراری رہتے ہیں اور اس وقت وہ اپنے استعمال کے لئے پانی لینے آتے ہیں۔ آپ جیسا آسان شکار ان کو مل گیا تو اغواء برائے تاوان کے لئے لے جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے ان کو یہ محسوس ہو کہ آپ ان کی تلاش یا مخبری کے لئے آئے ہیں تو آپ کو مار ہی نہ دیں۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو تین طرف تقریباً 600فٹ اونچے بالکل سیدھے پتھر کے پہاڑ تھے جو بالکل 90ڈگری پر اوپر سیدھے تھے۔ ان پر چڑھنا اور اترنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا صرف ایک ہی راستہ تھا جہاں سے آ جا سکتے ہیں۔ میں نے وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت سمجھی۔ پیر غائب کا مزار مین شاہراہ سبی کوئٹہ سے 6کلومیٹر دور اندر ویرانے اور پہاڑوں کے اندر ہے جو فراریوںکے لئے محفوظ جگہ ہے۔ میں نے اس وقت کے ڈی جی ایف سی جنرل شیر افگن کو صورتحال سے آگاہ کیا تو انہوں نے وہاں گشت بڑھا دیا۔ پہاڑوں کی چوٹیوںپر بھی ایف سی چوکیاں بنا دیں۔ کچھ عرصہ کے بعد میں دوبارہ وہاں گیا تو مزار پر کافی روشنی تھی اور شام تک لوگ لطف اندوز ہورہے تھے۔ اب اسی راستے پر ایف سی کی کانوائے پر حملہ کر کے ایک نائب صوبیدار اور پانچ جوانوں کو شہید کر دیا گیا۔ اس سے تھوڑا دور ایف سی کا کیمپ بھی ہے۔ ایف سی کیمپ سے مچھ جیل صرف 500کلومیٹر دور ہے جس کے باہر لیوی، جیل پولیس کا پہرہ نہیں ہے وہ بہت خطرناک علاقہ ہے۔ جیل کی حفاظت کے لئے فوری طور پر جیل پولیس کا پہرہ بڑھایا جائے۔ آج کل دہشت گردی کی وارداتیں زور پکڑ رہی ہیں۔ بلوچستان حکومت کو سخت حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے۔


ای پیپر