لاوارث پولیس
28 May 2020 2020-05-28

بوڑھے چچا حوالدار جب بولتے ہیں تو پھر کسی کو بولنے کا موقع بھی نہیں دیتے ،ہواکیا تھا ،آپ بھی جانئے۔۔۔ پولیس کس قدر بے بسی میں وقت گزار رہی ہے، کوئی پرسان حال نہیں، کارکردگی کارکردگی کی گردان کرتے افسر تھکتے نہیں، کوئی حفاظتی انتظامات نہیں ہیں، تھانے اور پولیس دفاتر کورونا کا گڑھ بن چکے ہیں، مرکزی دفاتر بھی کورونا سے محفوظ نہیں ہیں، نفسا نفسی کا عالم ہے، اپنی مدد آپ کے تحت سب چل رہا ہے، پولیس کی وہی پرانی حکمت عملی تباہی کی نوید سنا رہی ہے، جہاں ایک جوان ڈیوٹی سر انجام دے سکتا ہے وہاں دس گنا نفری تعینات کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ آج بھی بند کمروں میں کرائم میٹنگز زور شور سے جاری ہیں، پچانوے فیصد افسران ماسک کو پہننا توہین سمجھتے ہیں، جوان کے لیئے کوئی حفاظتی اقدامات موجود نہیں ہیں، جن گاڑیوں میں جوان سفر کر رہے ہیں، ان کا ڈس انفیکٹ کرنے کا سرے سے کوئی مکینزم نہیں ہے۔ پولیس کی فائل، درخواستیں اور ڈاک، مختلف ہاتھوں میں ہوتی ہے، جو کسی میزائل سے کم نہیں ہے، لوہے کے میز، سب کے سب انتہائی خطرناک ہیں، محکمہ پولیس کا ایک ایک جوان اس کا شکار ہو رہا ہے، بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی نوید ہے۔"کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے"

کورونا سے جنگ کے لیئے کوئی فنڈ نہیں ہے، کوئی سپیشل پیکج نہیں ہے، کوئی اضافی تنخواہ نہیں ہے، البتہ کٹوتی لازمی ہے۔آئی جی پنجاب شعیب دستگیر از خود باہر نکلیں اور دیکھیں اپنے جوانوں کی حالت زار، دیکھیں ان کی لوہے کی چارپائیاںاور باکس!کیا یہ ممکن ہے پولیس اہلکار روزانہ کی بنیاد پر اپنا سامان فرنیچر اور فائیلیں سینیٹائیز کریں، پوری دنیا حالت جنگ میں ہے، جبکہ محکمہ پولیس آج بھی پتھر کے زمانے میں ہے، کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو سرکاری طور پر محفوظ کیا جا رہا ہو، آخر کب تک ایس ایچ اوز کو ہی اپنے طور پر انتظامات کرنے ہونگے، آج جب ساری دنیا اپنی اپنی پریشانی میں ہے، کس سے بھیک مانگیں گے۔ اگر ایس ایچ او نے بندوبست کرنا ہے تو پھرافسران کب تک مخکمے کو ایسے ہی چلائیں گے ۔ چونکہ ایس ایچ او کا حکم محرر تک جا کر اپنی موت آپ مر جائے گا۔"کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے"

پولیس ملازمین کو دفاتر میں اکٹھا کرنا کہاں کی عقلمندی ہے، جن دفاتر میں ہر لمحہ طرح طرح کے لوگ آکر کرسیاں استعمال کرتے ہوں، دروازے کھولتے اور بند کرتے ہوں، وہاں سینیٹائزیشن کی جامع حکمت عملی ناگزیر ہے، جو کہ سرے سے نا پید ہے۔"کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے"

میں نے اولین سطح پر نشاندہی کی تھی کے فرنٹ لائین فورس کے طور پر محکمہ پولیس سب سے زیادہ کورونا وائرس کا شکار ہوگا،یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد ایک پولیس ملازم جان سے ہاتھ دھو رہا ہے جبکہ دیگر ملازمین ناقص انتظامات اور بے بسی کے عالم میں کورونا وائرس کا تیزی سے شکار ہو ر ہے ہیں ۔ "کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے"

پنجاب پولیس کے 400 شیر جوان کورونا وائرس سے جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ3 شیر جوان شہید ہو چکے ہیں۔اس سنگین صورتحال میں پولیس کا ہر جوان بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے اپنے افسران کے حکم پر سڑکوں پر موجود ہیں ،شہر میں داخل اور باہر جانے والی ٹرانسپورٹ کو چیک کرنا ،مشکوک افراد کی چیکنگ کرنا یہ اور بہت کچھ ڈیوٹی کے دوران سامنا رہتا ہے ۔

اور پھر افسران کی طرف سے یہ موقف سامنے آجاتا ہے ، پولیس کو ہمیشہ سے ہر میدان میں ہراول دستے میں شامل ہو کر ملک وقوم کی خدمت کرتی رہی ہے، اور اب بھی کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہر میدان میں سب سے آگے پنجاب پولیس ہی ہے۔ جہاں لاہورپولیس نے ہر میدان اپنی جواں مردی اور بہادری سے فتح کیا ہے، وہیں بہت بڑی تعداد میں جان کے نذرانے بھی پیش کیئے ہیں۔

بوڑھے حوالدار نے جوابا کہا ،آج بھی پولیس بلا خوف و خطر، شہر کے بے ہنگم ہجوم کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیئے سر گرم ہے، اور جان پر کھیل کر کوشش کر رہی ہے کہ کورونا وائرس سے اپنے سوہنے دیس پاکستان کے باسیوں کو کسی بھی طریقہ سے بچا لیا جائے،لیکن ان پولیس ملازمین کو بچانے کے لئے افسران کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے ساتھ سپا ح کی جان و مال کو محفوظ بنانے کے لئے بھی اقدامات عمل میں لائیں ۔

کورونا سے لڑنا بھی ہے ،اس سے بچنا بھی ہے ،بچے کا وہی جسے کورونا نہیں ہو گا اور کورونا اسے نہیں ہو گا جو اپنی حفاظت کامیابی سے کرے گا ۔پھر اس میں بہادری کہاں سے آئی ،یہ تو ٹھیک ہے کہ ہمارے شیر جوان بڑے بہادر ،بے باک،بے خوف ،نڈر اور سب کچھ ہیں لیکن اس کم بخت وائرس کے گلے میں گھنٹی ہے نا اسکا کوئی رنگ ہے نہ یہ خاردار ہے کہ چبھے اور اکا پتہ چل جائے ۔یہ تو ہے جان کا دشمن جو خفیہ ہے اور وار کاری کرتا ہے ۔اسے تو حفاظتی اقدامات سے ہی ناکام کی دھول چٹائی جا سکتی ہے مگرآئی جی پنجاب صاحب اقدامات کوئی کرو بھی ناں۔


ای پیپر