دس لاکھ قیدیوں والا ملک کونسا ہے؟
28 May 2019 2019-05-28

رشید اکبر صاحب، نوعمری میں ہی دوحہ قطر چلے گئے تھے، چونکہ اس وقت ان کے چچا وحید غیاث صاحب، قطر میں پاکستان کمیونٹی کے صدر اور وہاں پہ قائم پاکستانی تعلیمی اداروں کے چیئرمین تھے ، اور ان کی خدمات کے عوض حکومتِ قطر نے اُنہیں اپنے ملک کا ایوارڈ بھی دیا تھا، اور القاب بھی بخشا تھا۔

اُنہیں کی وجہ سے اور اُنہیں کی مددسے ، بلکہ اللہ کی مرضی سے وہ وہاں چلے گئے، اور اب ماشا ءاللہ وہ اپنی ساکھ اور پاکستانی روایات برقرار رکھے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے ادارے کے اہم عہدے پہ تعینات ہیں ان کی نوعمری اب تیزی سے چاندی کے تاروں میں بدلتی جارہی ہے، پہلے تو میں یہ سمجھا، جیسے آج کل کے کچھ ”شوخے، سونے کے دانت لگوا لیتے ہیں، شاید رشید صاحب نے بھی، اُنہیں کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے چاندی کے بال لگوالیے ہوں، خیر رشید اکبر صاحب کی ایک خاص خوبی، جس کا میں معترف ، بلکہ مداح ہوں، کہ وہ روایتی باعمل مسلمان ہیں، تاریخ اسلام اُنہیں ازبر یاد ہے اور دنیا کی جدید وقدیم کوئی ایسی کتاب نہیں ہوگی، جواُن کی دسترس یا پہنچ سے دور ہو، کیونکہ اب وہ بچے تورہے نہیں۔ رشید اکبر جب بھی قطر سے پاکستان تشریف لاتے ہیں، بلامبالغہ تقریباً روز رات کو مجھے فون کرتے ہیں، اور ان کا موضوع ہمیشہ حالات حاضرہ ہوتا ہے۔ اس دفعہ وہ رمضان المبارک شروع ہونے سے کچھ دن قبل واپس چلے گئے، مگر تحریک انصاف کے اعدادوشمار، اور ان پہ الزامات کی لگائی ہوئی لمبی ”قطار“ ان کی وجہ دلِ گرفتگی تھی، حالانکہ ان کے دل کا آپریشن انیس بیس سال کی عمر میں کسی انگریز سرجن نے قطر میں کردیا تھا جب وہ بحث ومباحثے میں زیادہ ہی الجھ جاتے، تو میں کبھی کبھی عمران خان کے حق میں ایک آدھا بیان داغ دیتا ہوں، تو پھر وہ گرمی کھاکر وزیراعظم کا حسب نسب، اور شجرہ ، انداز مولاناطارق جمیل صاحب، میں سنانا شروع کردیتے ہیں۔

قارئین ایک دلچسپ بات جو میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں ، میں نے اُنہیں کہا، کہ میں مولانا طارق جمیل صاحب کے انداز تکلم ، اور عادت گریہ زاری جو بعض اوقات آہ زاری میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے، بہت متاثر ہوں یہ سن کر رشید اکبر بھی بول پڑے، کہ کبھی میں بھی ان کی تعلیمات کا بہت قائل تھا، مگر اب میں ان کا قائل نہیں رہا۔ میں نے حیرت سے پوچھا، کیوں رشید صاحب، آپ میں یہ تبدیلی کیسے آگئی؟تو پھر انہوں نے تفصیل بیان کرنی شروع کردی کہ انتخابات سے قبل مولانا نے یا عمران خان کی فرمائش پہ ملاقات کی، تو مولانا طارق جمیل صاحب نے یہ بیان داغ دیا، کہ عمران خان ایماندار دکھائی دیتے ہیں، اور ریاست مدینہ کی بھی بات کرتے ہیں، لہٰذا میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ووٹ عمران خان کو دیں۔ مولانا کو کیا ضرورت تھی، کہ وہ تبلیغی جماعت کے اصولوں کے برعکس سیاسی بیان دیتے پھریں، اب عوام کی جو حالت زار ، بلکہ ”حالت زار، زار“ ہے، اس پر بھی تو تبصرہ کریں، میں نے انہیں چھیڑا کہ رشید صاحب، آپ تو دہشت گردی سے پاک صاف ملک سے تشریف لائے ہیں، مگر آپ کا انداز تو ہمارے جیسا جذباتی ہے ،میری یہ بات سن کر وہ واقعی جذباتی ہوگئے، اور کہنے لگے کہ میں جذباتی کیوں نہ ہوں کیا ہمارے کام مسلمانوں والے ہیں۔

ایک نہایت چھوٹی سی بات تھی، کہ اولمپک کی تیاری، اور فیفا کی منظوری، یا رضامندی کے بعد دوحہ قطر میں اس کی باقاعدہ تیاریاں بھی شروع ہوگئی تھیں، مگر ایک دوسرے ملک نے اسے اَنا کا مسئلہ بنالیا، حتیٰ کہ سفارتی ہی نہیں، تجارتی اور برادرانہ تعلقات میں دراڑیں آگئیں ، جبکہ ہمارے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد کافرمان تو اس کے بالکل برعکس ہے، کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کے کسی بھی حصے میں درد ہو، تو پورا جسم درد محسوس کرکے بے چین ہوجاتا ہے۔ مگر یہاں صورت حال اس قدر دگرگوں ہے کہ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے فلسطینی آزادی پسندوں کو ایک راہ نما اسلامی ملک دہشت گرد قرار دے دیتا ہے، اور ٹرمپ نے شام کی جولان کی پہاڑیاں، جس پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا ہوا ہے، اور مصر میں اس پر دعویٰ ملکیت کرتا ہے، اپنے ایک حکم کے مطابق اسرائیل کو ”بخش“ دی ہیں، حالانکہ کسی ملک کا کوئی حصہ، کسی دوسرے ملک کو عنایت کردینے کا حق کوئی تیسرا ملک نہیں رکھتا ، نہ اخلاقی طورپر اور نہ قانونی طورپر، مگر احتجاج تو درکنار اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں، اب روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔ یمن کے حوثی ، جوکبھی ایران سے نقل مکانی کرکے یمن جابسے تھے، کیا اس مسئلے کو باہمی گفت وشنید سے طے نہیں کیا جاسکتا؟ لیکن جب کسی بھی ملک میں توسیع پسندانہ، جذبات سرایت کر جائیں، تو کشت وخون قوموں ، اور ملکوں کا مقدر بن جاتا ہے، اور وہاں کے معصوم عوام جُرم ناکردہ پہ پس کے رہ جاتے ہیں، اسلامی ممالک میں جو وسائل ، اور پیسہ ہے ، وہ اللوں تللوں پہ خرچ کردیا جاتا ہے، اپنی حفاظت کے لیے ایسے امیر ملک امریکہ کے فوجیوں کو کرائے کے فوجی بنالیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک ملک نے اپنے دارالحکومت میں ہزاروں امریکی فوجی اپنی حفاظت کے لیے رکھ لیے ہیں، حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں ، کہ

سنا ہے، میں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات

خودی کی پرورش ولذت نمود میں ہے !

قارئین ذراسوچئے ، شام میں شرانگیزی ، اردن ، لبنان ، مصر ، تیونس، مراکش، یمن، عراق، فلسطین، پاکستان، افغانستان وغیرہ میں معاشی بے چینی جو تیزی سے ”انارکی“ کی جانب گامزن ہے، اس کا مداوا کیونکر ممکن ہے؟ محض فرمانِ رسول اللہ کے مطابق، مسلمان کی حاجت کو پورا کردینا دس سال کے اعتکاف سے زیادہ ثواب ہے، اور مسجد نبوی میں بیس سال کے اعتکاف کرنے سے بھی زیادہ ہے (درمنثور،طبرانی بطولہ )

قارئین مقام حیرت ہے، کہ یہ فریضہ بااحسن طریق صرف ایک ہی اسلامی ملک ادا کرسکتا ہے، مگر افسوس جو ہم جس ملک کو اس قابل سمجھتے ہیں اس ملک میں تو دس لاکھ قیدی ہیں، پاکستان کے ایک لاکھ جنگی قیدی بھارت میں قید تھے، توبھارت قیدی واپس کرنے کے لیے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے کو تیار تھا مگر وہاں خبر ہی نہیں کہ کون کس جرم میں اور کب سے قید ہے۔ یہ ہواناہمارا مثالی اسلامی ملک ، جس کے لیے ہمارے وزیراعظم اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں، بھینس بیچ کر لاکھوں کا دودھ خریدتے ہیں، اور وزیراعظم ہاﺅس خالی کرکے کروڑوں کا بل ادا کرتے ہیں۔


ای پیپر