علی ؓ مولا، علی ؓ مولا، علی ؓ علی ؓ !
28 May 2019 2019-05-28

کل حضرت علی ؓ کا یوم شہادت تھا اور آج مجھے حضرت علی ؓ کے کچھ ایسے اقوال مبارک یاد آرہے ہیں جن پر عمل کرنے یا جن سے کچھ سیکھنے سے ہم اپنی آخرت سنوار سکتے ہیں۔ مگر افسوس ہماری ساری توجہ اپنی زندگی سنوارنے پر ہے جو ایک ”عارضی پناہ گاہ “ ہے۔ اور زندگی بھی ہم محض اس لیے نہیں سنوار پاتے کہ ہم اپنے نبیوں، پیغمبروں، اپنے بزرگان دین کے بتائے ہوئے راستوں پر عمل کرنے سے گریزاں رہتے ہیں، ہم اپنے راستے اپنے لیے خود منتخب کرتے ہیں اور ساری عمر بھٹکتے رہتے ہیں، کئی لوگوں کے پاس دنیا کی ہرنعمت ہرسہولت موجود ہوتی ہے، مگر جو سب سے بڑی نعمت اور سہولت سکون کی صورت میں ہونی چاہیے اس سے وہ محروم ہی صرف اسی لیے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے راستے خود منتخب کرتے ہیں، وہ دین کے راستے پر چلنے سے گریزاں رہتے ہیں، جس طرح قرآن پاک میں ہمارے تمام مسائل کا حل کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے ہم نے قرآن پاک کو صرف پڑھنے تک رکھا ہوتا ہے ، ہم اس سے سیکھتے نہیں نہ عمل کرتے ہیں، بلکہ سچ پوچھیں اب تو پڑھتے بھی نہیں ہیں، ہمارے لیے اب یہ بھی محض ایک عام سی ”کتاب“ ہے جو گھروں میں اُسی طرح پڑی رہتی ہے جیسے دیگر بہت سی کتابیں پڑی ہوتی ہیں، میں چند روز پہلے کسی دوست کے گھر گیا میں نے دیکھا وہاں ٹی وی پر کوئی فلم بلکہ فحش فلم چل رہی تھی اور ٹی وی کے اوپر قرآن پاک پڑا ہوا تھا، مجھے بڑا دُکھ ہوا، میں نے بڑے ادب سے اُن کی خدمت میں عرض کیا آپ کو اور کوئی جگہ نہیں ملی جہاں اِس مقدس ترین کتاب کو آپ سنبھال کر رکھ سکیں؟۔ وہ فرمانے لگے بس ابھی ابھی شاید کسی نے پڑھ کر اِدھر رکھ دیا تھا، خیر میں عرض یہ کررہا تھا جس طرح ہمارے اکثر بلکہ ہمارے تمام مسائل کا حل قرآن پاک میں موجود ہے، اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بھی اپنے کئی طرح کے مسائل ہم حل کرسکتے ہیں، ایسے ہی حضرت علی ؓ نے جوکچھ فرمایا، جو حکمت و دانش آپؓ کے اقوال میں ہے ہم اُن سے رہنمائی لے کر بھی اپنی زندگی کے کئی مسائل حل کرسکتے ہیں یا اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں، یا اس میں برکت پیدا کرسکتے ہیں، سو آج یوم شہادت حضرت علی ؓ کے موقع پر میں سوچ رہا ہوں آج سیاست کی غلاظت پر لکھنے کے بجائے اپنے قارئین کے ساتھ حضرت علی ؓ کے کچھ اقوال مبارک شیئر کروں، میں ان اقوال زریں کی روشنی میں اپنی زندگی کے کئی معاملات کو بہتر کرنے کی کوششوں میں مبتلا رہتا ہوں، جن میں اکثر مجھے کامیابی ملتی ہے، سوآج میں کسی عمران خان، کسی نواز یا شہباز شریف، کسی زرداری، کسی جنرل قمرباجوہ ، کسی چیف جسٹس ناصر محمود کھوسہ، کسی چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال، کسی نرگس، کسی میرا یا مہوش حیات پر لکھنے کے بجائے اپنے کالم کو مکمل طورپر پاک صاف رکھوں گا، آج میں صرف حضرت علی ؓ کے کچھ اقوال زریں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا، اس گزارش کے ساتھ کہ ان اقوال کی روشنی میں، میں نے بہت کچھ تلاش کیا جس سے میری زندگی میں کئی طرح کی برکتیں پیدا ہوگئیں آپ چاہیں تو یہ ”نسخہ“ آپ بھی آزما سکتے ہیں، آپ ؓ نے مختلف مواقعوں پر فرمایا :

٭اپنے بہتر وقت کو نماز میں وقف کرو کیونکہ تمہارے تمام کام نماز کے بعد قبول کیے جائیں گے!

٭ جو شخص سجدوں میں روتا ہے اُسے تقدیر پر نہیں رونا پڑتا!

٭اپنا سراُونچا رکھو تاکہ پتہ چلے تم کسی سے نہیں ڈرتے مگر اپنی نگاہیں نیچی رکھو تاکہ پتہ چلے تم ایک باعزت گھرانے سے ہو !

٭تم کسی کو دل سے چاہو اور وہ تمہیں ٹھکرا دے تو وہ اُس کی بدنصیبی ہے تمہاری نہیں!

٭اتنے خشک نہ بنو کہ توڑ دیئے جاﺅ اور اتنے نرم نہ بنو کہ نچوڑ دیئے جاﺅ !

٭اچھے لوگوں کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے اُنہیں یاد نہیں رکھنا پڑتا وہ یاد رہتے ہیں۔

٭جس شخص میں اخلاص نہ ہو اس کے ساتھ دوستی کرنے کا مطلب خود کو ذلیل کرنا ہے!

٭لوگ تمہاری عقل سے تمہاری شخصیت کا وزن کرتے ہیں لہٰذا تم اپنی عقل کا وزن علم سے بڑھاﺅ !

٭انسان کا کردار اس کی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے اگر کسی شخص کے کردار کا پتہ لگانا ہو تو اُسے غصے کی حالت میں دیکھو !

٭انسان کے آنسو اس وقت مقدس ہوتے ہیں جب وہ کسی اور کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے نکلتے ہیں!

٭دنیا میں کبھی کسی اچھے انسان کو تلاش مت کرو، بلکہ خود اچھے بن جاﺅ۔ ہوسکتا ہے تمہارے اس عمل سے کسی اور کی تلاش ختم ہو جائے!

٭اگر کسی کا ظرف آزمانا ہو تو اسے زیادہ عزت دے کر دیکھو وہ اعلیٰ ظرف ہوا تو آپ کو اور زیادہ عزت دے گا اور کم ظرف ہوا تو خود کو اعلیٰ سمجھنے لگے گا !

٭وہ لوگ کِسی کے نہیں ہوتے جو دوست اور رشتے کو لباس کی طرح بدلتے رہتے ہیں !

٭جو ذرا سی بات پر دوست نہ رہے سمجھ لینا وہ کبھی دوست تھا ہی نہیں !

٭بُرا دوست آگ کی طرح ہوتا ہے اگر جلتا ہے تو آپ کو بھی جلا دیتا ہے اور اگر بجھتاہے تو آپ ہاتھ کالے کردے گا!

٭جو شخص ہمیشہ تمہارا بھلا چاہے اس کا اُداس ہونا تمہارے لیے لمحہ فکریہ ہے!

٭اپنے دشمن کو ہزار موقع دو کہ وہ تمہارا دوست بن جائے مگر اپنے دوست کو ایک موقع نہ دو کہ وہ تمہارا دشمن بن جائے !

٭دنیا میں بہترین انسان وہ ہے جس کے لیے کوئی روئے اور بدترین انسان وہ ہے جس کی وجہ سے کوئی روئے!

٭اگر کسی کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاﺅ تو یہ مت سوچنا کہ وہ کتنا بے وقوف ہے بلکہ یہ سوچنا کہ اُسے تم پر اعتبار کتنا تھا !

٭جھوٹے شخص کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اس کے سچ کا اعتبار بھی کوئی نہیں کرتا !

٭ہمیشہ اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بچنے اور ان سے سیکھنے کی کوش کرو کیونکہ انسان پہاڑوں سے نہیں چھوٹے چھوٹے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہے !

٭انسان کو اچھی نیت پر وہ انعام مِلتا ہے جو اسے اچھے اعمال پر بھی نہیں ملتا کیونکہ نیت میں دیکھاوا نہیں ہوتا !

٭مومن وہ نہیں جس کی محفل پاک ہے۔ مومن وہ ہے جس کی تنہائی پاک ہے !

٭کسی کو پانے کی تمنا مت کرو بلکہ خود اس قابل ہو جاﺅ کہ لوگ تمہیں پانے کی تمنا کریں۔


ای پیپر