File Photo

عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی خطرات ،اہم انکشافات
28 مئی 2018 (20:51)

اسلام آباد سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں سیکریٹری الیکشن بابر یعقوب فتح محمدنے انکشاف کیا ہے کہ عام انتخابات کے موقع پر بڑے پیمانے پر سیکیورٹی خطرات ہیں جو الیکشن کمیشن کے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔ عالمی طاقتیں عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ پولیس کی سیکیورٹی ناکافی ہے، صوبوں کی طرف سے سیکیورٹی کے لئے پاک فوج کی خدمات کا مطالبہ آ رہا ہے۔

سیکیورٹی خطرات پر کمیٹی کو ان کیمرہ بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے یہ باتیںپیر کو یہاں پارلیمنٹ ہاو¿س میں منعقد ہونے والے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہیں جس کی صدارت سینیٹر رحمان ملک نے کی۔سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمدنے کمیٹی کو عام انتخابات کے سیکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 20 ہزار پولنگ سٹیشن حساس قرار دے دیے گئے ہیں۔حساس پولنگ سٹیشنوں میں کیمرے لگائے جائیں گے۔

کیمرے سے سیکیورٹی اور الیکشن عملے کے نظم و نسق کو بھی مانیٹر کیا جا سکے گا۔سیکیورٹی کے لئے پاک فوج کی خدمات کا مطالبہ آ رہا ہے۔پاک فوج کے ساتھ سیکیورٹی پر اجلاس ہو چکے ہیں۔پاک فوج مشرقی اور مغربی بارڈر پر مصروف ہے۔کیمروں کی تنصیب کا طریقہ کار طے کرنا باقی ہے۔کیمروں کی تنصیب سے الیکشن میں شفافیت آئے گی۔الیکشن کے دوران بہت بڑے سیکیورٹی خطرات ہیں۔ سیکیورٹی خطرات الیکشن کمیشن کے لئے بڑی پریشانی کا باعث ہیں۔عالمی طور پر الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

صوبائی چیف سیکرٹریز نے پولنگ سٹیشنوں کے لئے کیمروں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔کیمروں کی تنصیب کا ایس او پی مرتب کر لیا گیا ہے۔سیکیورٹی کے لئے پولیس ناکافی ہے۔غور کیا جا رہا ہے کہ پاک فوج کو صرف حساس پولنگ سٹیشنوں پر تعینات کریں یا تمام سٹیشنوں پر تعینات کریں۔ایک تجویز ہے کہ تمام پولنگ سٹیشنوں پر فوج تعینات کی جائے۔سینٹ داخلہ کمیٹی نے کہا کہ الیکشن میں نتائج تبدیل کئے جاتے ہیں ۔پولنگ سٹیشنوں سے نتائج ریٹرننگ افسروں کے دفاتر لے جاتے ہوئے تبدیل کئے جاتے ہیں۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ لیکشن میں جھرلو نہیں پھرنا چاہیے۔

اس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن نتائج کی مانیٹرنگ کا طریقہ کار بھی وضع کر لیا گیا ہے،کسی کو نتائج تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پریذائڈنگ افسر پولنگ سٹیشن سے ہی فارم 45 پر رزلٹ درج کر کے اس کی تصویر الیکشن کمیشن کو بھیجے گا۔ جو پریذائڈنگ افسر فارم 45 کی تصویر نہیں بھیجے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔صرف دس فیصد پریذائڈنگ افسر ایسے ہوتے ہیں جو گڑ بڑ کرتے ہیں۔

چیئرمین نادرا نے کہا کہ الیکشن کروانے پر چار سال میں ہم نے بہت کام کیا ہے۔ آن لائن ووٹنگ کے لئے فنگر پرنٹ ڈوائسسز کم قیمت ہوں تو فنگر پرنٹ پہچاننے میں مسلہ ہو تا ہے۔ سپیشل سیکرٹری داخلہ رضوان ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو فوج کی تعیناتی سے متعلق بر وقت آگاہ کرنا ہو گا۔وزارت داخلہ الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔الیکشن کمیشن ووٹرز کے پولنگ سٹیشن تبدیل نہ کرنے کو یقینی بنائے۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس باراضافی بیلٹ پیپرز نہیں چھاپے جائیں گے، بیلٹ پیپرز سرکاری پریس سے چھپوائے جا ئیں گے۔بیلٹ پیپرز کی حفاظت کو یقینی بنایا جا ئے گا۔ سینٹر رحمان ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو جہاں جہاں ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہو تو کمیٹی ساتھ دیگی۔ سینٹر رحمان ملک نے کہا کہ سارے پرائیوٹ ٹی وی چینلز الیکشن آگاہی پر کچھ منٹ دےں۔ پرائیوٹ ٹی وی چینلز الیکشن میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ وہ سیاستدان جنکی زندگیاں خطرے میں ہیں انکو مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے۔پچھلے الیکشن میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو اغوا کیا گیا تھا۔ کوئی ناخوشگوار واقع اگر رونما ہوا تو وزارت داخلہ ذمہ دار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ا لیکشن نازک حالات میں آ رہے ہیں، پولنگ سٹیشنز کی سیکورٹی کو ہم نے ممکن بنانی ہے۔سپیشل سیکرٹری داخلہ نے جن شخصیات نے پولیس کی سیکیورٹی لے رکھی ہے ان کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کر دی۔ ان افراد میںعمران خان، مولانا فضل الرحمن، وسیم سجاد، رضا ربانی، چوہدری نثار، شیخ رشید، کشمالہ طارق، رحمان ملک، شیری رحمان شامل ہیں۔ سینیٹر چوہدری تنویر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید کو سیکیورٹی کی دو گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں، بتایا جائے شیخ رشید کو کونسا خطرہ ہے۔ہمیں سیکیورٹی کے لئے ایک پولیس اہلکار بھی نہیں دیا گیا،کشمالہ طارق کو کس حیثیت میں سیکیورٹی دی گئی۔سیکرٹری داخلہ رضوان ملک نے کہا کہ سیکیورٹی کی فراہمی کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔کمیٹی سیکیورٹی خطرات کا جائزہ لے کر سیکیورٹی کی فراہمی کی سفارش کرتی ہے۔کمیٹی چیرمین نے کہا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملہ ہوا اس کی تحقیقات کی ابھی تک کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ کمیٹی معلوم کرے گی کہ احسن اقبال پر حملے کے 15 منٹ بعد گرفتار ملزم کی ویڈیو جاری کر دی گئی۔ اس کے ذمہ داروں کے خلاف اڑتالیس گھنٹوں میں کاروائی کی جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملہ پر سپیشل سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی سیکیورٹی اسلام آباد کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے پلان بنایا ہے۔ احسن اقبال پر حملہ کرنے والے 5 لوگ گرفتار ہیں۔ گرفتار ہونے والے لوگوں کا تعلق جس جماعت سے ہے وہ ہم ان کیمرا بتانا چاہیتے ہیں۔ رحمان ملک ایڈیشنل آئی جی پنجاب کو ملزم کے بیان کی وڈیو لیک کیسے ہوئی، اس کو معطل کیوں نہیں کیا گیا۔ 48 گھنٹے میں اس پر اس کی رپورٹ پیش کریں کہ کیسے وڈیو لیک ہوئی۔سینیٹر رحمان ملک نے سینیٹر جاوید عباسی کی سربراہی میں سب کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان سیاستدانوں و اہم شخصیات کی سیکورٹی کی طریقہ کار کو وضع کریگی۔رحمان ملک نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ جنکی زندگیاں خطرے میں ہیں فوری سیکورٹی فراہم کریں۔ سینیٹر رحمان نے کہا کہ ملک مولانا عبدالغفور حیدری پر کئی حملے ہوئے ہیں کو فوری سیکورٹی دی جائے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ انہیں اس پر افسوس ہوا کہ مولانا عبدالغفور سے مکمل طور پر سیکورٹی واپس لی گئی ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ مجھے احسن اقبال نے بتایا اگر میں فون کال نا اٹھاتا تو گولی میرے سینے میں لگتی۔جس ملک کا وزیر داخلہ محفوظ نہیں عام عوام کیا ہو گی۔ اب وی آئی پیز کو کیا سیکیورٹیدی جاتی ہے، احسن اقبال عبد الغفور حیدری اور دوسرے لوگوں کو جن پر حملے ہوئے اب کیا سیکیورٹی دی جا رہی ہے۔ غفور حیدری نے کہا کہ 12 مئی2017 کو مجھ پر حملہ ہوا جس میں 26 شہید اور 50 زخمی ہوئے۔ اس کی تحقیقات ہوئیں لیکن آج تک اس کی رپورٹ ہمیں نہیں ملی۔ احسن اقبال پر ہونے والے حملہ میں ملوث جو قوت تھی اس کی بھی کوئی رپورٹ نہیں آئے گی۔ مجھ سے تمام سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔ میں کسی بھی علاقے میں جاتا ہوں ایک بھی پولیس اہلکار ساتھ نہیں ہوتا۔ میں مستونگ سے گزر کے جاتا ہوں وہاں آئے روز ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔ اس وجہ سے میں نے رحمان ملک سے رابطہ کیا ہے۔ اجلاس کے آغاز میں کرنل سہیل عابد اور گزشتہ روز شہید ہونے پولیس اہلکاروں کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔


ای پیپر