جوہری توانائی سے لیس پاکستان
28 مئی 2018 2018-05-28

کل پوری قوم نے انتہائی جوش و جذبہ سے20واں یوم تکبیر منایا۔یہ دن ہر برس قوم کو دعوت فکر دیتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ 16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا واقعہ نے ثابت کردیا کہ پاکستان اپنے ازلی دشمن بھارت کا مقابلہ روایتی ہتھیاروں سے نہیں کر سکتا۔ 21 دسمبر 1971ء کو بقیۃ السیف پاکستان کے منتخب حکمران کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو نے زمام اقتدار سنبھالی تو سقوط مشرقی پاکستان کے زخم تازہ تھے۔ انہوں نے اس ناقابل فراموش المیے کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی داغ بیل ڈالیں گے۔ زمامِ اقتدار سنبھالنے کے ٹھیک 20 دن بعد 10جنوری 1972ء کو ملتان میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سائنسدانوں سے ملاقات میں انہوں نے پاکستان کو ایک ایٹمی ریاست بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان کے ایک ما یہ ناز فرزند سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے رابطہ کیا اور اُنہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داریاں سونپیں۔ واضح رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد اقتدار کے ابتدائی ایام ہی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اُن سے ملاقات کے دوران اس پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے کی تجویز پیش کی۔ بھٹو نے اس تجویز کوعمل کے قالب میں ڈالنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ یوں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز ہوا۔ جوں جوں یہ پروگرام آگے بڑھتا گیا، ملک و قوم کے بیش قیمت اثاثے کا روپ دھارتاگیا ۔ اُدھر پاکستان مخالف بیرونی قوتوں کی بے چینی اور اضطراب میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔رفتہ رفتہ پاکستان نے ایک جوہری ریاست کی جانب پیش رفت کی۔ یہ بات مشیت کا روپ اختیار کر گئی کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام کسی ایک حکومت، وزیراعظم یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ملکیت ہے اور اس کے تحفظ کے لیے جملہ وسائل اور تدابیر کو بروئے کار لانا تمام اعضائے ریاست کی اجتماعی ذمہ داری ہے چنانچہ ہمارا ایٹمی پروگرام تکمیل کے مراحل طے کرتا گیا۔ تاآنکہ مئی 1998ء میں جب بھارت میں اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت کو بر سر اقتدار آئے بمشکل دو ہفتے گزرے تھے 13 مئی کو نئی دہلی کی جانب سے ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ ان دھماکوں نے پاکستان کے لیے بہت بڑا دفاعی چیلنج اور خطے میں طاقت کے عدم توازن کا گھمبیر ماحول پیدا کردیا۔اس دوران پوری قوم نے بیک آواز اپنے منتخب وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی اپنے ایٹمی پروگرام کا سر بستہ راز کھول دیں اور جوابی دھماکہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دیں اور دنیا پر بھی واضح کر دیں کہ ہم خطے میں کسی ہمسایہ طاقت کے دباؤ میں آنے والے نہیں۔ اگر بھارت این پی ٹی پر دستخط کیے بغیر ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کر سکتا ہے تو ہم نے بھی پوری تیاری کر رکھی ہے۔ اس مرحلہ پر بیرونی دنیا کی جانب سے حکومت پاکستان پر سخت دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایسا کرنے سے احتراز کرے۔ منتخب حکومت نے ملک و قوم کے اعلیٰ ترین مفاد اور محب وطن پاکستانیوں کے اصرار اور دباؤ کو مقدم رکھا اور بھارتی دھماکوں کے 15 دن کے اندربالتدریج 6 اور 2 ایٹمی دھماکے کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مسلم دنیا کی پہلی، ایشیا کی تیسری اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بنا دیا۔ آج ملک کے طول و عرض میں یوم تکبیر اسی عہد ساز واقعہ کی یاد میں تزک و احتشام سے منایا جا رہا ہے۔ یقیناً پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا ہے۔ یہ اسی کارنامے کا نتیجہ تھا کہ دسمبر 2001ء میں بھارت نے پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر اپنی افواج کا ہجوم تو کیا لیکن اسے ایٹمی پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔
یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی حکمران روز اول سے پاکستان کے خلاف جنگی جنون میں مبتلا رہے ہیں۔ وہ ایک سے زائد بار برصغیر کو دوبارہ اکھنڈ بھارت بنانے کے جنگی جنونی عزائم کا اظہار کرچکے ہیں۔ بھارتی جنگی جنونی حکمرانوں نے پاکستان پر چار بار مذموم جارحانہ جنگیں مسلط
کیں۔ایک میں تو پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد بھارت کی وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے اظہارِ تفاخر کرتے ہوئے یہاں تک کہا تھاکہ ’’بھارت نے دوقومی نظریہ کو آج خلیج بنگال میں غرقاب کردیا ہے‘‘۔ 1974ء میں بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ وہ خطے میں غیر روایتی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرچکا ہے۔ردعمل میں پاکستان کے پہلے منتخب جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے بھارت پر واضح کردیا کہ ’’ہم گھاس کھالیں گے لیکن ایٹم بم بناکر دم لیں گے‘‘۔ بعد ازاں میاں محمد نواز شریف کے دوسرے عہد حکومت میں جب28 مئی 1998 ء کو بھارت میں پوکھران کے مقام پر 13 مئی 1998ء کو کئے جانے والے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُن کے ساتھی سائنسدانوں نے چاغی کے مقام پر 6 ایٹمی دھماکوں کا تجربہ کیا۔ اس تجربہ کا بنیادی مقصد دشمنانِ پاکستان پر یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان خطے کا ایک نا قابل تسخیر ملک ہے اور اسے اب آنے والی صدیوں میں کبھی بھارت کی نومبر 1971ء ایسی برہنہ جارحیت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرثمرمبارک مند نے28مئی2008ء کو 10ویں یوم تکبیر کے موقع پر واضح کیا تھا : ’’اگر پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرتا توبھارت حملے کیلئے تیارتھا، فوج ایٹمی پروگرام کی محافظ ہے، کسی بھی ایٹمی اورمیزائل پروگرام کومنجمد نہیں کیاگیا،ایٹمی پروگرام کوئی بندوق نہیں جو غلط ہاتھوں میں چلی جائے،ان کے خصوصی کوڈزہوتے ہیں جوکسی کو معلوم نہیں جبکہ ڈلیوری سسٹم کے بغیر ایٹم بم بے کار ہے اس لئے ایٹم بم پروگرام کو ہم نے مزید ترقی دی ہے،کروزمیزائل کی ٹیکنالوجی جدید ترین ہے جبکہ برصغیر کاایک ایک انچ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے‘‘۔
پاکستانی حکام متعدد بار عالمی برادری کو باور کراچکے ہیں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم وہ بھارت کے ایٹمی تجربات کے بعد اپنی سلامتی اور سا لمیت کے تناظر میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کم سے کم ایٹمی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے پر مجبور ہے تاہم پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ کیلئے پرعزم ہے لیکن اس کے برعکس بھارت کا ایٹمی آبدوز کا بیڑہ اور کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن خطے کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ایسے جارحانہ اقدامات نے پاکستان کو کم سے کم ایٹمی صلاحیت برقرار رکھنے پر مجبور کیا۔ جوہری تنصیبات کی حفاظت پاکستان کی قومی ذمہ داری ہے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی اس حوالے سے انتظامات کا جائزہ لے کر اقدامات اٹھاتی رہتی ہے۔ پاکستان کا میزائل سسٹم دور یا قریب تک نشانہ بنانے والے میزائل کسی بھی جارحیت کو روکنے اورجنگ سے تحفظ کے لئے ہیں۔سچ تو یہی ہے کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرات کا توڑ کرنے کے لیے پاکستان اپنی ایٹمی صلاحیت کو برقرار اور مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔جنوب مشرقی ایشیا کے امور کے ماہرین اس امر کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ ’’خطے میں بھارت نے یک طرفہ طور پر روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کی، پاکستان کبھی اس میں شامل نہیں ہوا تاہم اس نے بھارت کے اسلحہ جمع کرنے کے خبط کا نوٹس ضرور لیا، اپنے وسائل کے مطابق پاکستان کا دفاع مضبوط بنانے کی کوشش کی‘‘۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ناقدین بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ یہ بھارت ہی تھا ،جس نے پرامن پاکستان کو ایٹمی ہتھیار بنانے پر مجبور کیا۔ بحمد للہ! آج بھارت ، مغرب اور روس کے غیر جانبدار نیو کلیئر ماہرین کو اقرار و اعتراف کرناپڑرہا ہے کہ پاکستان کا محدود،مربوط اور جامع ایٹمی پروگرام ’’بھارت کے لامحدود ایٹمی پروگرام کے مقابلے میں محدود ہونے کے باوجود نتائج کے حوالے سے برتر ہے‘‘۔ یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ پاکستان میں44 سال سے جاری جوہری پروگرام میں کبھی ایک بھی حادثہ یا حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ پاکستان دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایٹمی حادثات سے زیادہ محفوظ ملک ہے۔ پاکستان کی جانب سے اپنے ایٹمی مواد اور جوہری تنصیبات کے تحفظ اور سلامتی کے لئے کئے گئے اقدامات کا اعتراف امریکا اور ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے بھی کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس جوہری مواد کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے نیو کلیئر ایمرجنسی مینجمنٹ نظام سمیت ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مؤثر میکنزم موجود ہے۔
پاکستان کے ارباب حکومت ، سیاسی و عسکری قیادت اور ارکان پارلیمان خطے کے معروض پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ہمارے نزدیک پاکستان اسلام کا قلعہ اور امن پسند ایٹمی طاقت ہے لیکن اپنی قیمت پر امن نہیں چاہتا اگر بھارت نے جنگ مسلط کی تو یہ بڑی ہولناک ہو گی۔بھارت داخلی انتشار اور عروج پکڑتی آزادی کی تحریکوں کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ بوکھلاہٹ کے عالم میں بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت توازن کھوچکی ہے۔ اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا، مودی سرکار نے انتہاپسند جنگی جنونی ووٹ بینک کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا شارٹ کٹ یہ ڈھونڈ رکھا ہے کہ پاکستان مخالف گیدڑ بھبھکیوں اور جارحانہ پراپیگنڈے کے طولانی سلسلے کو جاری رکھا جائے۔عالمی طاقت اور مغربی ممالک جو غیر روایتی ہتھیاروں کے مواد اور تخفیف اسلحہ کے لیے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، وہ بھارت کے اس جنگی جنون پر کیوں خاموش ہیں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کے حالیہ میزائل تجربات نے خطے میں طاقت کا عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت اپنے جوہری مسل کس ملک کو دکھا رہا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ اس حوالے سے بنگلہ دیش، سری لنکا، میانمار، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ کبھی بھارت کا نشانہ نہیں رہے۔ اس کے جنگی جنون کا واحد نشانہ ہمیشہ پاکستان رہا ہے لیکن بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ پاکستان 1948ء، 1965ء یا 1971ء کا پاکستان نہیں، یہ2018ء کا جوہری توانائی سے لیس پاکستان ہے۔


ای پیپر