سندھ میں نئی سیاسی لہر
28 مئی 2018 2018-05-28

سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج سے سندھ میں ایک نئی لہر اٹھی ہے۔ ملک بھر میں گمشدگیوں کا سلسلہ تقریباً 2008ء سے چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا تھا۔ غور طلب بات ہے کہ یہ دور جب منتخب اور جمہوری حکومت کا ہے۔ جن لوگوں کے خلاف یہ کارروائی کی جارہی ہے، ان کو شکایت ہے کہ ریاست اور حکومت ان کو حقوق نہیں دے رہی۔ اور جب وہ حقوق مانگتے ہیں اورپر امن احتجاج کرتے ہیں تو ان کے خلاف ریاستی ادارے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ یعنی یہ سائیکل اس طرح سے ہے کہ حقوق اور ان کے حصول کے لئے جدوجہد ہے۔اقوام عالم اور سیاسی جدوجہد کی تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی جدوجہد کی کئی اشکال اور ماڈل ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر جدوجہد آغاز میں پرامن ہی ہوتی ہے۔ اس میں تشدد کا عنصر اس وقت داخل ہوتا ہے جب ریاستی ادارے اس کی پہل کاری کرتے ہیں۔ اور پھر یہ جدوجہدشدت پسندی اختیار کر لیتی ہے۔

بلوچستان مشرف دور سے ہی زیر عتاب تھا۔ بعد میں یہ سلسلہ سندھ اور خیبر پختونخوا تک آپہنچا۔ بلوچ مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لئے ماما قدیر کی قیادت میں بلوچستان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا گیا۔ یہ مارچ سندھ کی قوم پرست یا بائیں بازو کی جماعتوں اور پنجاب کی بعض بائیں بازو افراد کے علاوہ حمایت حاصل نہیں کرسکا۔ اب پشتون نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کی تحریک کو زیادہ قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ پشتون تحفظ تحریک کے بارے میں متضاد اور مختلف تبصرے اور تجزیے سامنے آئے ہیں کہ آخر اس تحریک کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ اس کے کیا مقاصد ہیں؟ اس کے اچانک بھڑک اٹھنے کی کیا وجوہات ہیں؟

جبری گمشدگی سے مراد یہ ہے کہ بغیر وارنٹ، اور جرم بتائے گرفتار کرنا اور کسی عدالت یا سرکاری ادارے میں گرفتاری ظاہر نہ کرنا۔ سندھ میں پہلے ان کو اٹھایا جاتا تھا جن گروپوں پر علحدگی پسندی کا الزامات تھے۔ لیکن بعد میں پرامن جدوجہد میں یا ریاستی بیانیے سے اختلاف رکھنے والے ادیب، دانشور، آرٹسٹ، صحافی یہاں تک کہ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے بھی اس زد میں آگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سو سے زائد افراد پراسرار طور پر لاپتا ہیں۔ خوف کی فضا کے باوجود ان واقعات کے خلاف سندھ میں چھوٹے پیمانے پر احتجاج ہوتے رہے۔ لیکن یہ آواز زیادہ پذیرائی حاصل نہ کرسکی۔ اب پختونخوا سے بھی آواز بھرپور انداز میں اٹھی ہے، جس کا ریاستی اداروں نے بھی نوٹس لیا ہے۔ اس نوٹس لینے کی بعض اہم وجوہات میں سے اس علاقے کا حکمت عملی کے لحاط سے جغرافیائی محل وقوع، تین صوبوں میں بڑی تعداد میں پشتون آبادی کی موجودگی، اور خود اہم ریاستی اداروں میں پشتون موجودگی سمجھے جارہے ہیں۔ سندھ میں حالیہ احتجاج کی لہر شاید پشتون تحریک سے متاثر ہو کر پیدا ہوئی ہے۔ 21 مئی کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے والوں اور گمشدگان کے ورثاء خاص طور پر خواتین پر تشدد نے اس احتجاج کو تیز کردیا۔ کراچی پریس کلب کے احتجاج کے دوران پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے چار نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ جن کو چھڑانے کے لئے کیمپ میں موجود خواتین نے مزاحمت بھی کی۔

گمشد گان کے عزیز واقارب ان کی بازیابی اور رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری ظاہر کی جائے، اگر الزامات ہیں تو عدالت میں پیش کیا جائے اور مقدمہ چلایا جائے۔ یہ لوگ مظاہرہ ہی تو کر رہے تھے۔

زیادہ سے زیادہ کیمپ لگا کر تین روز بیٹھتے، احتجاج کرتے چلے جاتے۔ بالکل اس طرح جیسے روزانہ ملک بھر لوگ اپنے اپنے مطالبات لیکر پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کرتے رہتے ہیں۔اس کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال اور وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے بھوک ہڑتالی کیمپ پر پہنچ کر ان سے گمشدگان کی لسٹ طلب کی۔ اور دوسرے روز احتجاج کرنے والوں کو مذاکرات کے لئے اپنے دفتر میں بلایا۔ وزراء کی فرمائش تھی کہ آپ لوگ بھوک ہڑتالی کیمپ ختم کریں، تو ہم آپ کا معاملہ حکومت کے پاس اٹھائیں گے۔ تعجب ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ نے احتجاج کرنے والوں سے ’’ گرفتار شدگان‘‘ کی لسٹ طلب کی۔ حالانکہ وزیر داخلہ ہونے کے ناطے انہیں معلوم ہونا چاہئے تھا کہ ان کے صوبے میں اس طرح کے الزامات میں کون کون گرفتار ہے جس کے لئے صوبے میں مسلسل احتجاج ہو رہے ہیں۔ وزراء نے اس لئے بھی احتجاج کرنے والوں سے ملاقات کرنے میں ہرج نہیں سمجھا ۔ ان کے نزدیک اس میں سندھ حکومت فریق نہیں ۔ یہ وفاقی حکومت کا معاملہ ہے۔ دو ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں ۔انہیں ڈر تھا کہ کہیں انتخابی مہم کے دوران اس مطالبہ پر ان کی پکڑ نہ ہو جائے۔ یہی سندھ حکومت ایک درجن سے زائد واقعات میں اپنے ملازمین، اور کاشتکاروں پر اسی مقام پر لاٹھیاں برسا چکی ہے۔ کراچی پریس کلب کے سامنے ہونے والے واقعہ کے رد عمل میں سندھ کے کونے کونے سے اور ہر مکتب فکر کے لوگوں نے بشمول ادیب، دانشور، سیاسی کارکن، سول سوسائٹی، صحافی حیدرآبا د میں منعقدہ احتجاج میں شرکت کی۔ قابل ذکر بات یہ کہ اس احتجاج میں خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوئے۔ اسلام آباد کی یونیورسٹیز میں زیر تعلیم سندھی طلباء نے تین روز تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر بھوک ہڑتال کی،احتجاج کیا۔ سندھ نے جس طرح سے اس واقعہ پر ردعمل دکھایا ، اس سے لگتا ہے کہ سندھ کا اجتماعی شعور صرف انتخابات تک محدودد نہیں۔ یہ درست ہے کہ الیکٹیبلز پارٹی ٹکٹ لینے میں مصروف ہیں۔ لیکن سندھ صرف ان ’’منتخب ہونے کے قابل‘‘ افراد تک محدود نہیں۔

کسی بھی ناانصافی کے خلاف پر امن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، جس کی آئین میں ضمات دی گئی ہے۔ اگر آئین اور قانون کی بالادستی مانی جاتی تو صوبے میں انسانی حقوق کی ابتر صورت حال نہ ہوتی۔ لوگوں کو سڑکوں سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ عوامی مقامات سے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ایک سو افراد لا پتہ ہیں جن کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی۔ اگر کسی پر الزام ہے ، اس کے لئے قانونی راستہ موجود ہے۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی بڑا یا چھوٹا کیوں نہ ہو اس کو اپنی صفائی پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ ویسے پورا ملک احتجاج پروف بنا ہوا ہے۔ عوامی احتجاج کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ جب یہ معاملہ ’’ اشو ‘‘ بن جاتا ہے ، عوامی دباؤ پڑتا ہے تب جا کر حکمران حرکت میں آتے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ لیکن تاثر یہ بن رہا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ اب ریاست لوگوں سے جمہوریت کا انتقام لے رہی ہے۔ یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ احتجاجوں کے لئے ریاستی اداروں کا دہرا رویہ ہے، بعض احتجاجوں کو کئی ہفتوں تک جاری رھنے دیا جاتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں وفاقی دارلحکومت سیل ہو جائے اور ان احتجاجوں کوقبولیت بھی ملتی ہے۔ ایک یہ احتجاج ہیں کہ پرامن کیمپ لگانے پر بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تشدد اور غربت دو ایسے جال ہیں۔ اگر کوئی ملک ان دونوں میں پھنس جائے، تو یہ دونوں عناصر ایک دوسری کو مضبوط کرتے رہے ہیں۔ ہمارا ملک بھی ان دو میں پھنسا ہوا ہے۔ اور ترقی کی طرف نہیں بڑھ رہا ہے۔ خراب حکمرانی انہیں ان دو جالوں سے نکلنے میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ تشدد ہمیشہ غیر انسانی اثرات چھوڑتا ہے۔ ان پر جو کرتے ہیں اور ان پر بھی جن پر کیا جاتا ہے۔ اس کے اثرات سیاسی اور سماجی نظام پر بھی پڑتے ہیں۔

گزشتہ اگست سے سندھ میں سیاسی اغواکی نئی لہر اٹھی۔ گزشتہ ہفتے سول سوسائٹی کے کارکنوں نے تپتی دھوپ میں سندھ بھر میں 72 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کی۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی فورس قائم کرنے کے باوجود نہ ان ادارے نے اور نہ پولیس والے تقریباً ایک سو گمشدگان کے بارے میں مناسب معلومات فراہم کر سکے ہیں۔ جن کا کوئی پتہ ہی نہیں۔ ان کے رشتے داروں کو ان کی صحت اور زندگی کے بارے میں تشویش ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی مہم چلانے والے بھی اس لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ جو رہائی حاصل کر پائے وہ خاموش ہیں۔ ان کی یہ پراسرار خاموشی سے بہت کچھ بتا رہی۔

سندھ میں ہم تاریخ کا باب کس طرح لکھنا چاہ رہے ہیں؟ اگر مثبت لکھنا ہے تو غیر قانونی طور پر نظربندوں کو رہا کیا جانا چاہئے اور جن لوگوں نے ان کو تحویل میں لیا ان سے عدالت میں پوچھا جانا چاہئے۔ انہیں مزید کوئی نقصان نہ پہنچے، ان کے ورثاء کو اس کی یقین دہانی کرائی جانی چاہئے۔ آرمی چیف نے گزشتہ دنوں ایک احتجاج کو ختم کرانے کے لئے طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنے بچوں پر گولی نہیں چلا سکتے۔ اس کا اطلاق سندھ کے احتجاج کرنے والوں پر بھی ہونا چاہئے۔ یہ بھی پاکستان کے بچے ہیں۔


ای پیپر